📖 قارئینِ کرام! قادرالکلام ماہنامہ کے خصوصی شمارہ ’’آزادیِ ہند اور اردو ادب‘‘ میں شامل ایک اہم تحقیقی مضمون پیشِ خدمت ہے۔
غلام مرتضی (ریسرچ اسکالر)
(اگرچہ ٹھاکر پونچھی کے ناولوں کا مرکزی موضوع ہندوستان کی تحریکِ آزادی نہیں، تاہم ان کی تخلیقات میں آزادیِ فکر، سماجی شعور، استحصال کے خلاف مزاحمت، انسانی وقار اور معاشرتی تبدیلی جیسے عناصر نمایاں ہیں۔ اسی ادبی اور فکری نسبت کے پیشِ نظر آزادی کے خصوصی شمارے میں ان کی ناول نگاری پر یہ مقالہ شامل کیا جا رہا ہے۔ ادارہ )
ٹھاکر پونچھی کا اصل نام موہن لال تھا۔ اپنے علاقے میں وہ جگن ناتھ ٹھاکر کے نام سے جانے جاتے تھے، تاہم ادبی حلقوں میں انہیں ’’ٹھاکر پونچھی‘‘ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ ٹھاکر پونچھی ضلع پونچھ کے ایک راجپوت خاندان میں 31 دسمبر 1922ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام بیم سنگھ تھا، جن کا شمار پونچھ کے ممتاز کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔ وہ خصوصاً ورزشی کھیلوں، مثلاً پولو اور نیزہ بازی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ اپنی منفرد صلاحیتوں کے باعث وہ جلد ہی عوام و خواص میں مقبول ہو گئے۔ پونچھ کے راجہ جگت دیو سنگھ بھی ان سے خاص انسیت رکھتے تھے اور انہیں اپنی نجی محفلوں میں شرکت کی دعوت دیا کرتے تھے۔
ٹھاکر پونچھی اکثر اپنے والد کے ہمراہ محل میں آیا جایا کرتے تھے۔ بچپن ہی سے شاہی ماحول سے وابستگی کے باعث ان کی تربیت نہایت عمدہ انداز میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی وکٹوریہ جوبلی اسکول سے حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے پرنس آف ویلیز کالج میں داخلہ لیا، جو آج جموں میں گاندھی میموریل کالج کے نام سے معروف ہے۔ اسی ادارے سے انہوں نے بی۔اے کی ڈگری حاصل کی۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد ٹھاکر پونچھی محکمۂ سپلائیز سے وابستہ ہوئے، لیکن اس ملازمت میں انہوں نے اپنے مزاج کے مطابق اطمینان محسوس نہ کیا، لہٰذا اسے ترک کر دیا۔ بعد ازاں انہوں نے آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت اختیار کی، جہاں ڈوگری نیوز سروس میں بطور سب ایڈیٹر اپنی خدمات انجام دیں۔ وہ 1971ء تک آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے۔ بعد میں ان کا تبادلہ جموں ریڈیو اسٹیشن میں ہو گیا۔اگرچہ وہاں بھی ان کی بنیادی ذمہ داری ڈوگری زبان سے متعلق تھی، تاہم انہوں نے اردو ادب کی جانب بھی خصوصی توجہ دی۔ زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے ’’اب میں وہاں نہیں رہتا‘‘ کے عنوان سے ایک ناول تحریر کیا۔ اس ناول کی تکمیل کے صرف دو روز بعد، 16 اگست 1974ء کو، وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔
ٹھاکر پونچھی کی ناول نگاری
ٹھاکر پونچھی نے اگرچہ خطۂ پیر پنچال کی افسانہ نگاری میں ایک منفرد اور نمایاں مقام حاصل کیا، تاہم ان کی ناول نگاری بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کی فنی بصیرت، تخلیقی صلاحیتوں اور ادبی نزاکتوں کا صحیح اندازہ ان کے ناولوں کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ اردو ادب میں اب تک ان کے متعدد ناول منظرِ عام پر آ چکے ہیں، جن میں رات کے گھونگھٹ، شمع ہر رنگ میں جلتی ہے، وادیاں اور ویرانے، زلف کے سر ہونے تک، چاندی کے سائے، جب پتھر روتے ہیں، یہ رشتہ یہ روگ، قفس اداس ہے، ڈیڈی، یہ من بڑا چنچل ہے اور خزاں کی خوشبو خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ٹھاکر پونچھی نہ صرف زبان و بیان پر غیر معمولی دسترس رکھتے تھے بلکہ ناول نگاری کے فن اور اس کی فنی باریکیوں سے بھی بخوبی واقف تھے۔ ان کے ناولوں میں جہاں دیہی زندگی کی حقیقی عکاسی ملتی ہے، وہیں شہری معاشرت کے متنوع اور پیچیدہ پہلو بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کے افسانوں اور ناولوں کے تراجم ہندی، بنگالی، پنجابی، ملیالم اور تیلگو زبانوں میں بھی کیے گئے، جو ان کی ادبی مقبولیت اور وسعتِ اثر کا واضح ثبوت ہیں۔ٹھاکر پونچھی کے ناولوں کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ ان کی تخلیقات میں ایک طرف ترقی پسند رجحانات کارفرما ہیں، تو دوسری طرف ڈوگرہ طرزِ زندگی کی حقیقت آمیز اور جیتی جاگتی تصویریں بھی ملتی ہیں۔ ان کے ناولوں میں نئی اور پرانی اقدار کے درمیان کشمکش، سیاسی، سماجی اور مذہبی استحصال کے خلاف احتجاج، نیز دیہی و شہری ثقافت کے مختلف پہلو نمایاں موضوعات کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہی عناصر ان کی ناول نگاری کو فکری گہرائی اور فنی انفرادیت عطا کرتے ہیں۔
ٹھاکر پونچھی کا انداز بنیادی طور پر رومانی ہے۔ یہاں تک کہ ان کا طرزِ تحریر اور مجموعی ادبی مزاج بھی رومانیت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ان کا اندازِ بیان پاکیزہ، دلکش اور مؤثر ہے، جس کے باعث قاری ان کے ناولوں کی فضا میں مکمل طور پر محو ہو جاتا ہے۔ ٹھاکر پونچھی کے مزاج میں رومانیت اور حقیقت پسندی کا جو حسین امتزاج پایا جاتا ہے، اس نے اردو ناول نگاری میں ایک نئی جہت پیدا کی۔ یہی امتزاج ان کے ناولوں میں فکری گہرائی، سنجیدہ حقیقت نگاری اور مقصدیت کے عناصر کو نمایاں کرتا ہے۔
ٹھاکر پونچھی نے اپنے ناول ’’رات کے گھونگٹ‘‘کے پس منظر میں واضح طور پر تحریر کیا ہے کہ ’’رات کے گھونگٹ‘‘ ان کی چوتھی تصنیف اور تیسرا ناول ہے۔ اس سے قبل ان کی افسانوی تصنیف ’’زندگی کی دوڑ‘‘افسانے اور دو ناول ’’ڈیڈی‘‘ اور ’’وادیاں اور ویرانے‘‘ مختلف اشاعتی اداروں کے ذریعے منظرِ عام پر آ چکے تھے۔ اس وضاحت سے یہ حقیقت بلا شبہ سامنے آتی ہے کہ ’’ڈیڈی‘‘ ٹھاکر پونچھی کا پہلا ناول اور ’’وادیاں اور ویرانے‘‘ان کا دوسرا ناول ہے۔مزید برآں، ان ابتدائی تخلیقات کے بعد ٹھاکر پونچھی کی ادبی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں اور ان کے قلم نے تخلیقی سفر میں کبھی توقف اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے اردو ناول نگاری کو متعدد معیاری اور فنی اعتبار سے اہم ناول عطا کیے، جن کے ذریعے نہ صرف اپنی منفرد ادبی شناخت قائم کی بلکہ خطۂ پیر پنچال کی ادبی روایت کو بھی استحکام بخشا۔ڈاکٹر منصور احمد منصور نے ٹھاکر پونچھی کی ناول نگاری کے بارے میں نہایت جامع اور بامعنی رائے پیش کی ہے،ان کے مطابق:
’’ٹھاکر پونچھی نے متعدد ناول لکھے۔ وہ صحیح معنوں میں ناول کے فنکار ہیں۔ انہیں ناول کے فن پر بھی عبور ہے اور زبان و بیان پر بھی دسترس حاصل ہے۔ وہ انسانی نفسیات کی باریکیوں کو بڑی چابک دستی سے پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔‘‘
ٹھاکر پونچھی محض قصہ گو نہیں بلکہ ایک باصلاحیت ناول نگار تھے جنہوں نے ناول کے فنی تقاضوں کو پوری مہارت کے ساتھ برتا۔ ان کے ناولوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی نفسیاتی تشکیل، زبان کی شگفتگی اور واقعات کی فطری پیش کش نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ انسانی جذبات، احساسات اور نفسیاتی کیفیات کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ کردار زندہ اور حقیقی محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول اردو ناول نگاری میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں اور قارئین پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ٹھاکر پونچھی نے ناول ’’ڈیڈی‘‘میں رومانیت کی نہایت دل آویز تصویر پیش کی ہے، اس حوالے سے درج ذیل اقتباس ملاحظہ کریں:
’’نیرا اس کے قریب کھڑی تھی۔ سر تا پا ایک آوارہ حسن! بکھرے ہوئے بال، خوب صورت معصوم آنکھیں، ہونٹوں کے دل کش کنارے اور نیم گلابی رخسار، جن سے اس کا کھلا ہوا حسن اور کم سن جوانی مزید نکھر گئی تھی۔ چہرے پر ایک دل آویز مسکراہٹ کھیل رہی تھی اور حیا کی ہلکی سی سرخی بھی جھلک رہی تھی۔ پیازی چھینٹ کی پھول دار قمیض، سپید و براق لٹھے کی شلوار اور گردن کے گرد حمائل نیلے رنگ کا ریشمی دوپٹہ اس کی شخصیت کو مزید پُرکشش بنا رہا تھا۔ اس کی پلکیں اور ہونٹوں کے لرزتے ہوئے خم بالکل نوری کے سے تھے۔ وہ اسے کچھ کہہ رہی تھی، مگر وہ محض اسے دیکھے جا رہا تھا۔‘‘
اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ ٹھاکر پونچھی کرداروں کے ظاہری حسن، جذباتی کیفیات اور رومانی فضا کی تشکیل میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔ منظر اور کردار کی جزئیات نگاری کے ذریعے وہ قاری کو ایک ایسی رومان انگیز دنیا میں لے جاتے ہیں جہاں حسن، محبت اور احساسات کی لطافتیں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ٹھاکر پونچھی کے بیشتر ناولوں میں تحیر و تجسس اور رومانیت کے عناصر نہایت موثر انداز میں یکجا نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں رومانوی تصورات محض جذباتی اظہار تک محدود نہیں رہتے بلکہ انسانی زندگی کے گہرے تجربات اور نفسیاتی کیفیات کی ترجمانی کا وسیلہ بن جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں زندگی کے روزمرہ معمولات، انسانی رویوں اور معاشرتی پیچیدگیوں کی باریک ترین جہات کو کرداروں کے ذریعے بڑی فنکاری اور مہارت سے اجاگر کیا ہے۔ٹھاکر پونچھی کی فنی عظمت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ واقعات کی ترتیب، پلاٹ کی تشکیل اور کہانی کی پیشکش میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے ناولوں میں واقعات اس انداز سے آگے بڑھتے ہیں کہ قاری ابتدا سے اختتام تک تجسس اور دلچسپی کے حصار میں رہتا ہے۔ مضبوط پلاٹ، جاندار کردار نگاری اور دلکش بیانیہ ان کے ناولوں کو ادبی اعتبار سے ایک منفرد مقام عطا کرتے ہیں۔ٹھاکر پونچھی کے ناول ’’ڈیڈی ‘‘ سے کردار نگاری اور منظرنگاری کی یہ جھلک ملاحظہ کریں :
’’چندر نے ہنستے ہوئے جواب دیا ابھی تک تو میرے اعضا اپنا توازن اور تواتر ہی کھو چکے تھے۔ لیکن اب شاید تمہارا یہ ماحول ان کا شہرازہ ہی منتشر کر دے۔ ہربندر نے اس بار چندر کی طنزیہ مسکراہٹ کا جواب ایک بلند قہقہے سے دیا۔ اگر تم نے اپنی تخیلی محبت اور تخیلی دنیا نہ چھوڑی تو ہو سکتا ہے ان کا شیرازہ خود بخود ہی بکھر جائے۔ تم سراپا ایک گاؤں کی شکل اختیار کر لو۔ یہ دنیا حقیقت پسند لوگوں کے لیے ہے۔ تمہارے جیسے تخیل پرست شاعروں کے لیے نہیں۔ اور پھر تم نوری کی موت کو نہیں بھولے۔ آج بھی جب تم کسی لڑکی میں نوری کا نقش دیکھتے ہو جذبات کے رو میں بہہ جاتے ہو۔‘‘
ٹھاکر پونچھی نے کردار نگاری کا ذکر کرتے ہوئے دو کرداروں کو آمنے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ہربندر کے طنزیہ اندازِ گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ چندر کی تخیلاتی دنیا اور اس کی جذباتی وابستگیوں کو کمزوری تصور کرتا ہے۔ اس کے نزدیک زندگی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ماضی کی یادوں اور خیالی محبتوں سے نکل کر عملی حقیقتوں کا سامنا کرے۔ اس کے برعکس چندر اپنی رومانوی سوچ اور نوری کی یادوں میں اس قدر گم ہے کہ وہ حال کی حقیقتوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہو پاتا۔ یہی کیفیت اس کے کردار میں ایک جذباتی گہرائی پیدا کرتی ہے۔
مکالمے میں حقیقت اور تخیل کے درمیان کشمکش بھی نمایاں ہے۔ ہربندر عقل، منطق اور عملی زندگی کی علامت ہے، جبکہ چندر جذبات، خوابوں اور یادوں کا نمائندہ ہے۔ دونوں کرداروں کے خیالات کا یہ تصادم ناول کے فکری پہلو کو مضبوط بناتا ہے اور قاری کو انسانی نفسیات کے مختلف رنگوں سے آشنا کرتا ہے۔ٹھاکر پونچھی کی منظر نگاری کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ قاری کو محض مناظر دکھاتے نہیں بلکہ اسے فضا کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ٹھاکر پونچھی اردو ناول نگاری کہ ایک اہم اور باصلاحیت فن کار ہیں۔انہوں نے اپنے ناولوں میںرومانیت،حقیقت نگاری،نفسیاتی تجزیئے اور سماجی شعور کو ایک حسین امتزاج کے ساتھ پیش کیا ہے۔
حوالہ جات:
1۔شیرازہ۔ ’’جموں و کشمیر اردو ادب کے پچاس سال‘‘ ص 180
2۔ٹھاکر پونچھی ناول’’ڈیڈی‘‘ص0 6
3۔ناول ’’ڈیڈی ‘‘ص 75
Ghulam Murtaza
Department Of Urdu University Of Hyderabad
Phone No 9906069036 ,7889791472
Email murtazarahi32@gmail.com
📚 مکمل مضمون پڑھیں، اپنی رائے کا اظہار کریں اور اردو ادب کے تحقیقی و تنقیدی مطالعے کے لیے قادرالکلام ماہنامہ سے جڑے رہیں۔
🌐 ویب سائٹ: www.qadirulkalam.com

No comments:
Post a Comment