Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Saturday, September 19, 2026

جدوجہد آزادی اور اردو صحافت

"جدوجہدِ آزادی اور اردو صحافت" عبداللہ، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی، لکھنؤ کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے دوران اردو صحافت کے فکری، سیاسی اور عوامی کردار کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 عبداللہ(ریسرچ اسکالر،لکھنو)

 صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی فکری، سماجی اور سیاسی زندگی کا ایک ناگزیر جزو ہے۔ یہ محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی شعور کی تشکیل، افکار و نظریات کی اشاعت، سماجی اصلاح، سیاسی رہنمائی اور قومی بیداری کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب بھی کسی قوم نے آزادی، انصاف یا بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی، صحافت نے اس تحریک کو سمت دینے، عوام کو باخبر رکھنے اور ظلم و استبداد کے خلاف رائے عامہ ہم وار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کو کسی بھی قوم کا ضمیر اور عوامی احساسات کا ترجمان قرار دیا جاتا ہے۔برصغیر میں صحافت کا آغاز اگرچہ انگریزی اور فارسی اخبارات سے ہوا، لیکن بہت جلد اردو نے بھی عوامی رابطے کی زبان کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت قائم کرلی،اور صحافت کے میدان میں قدم جمالیا۔ چوں کہ اردو مختلف مذہبی اور لسانی طبقات کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھی، اس لیے اخبارات کے لیے بھی یہی زبان زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔اردو صحافت کی باقاعدہ تاریخ 27 مارچ 1822ء سے شروع ہوتی ہے، جب کلکتہ سے "جامِ جہاں نما" جاری ہوا۔ اس کے بانی منشی ہری ہر دت تھے جب کہ اس کی ادارت منشی سدا سکھ لال کے سپرد تھی۔ اس سلسلے میں نادر علی خاں لکھتے ہیں:

"اردو اردو زبان کا پہلا اخبار جامِ جہاں نماہے جو 27 مارچ 1822ء کو کلکتے سے جاری کیا گیا تھا۔ یہ منشی سدا سکھ مرزا پوری کی ادارت میں مطبع مشن پریس میں طبع ہوکر ہری ہر دت کے اہتمام سے شائع ہوا تھا"

(نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ص: 33)

ابتدائی شماروں میں اگرچہ فارسی زبان کا غلبہ تھا، لیکن جلد ہی اردو کو نمایاں حیثیت حاصل ہوگئی۔ اس اخبار نے پہلی مرتبہ ہندوستان میں باقاعدہ خبروں کی اشاعت کی روایت قائم کی اور عوام کو ملکی و بین الاقوامی حالات سے آگاہ کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ اور ساتھ ہی اس نے صحافتی شعور کو فروغ دیا اور بعد کے اردو اخبارات کے لیے ایک مضبوط بنیاد  فراہم کی۔

جامِ جہاں نما کے بعد اردو صحافت تیزی سے ترقی کرنے لگی اور مختلف شہروں سے متعدد اخبارات منظرِ عام پر آنے لگے۔ ان میں دہلی اردو اخبار، صادق الاخبار، سید الاخبار، کوہِ نور، اودھ اخبار، سحر سامری، دبدبۂ سکندری، اخبارِ عالم، اتالیقِ ہند، تسنیم، وکیل اور تاریخ  ِ بغاوتِ ہند جیسے اخبارات نمایاں ہیں۔ ان اخبارات نے ابتدا میں تعلیمی، ادبی، سماجی اور مذہبی موضوعات کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا، لیکن جیسے جیسے برطانوی اقتدار مضبوط ہوتا گیا اور ہندوستانی عوام میں سیاسی بیداری پیدا ہونے لگی، ویسے ویسے اردو صحافت کا مزاج بھی بدلنے لگا۔

انیسویں صدی کے وسط تک دہلی، کلکتہ، لکھنؤ، آگرہ، لاہور، علی گڑھ اور میرٹھ جیسے علمی مراکز سے شائع ہونے والے اردو اخبارات عوامی مسائل، سرکاری پالیسیوں، تعلیمی اصلاحات اور سماجی تبدیلیوں پر مسلسل اظہارِ خیال کر رہے تھے۔ اس طرح اردو صحافت محض خبر رسانی تک محدود نہ رہی بلکہ عوامی رہنمائی اور فکری بیداری کی ذمہ داری بھی اس نے اپنے کندھوں پر لے لی۔ برطانوی حکومت نے بھی جلد ہی صحافت کی اس قوت کو محسوس کرلیا، چنانچہ حکومت پر تنقید کرنے والے اخبارات کو جرمانوں، مقدمات، ضبطیوں اور دیگر قانونی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس کے باوجود اردو صحافیوں نے حق گوئی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مطبوعہ اخبارات کے فروغ سے پہلے ہی اردو میں قلمی اخبارات کا رواج موجود تھا، جو مختلف علاقوں میں سپردِ ڈاک کیے جاتے تھے۔ ان قلمی اخبارات نے عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے اور حکومت مخالف خیالات کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے زمانے میں ان اخبارات کا کردار مزید نمایاں ہوگیا۔ اس سلسلے میں معصوم مرادآبادی لکھتے ہیں:

1857میں انگریزوں کے خلاف جو خبریں اخباروں کی زینت بن رہی تھیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اخبارات انگریزوں کے خلاف جہاد چھیڑنے کے لیے کمر بستہ ہو چکے تھے اور وہ ان کی تباہی و بربادی کی امید پر اپنے قارئین کو متحرک اور سرگرم کرنے کے لیے کوشاں تھے۔"

(معصوم مرادآبادی، اردو صحافت اور جنگِ آزادی 1857، ص: 36)

1857ء کی جنگِ آزادی میں سب سے نمایاں کردار مولوی محمد باقر اور ان کے اخبار "دہلی اردو اخبار" نے ادا کیا۔ یہ اخبار 1836ء میں جاری ہوا اور ابتدا میں اس کا انداز نسبتاً معتدل تھا، لیکن جیسے جیسے سیاسی حالات تبدیل ہوئے، اس نے انگریز حکومت کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کرلیا۔ معصوم مرادآبادی لکھتے ہیں:

"انقلابِ 1857ء کے دوران سب سے زیادہ جری کردار دہلی اردو اخبار نے ادا کیا۔ 10 مئی کو میرٹھ میں بغاوت ہوئی، 11 مئی کو سپاہی دہلی پہنچے اور 17 مئی کو جب دہلی اردو اخبار کا شمارہ منظرِ عام پر آیا تو اس کے صفحات انقلاب کی خبروں سے لبریز تھے۔ صفحۂ اول پر انقلاب کی خبر کا عنوان اور اس کا ابتدائیہ قرآنی آیات سے شروع ہوا تھا۔"

(معصوم مرادآبادی، اردو صحافت اور جنگِ آزادی 1857، ص: 48)

یہی بے باکی مولوی محمد باقر کے لیے جرم بن گئی۔ اسی زمانے میں صادق الاخبار کے مدیر جمیل الدین ہجر کو بغاوت کے الزام میں قید کی سزا دی گئی، جب کہ سید الاخبار بھی مسلسل حکومت کی تنقید کرتا رہا۔ تاہم 1857ء کے اخبارات میں سب سے زیادہ انقلابی حیثیت پیامِ آزادی کو حاصل ہوئی، جو بہادر شاہ ظفر کے پوتے مرزا بیدار بخت کے حکم سے جاری ہوا۔ اس اخبار نے آزادی کی تحریک کو منظم کرنے، عوام میں انقلابی شعور بیدار کرنے اور انگریز حکومت کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ اسی بنا پر برطانوی حکومت نے نہ صرف اس اخبار کو بند کیا بلکہ 

"پیامِ آزادی کے ایڈیٹر مرزا بیدار بخت کے جسم پر سور کی چربی مل کر انہیں پھانسی دے دی گئی۔"

(معصوم مرادآبادی، اردو صحافت اور جنگِ آزادی 1857، ص: 54)

1857ء کی جنگ اگرچہ عسکری اعتبار سے ناکام رہی، لیکن اس نے ہندوستان میں قومی بیداری کی ایسی بنیاد رکھ دی جسے بعد کی نسلوں نے مزید مضبوط کیا۔ اس جدوجہد میں اردو صحافت نے جو فکری اور نظریاتی کردار ادا کیا، اس نے ثابت کردیا کہ آزادی کی تحریک صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی گئی، بلکہ اس کی ایک اہم لڑائی اخبارات کے صفحات پر بھی لڑی جا رہی تھی۔

1857ء کی جنگ  ِ آزادی اگرچہ عسکری اعتبار سے کامیاب نہ ہوسکی، لیکن اس نے ہندوستانی قوم کے ذہن میں آزادی کی ایسی چنگاری روشن کردی جسے برطانوی حکومت سخت ترین پابندیوں، سزاؤں اور جبر کے باوجود بجھا نہ سکی۔ اس ناکامی کے بعد انگریز حکومت نے صرف انقلابی رہنماؤں ہی کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ اس نے اس حقیقت کو بھی بخوبی سمجھ لیا کہ ہندوستان میں آزادی کا جذبہ پیدا کرنے میں اردو صحافت کا کردار نہایت مؤثر ہے۔ اسی لیے 1857ء کے بعد پریس پر سخت نگرانی، اخبارات کی ضبطی، مدیران کی گرفتاریاں، بھاری ضمانتیں اور سنسرشپ برطانوی پالیسی کا مستقل حصہ بن گئیں۔ لیکن ان تمام پابندیوں کے باوجود اردو صحافت نے آزادی کی تحریک کو زندہ رکھنے کا فریضہ پوری جرأت اور استقلال کے ساتھ انجام دیا۔

انیسویں صدی کے آخری عشروں میں اگرچہ بعض اخبارات نے تعلیمی اور سماجی اصلاح کو اپنا موضوع بنایا، لیکن ان کی تحریروں میں قومی خودمختاری اور سیاسی بیداری کا احساس مسلسل نمایاں ہوتا گیا۔ یہی شعور بیسویں صدی کے آغاز تک ایک مضبوط قومی تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ اس دور میں اردو صحافت صرف خبروں کی اشاعت کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ وہ قومی تحریک کی فکری رہنما، سیاسی ترجمان اور عوامی بیداری کا مؤثر وسیلہ بن گئی۔

بیسویں صدی کے آغاز میں اردو صحافت کو ایک ایسی شخصیت ملی جس نے آزادی کے مطالبے کو پہلی مرتبہ بے باکی کے ساتھ صحافت کے ذریعے عوام کے سامنے رکھا۔ یہ شخصیت مولانا حسرت موہانی کی تھی، جنہوں نے 1903ء میں علی گڑھ سے "اردو ئے معلی  " جاری کیا۔ اس رسالے نے ابتدا ہی سے برطانوی حکومت کی استحصالی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور ہندوستان کے لیے مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ بعد کے برسوں میں یہی مطالبہ ہندوستانی قومی تحریک کا بنیادی نصب العین بن گیا۔مولانا حسرت موہانی کی صحافت محض سیاسی تنقید تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں آزادی کا عملی جذبہ بھی نمایاں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ "اردئے معلی  " بارہا ضبط کیا گیا، اس کی ضمانتیں طلب کی گئیں اور کئی مرتبہ اس کی اشاعت روک دی گئی۔ خود مولانا کو بھی متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ انہیں جیل میں چکی پیسنے پر مجبور کیا گیا، لیکن اس اذیت ناک ماحول میں بھی ان کا تخلیقی شعور زندہ رہا اور انھوں نے اپنی کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا:

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

ہے مشقِ سخن جاری، چکی کی مشقت بھی

یہ شعر محض ایک شاعر کے احساسات کا اظہار نہیں بلکہ اس عہد کے صحافیوں کی استقامت اور حوصلے کی علامت بھی ہے، جنھوں نے جسمانی اذیتوں کے باوجود قلم کو خاموش نہیں ہونے دیا۔اسی زمانے میں 1907ء میں الٰہ آباد سے بابو شانتی نرائن بھٹناگر نے ہفت روزہ "سوراجیہ" جاری کیا۔ اس اخبار نے بھی آزادی کے مطالبے کو نہایت بے باکی سے پیش کیا، جس کے نتیجے میں اس کے مدیران کو یکے بعد دیگرے سخت سزائیں دی گئیں۔ خود بھٹناگر صاحب کو قید کی سزا ہوئی، جبکہ ان کے بعد بابو ہری داس، نندگوپال داس اور لدھا رام کو بھی مختلف ادوار میں قید  ِبامشقت اور کالاپانی جیسی سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔اسی سلسلے میں بشن نرائن آزاد کا اخبار "آزاد" بھی آزادی کی تحریک کا مؤثر ترجمان ثابت ہوا۔ اس اخبار نے جنوری 1907ء میں برطانوی جبر کے خلاف جو الفاظ لکھے، وہ اس دور کے انقلابی مزاج کی عکاسی کرتے ہیں:

"گورنمنٹ کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جتنی سختیاں ہم پر کی جائیں گی اتنی ہی نفرت گوروں کے لیے ہمارے دل میں بڑھے گی۔ قومی شہیدوں کے خون کے ایک ایک قطرے سے ہزار ہزارجاں نثار پیدا ہوں گے۔ قید ہمارے لیے فردوس سے کم نہیں۔"

(رسالہ "آزاد"، جنوری 1907ء، بحوالہ: اسد رضا، اردو صحافت 1901ء تا 1947ء، ص:3)

بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں اردو صحافت کو اپنی تاریخ کی سب سے مؤثر اور انقلابی آواز مولانا ابوالکلام آزاد کی صورت میں ملی۔ انھوں نے 13 جولائی 1912ء کو کلکتہ سے ہفت روزہ "الہلال" جاری کیا، جس نے اردو صحافت کے معیار، زبان اور سیاسی فکر کو ایک نئی بلندی عطا کی۔ الہلال صرف ایک اخبار نہیں تھا بلکہ آزادی، خودداری، دینی شعور اور قومی اتحاد کی ایسی تحریک تھا جس نے ہندوستانی مسلمانوں کے ذہن و فکر میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کی۔مولانا آزاد کی نثر اپنی فصاحت، استدلال اور خطیبانہ انداز کے باعث بے حد مؤثر تھی۔ انھوں نے اپنے مضامین میں نہ صرف برطانوی سامراج کی پالیسیوں کو بے نقاب کیا بل کہ مسلمانوں کو غلامی کے خلاف کھڑے ہونے کی دعوت بھی دی۔ یہی وجہ تھی کہ حکومت نے اس اخبار پر مسلسل نظر رکھی، بھاری ضمانتیں طلب کیں، پریس ضبط کیا اور بالآخر الہلال کی اشاعت بند کرا دی۔ تاہم مولانا نے ہمت نہیں ہاری اور جلد ہی "البلاغ" کے  نام سے ایک نیا اخبار جاری کردیا۔ جب البلاغ نے بھی وہی انقلابی روش اختیار کی تو اسے بھی بند کردیا گیا اور خود مولانا آزاد کو نظر بند اور پھر قید کر دیا گیا  لیکن یہ تمام پابندیاں ان کے عزم کو متزلزل نہ  کرسکیں۔

اسی دور میں مولانا محمد علی جوہر کا روزنامہ "ہمدرد" اور انگریزی اخبار "کامریڈ" بھی آزادی کی تحریک کے اہم ترجمان بن کر سامنے آئے۔ مولانا جوہر نے اپنی تحریروں کے ذریعے نوجوان نسل میں سیاسی شعور پیدا کیا اور برطانوی حکومت کی پالیسیوں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے اخبارات نے خلافت تحریک، قومی یکجہتی اور آزادی کی جدوجہد کو مضبوط کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں حکومت نے ان پر بھی مختلف پابندیاں عائد کیں۔

اسی زمانے میں مولانا ظفر علی خاں کا روزنامہ "زمیندار" عوامی مقبولیت کے اعتبار سے اردو کا سب سے طاقتور اخبار بن چکا تھا۔ مولانا ظفر علی خاں اپنی بے باک صحافت، قومی حمیت اور انقلابی شاعری کے باعث عوام میں بے حد مقبول تھے۔ انھوں نے اپنے اداریوں اور مضامین میں برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی، جس کی پاداش میں انہیں متعدد مرتبہ قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔زمیندار پر حکومت کی سختیوں کا اندازہ اس خبر سے ہوتا ہے جو مرادآباد کے اخبار نے شائع کی:

"ملک جس طرح یہ افسوس ناک خبر سن چکا ہے کہ 13،جنوری 1914کو زمیندار پریس گورنمنٹ پنجاب کے حکم سے ضبط کرلیاگیا ہے اوراس کی چار مشینیں، ایک انجن اور کل سامان متعلقہ سرکاری حفاظت میں لے لیاگیا ہے اور اس کی سابقہ دوہزار والی ضمانت کی طرح ستمبر کی دوبارہ مدخلہ دس ہزار کی ضمانت بھی بحق سرکار ضبط ہوئی جس سے تخمیناً تیس پینتیس ہزار کا مالی نقصان بھی غلام قادرخاں مالک پریس کو برداشت کرناپڑا۔ ساتھ ہی زمیندار کی زندگی کا بھی خاتمہ ہوگیا۔"

(مخبر، مرادآباد، 23 جنوری 1914ء)

یہ خبر صرف ایک اخبار کی بندش کی اطلاع نہیں بلکہ اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ برطانوی حکومت اردو صحافت کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوف زدہ ہوچکی تھی۔ اسی زمانے میں مولانا مجید حسن کا اخبار "مدینہ" بھی قومی تحریک کا اہم ترجمان تھا۔ اس اخبار میں اکبر الٰہ آبادی، علامہ اقبال، حسرت موہانی اور دیگر ممتاز اہلِ قلم کی تحریریں شائع ہوتی تھیں۔ حکومت نے اس اخبار کی مقبولیت سے خائف ہوکر اس کے پنجاب میں داخلے پر پابندی بھی عائد کردی، لیکن اس کے باوجود اس کی اشاعت اور اثرات مکمل طور پر ختم نہ کیے جاسکے۔اس دور میں صرف مسلمان صحافی ہی آزادی کی تحریک میں سرگرم نہیں تھے بلکہ متعدد غیر مسلم صحافی بھی اردو صحافت کے ذریعے قومی جدوجہد میں شریک تھے۔ انہی میں مہاشے خوشحال چند خورسند کا اخبار  "ملاپ" خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جو 1923ء میں لاہور سے جاری ہوا۔ اس کے سرورق پر درج یہ اشعار اس کے قومی مزاج کی ترجمانی کرتے تھے:

"ہر ایک شکستہ دل کی ہمت بڑھائے گا یہ

حبِ وطن کے دلکش نغمے سنائے گا یہ"

اخبار کے خدمت کا اعتراف  سمیع احمد یوں کرتے ہیں 

  "ملاپ کے بانی اور اس کے ایڈیٹروں نے ملک کی آزادی کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اور اپنے جاری سے لے کر آج تک ملک و قوم کی فلاح و بہبودی  میں لگا ہوا ہے۔ اس میں کام کرنے والے سب ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ اپنے دل میں رکھتے ہیں اور اس طرح گویا یہ  اس کا اخبار کا مشن ہو  گیا ہے ۔ تحریک آزادی میں ملاپ نے  جی جان کی بازی لگا دی۔"

(سمیع احمد، اردو صحافت اور تحریک آزادی، ص:85)

یہ تمام شواہد اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ بیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں تک اردو صحافت آزادی کی تحریک کا سب سے مؤثر نظریاتی ہتھیار بن چکی تھی۔ برطانوی حکومت کی تمام تر پابندیوں، قید و بند، جرمانوں اور ضبطیوں کے باوجود اردو صحافی نہ صرف اپنے قلم پر قائم رہے بلکہ  انھوں نے آزادی کے تصور کو عوامی شعور کا حصہ بنا دیا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر آگے چل کر قومی تحریک نے مزید وسعت اختیار کی اور اردو صحافت بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں اپنے عروج کو پہنچی۔

بیسویں  صدی کی تیسری دہائی (1921ء تا 1930ء) میں تحریکِ آزادی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ عدم تعاون تحریک، خلافت تحریک اور قومی بیداری کی مختلف تحریکوں نے ہندوستان کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر دیا تھا۔ اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں اردو صحافت نے محض خبروں کی اشاعت تک اپنے آپ کو محدود نہیں رکھا بلکہ قومی تحریک کی فکری رہنمائی اور عوامی تربیت  میں بھی اپنا کردار نبھایا ۔ اس عرصے میں پہلے سے شائع ہونے والے اخبارات کے ساتھ متعدد نئے اخبارات منظرِ عام پر آئے جنھوں نے برطانوی سامراج کے خلاف رائے عامہ ہم وار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔لاہور سے تحریک اور کیسری، کلکتہ سے پیغام، انبالہ سے تنویر، لکھنؤ سے ہمدم اور پشاور سے ہفت روزہ افغان ایسے اخبارات تھے جنھوں نے آزادی کے جذبے کو زندہ رکھنے کی مسلسل کوشش کی۔ اگرچہ ان میں سے بعض اخبارات حکومت کی سخت نگرانی، مقدمات اور سنسرشپ کی نذر ہو گئے، لیکن انھوں نے قومی تحریک کو کم زور نہیں ہونے دیا۔ اسی دور میں کراچی سے روزنامہ آزادی جاری ہوا، جس کے مدیر جے بخاری تھے۔ اس اخبار نے اپنی بے باک قومی پالیسی کے باعث حکومتی عتاب برداشت کیا، تاہم مولانا محمد علی جوہر نے اس کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے آزادی کی تحریک کا مؤثر ترجمان قرار دیا۔

1931ء سے 1940ء کا عشرہ اردو صحافت کے عروج کا دور تھا۔ اسی زمانے میں قومی تحریک مزید منظم ہوئی اور اردو اخبارات نے عوامی رائے عامہ کی تشکیل میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لی۔ دوسری عالمی جنگ کا آغاز یکم ستمبر 1939ء کو ہوا، جس کے بعد ہندوستان کی سیاسی صورتِ حال میں نمایاں تبدیلی آئی۔ برطانوی حکومت نے ہندوستان کو جنگ میں شامل کر لیا، جبکہ ہندوستانی عوام کو اس فیصلے میں شریک نہیں کیا گیا۔ اردو صحافت نے اس صورتِ حال کو برطانوی سامراج پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا اور آزادی کے مطالبے کو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ پیش کیا۔

اس دور میں انقلاب (بمبئی)، اقدام، نقیب اور راج گیر (پٹنہ)، احسان، نوائے وقت اور پشاور (لاہور)، انجام اور مساوات (کلکتہ)، بیسویں صدی اور دیگر اخبارات نے قومی تحریک کو مسلسل تقویت پہنچائی۔ اگرچہ اس زمانے میں بعض اخبارات مختلف سیاسی جماعتوں کے قریب ہوگئے تھے، تاہم اردو صحافت کی مجموعی سمت آزادی، قومی بیداری اور عوامی مفاد ہی رہی۔ الجمعیۃ، انقلاب اور ملاپ جیسے اخبارات نے ہندو مسلم اتحاد، مذہبی رواداری اور مشترکہ قومی جدوجہد کی حمایت جاری رکھی، جبکہ بعض دوسرے اخبارات کانگریس یا مسلم لیگ کے قریب ہونے کے باوجود برطانوی اقتدار کے خاتمے کے حامی رہے۔

1941ء سے 1947ء کا دور تحریکِ آزادی کا فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوا۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی برطانیہ کی سیاسی اور اقتصادی طاقت کمزور ہونے لگی اور ہندوستان میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اس عرصے میں بھی اردو صحافت نے قومی تحریک کی بھرپور حمایت کی اور متعدد نئے اخبارات منظرِ عام پر آئے۔ جے ہند، جنگ، صدائے عام، پربھات، ہمالہ، الہلال اور قومی آواز جیسے اخبارات نے آزادی کی جدوجہد کو نئی توانائی عطا کی۔

1942ء  میں مہاتماگاندھی کی قیادت میں ہندوستان چھوڑو تحریک شروع ہوئی تو اردو صحافت نے اس تحریک کو غیر معمولی اہمیت دی۔ اخبارات نے اداریوں، مضامین اور خبروں کے ذریعے عوام کو آزادی کی اس جدوجہد میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ اس کے جواب میں برطانوی حکومت نے پریس ایمرجنسی ایکٹ نافذکرکے اردو سمیت تمام ہندوستانی زبانوں کے اخبارات پر سخت سنسرشپ عائد کر دی۔ حکومت نے حکم جاری کیا کہ "ہندوستان چھوڑو" تحریک سے متعلق کوئی بھی خبر سرکاری منظوری کے بغیر شائع نہیں کی جائے گی، ورنہ مدیر اور ناشر دونوں کو سخت سزا دی جائے گی۔

یہ سنسرشپ اردو صحافت کے لیے ایک بڑا امتحان تھی، لیکن بیشتر صحافیوں نے حکومتی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ پرتاپ کے مدیر مہاشے کرشن نے احتجاجاً  اخبار کی اشاعت معطل کر دی، جس کے نتیجے میں انہیں اور ان کے بیٹوں نریندر اور ویریندر کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی طرح ملاپ کے مدیر مہاشے خوشحال چند خورسند اور ان کے بیٹے رنبیر کو بھی تحریکِ آزادی کی حمایت کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ یہ واقعات اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ اس دور میں اردو صحافت صرف نظریاتی سطح پر ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی آزادی کی تحریک کا حصہ بن چکی تھی۔

اس زمانے میں یوپی، بہار، پنجاب، سندھ، بمبئی، مدراس، بنگال، دہلی، آسام، اڑیسہ، حیدرآباد، بلوچستان، اجمیر اور دیگر علاقوں سے پانچ سو سے زیادہ اردو اخبارات شائع ہو رہے تھے، جبکہ 1901ء سے 1947ء کے درمیان اردو کے تین ہزار سے زائد اخبارات اور رسائل منظرِ عام پر آئے۔ برطانوی حکومت بھی اردو صحافت کی اس غیر معمولی قوت سے بخوبی واقف تھی۔ اسی لیے محکمۂ اطلاعات میں اردو اخبارات کی نگرانی کے لیے سب سے بڑا شعبہ قائم کیا گیا تھا۔ اردو اخبارات کا تجزیہ کرنے کے لیے الگ افسران مقرر کیے جاتے تھے، کیونکہ حکومت کا خیال تھا کہ اردو صحافت کا اثر عوام پر دوسری ہندوستانی زبانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ درحقیقت یہی حکومتی رویہ اس امر کا اعتراف تھا کہ آزادی کی تحریک کے فروغ میں اردو صحافت کا کردار نہایت مؤثر اور فیصلہ کن بن چکا تھا۔بالآخر مسلسل جدوجہد، عوامی قربانیوں، قومی رہنماؤں کی قیادت اور اردو صحافت کی فکری رہنمائی کے نتیجے میں 15  اگست 1947ء کو ہندوستان برطانوی اقتدار سے آزاد ہو گیا ۔

Abdullah  (Research Scholar)

Department of Urdu, Khwaja Moinuddin Chishti Language University Lucknow, India

Mobile.8934950708 ***

📖 یہ مضمون قادرالکلام ماہنامہ، جلد 1، شمارہ 11، اگست 2026ء میں شامل ہے۔

🌐 https://www.qadirulkalam.com/


No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...