Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Saturday, September 26, 2026

نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی تجزیہ

 

اردو افسانے کے اہم فن کار نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی مطالعہ، فہیم خاتون مسرت کے قلم سے۔

  فہیم خاتوں مسرت ۔ناندیڑ ،مہاراشٹرا

  جس وقت تحریکِ آزادی شباب پرتھی اس وقت بمبئی ذریعہ معاش کا اہم مرکزتھا۔ لوگ ملک کے مختلف حصوں سے ہجرت کرکے بمبئی میں داخل ہورہے تھے جس میں ایک بڑا طبقہ ادیبوں کا بھی تھا۔ پریم چند سے لے کر کرشن چندر، منٹو، بیدی، عصمت چغتائی اور خواجہ احمدعباس جیسے اعلیٰ پائے کے ادیبوں نے ممبئی کی ادبی محفل کو رونق بخشی۔یہ شہر اس وقت جدید افسانے کا مرکز تھا۔ جب یہاں کے ادیبوں نے ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کی تو ادبی دنیا میں ایک انقلاب آگیا۔ اس تحریک نے جہاں دبے کچلے افراد کی زندگی اور ان کے مسائل کو موضوع بنایا وہیں ظالموں اور سرمایہ داروں کے ظلم وبربریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ ترقی پسند تحریک کا دوراردو افسانہ نگاری کا عہدزریں کہا جاسکتا ہے۔ اس وقت ہندوستان مختلف مسائل سے دوچار تھا۔ عدم مساوات اور معاشی بحران کا مسئلہ ابھی حل بھی نہیں ہوا تھا کہ ملک کی تقسیم کا سانحہ پیش آیا۔ تقسیم ہند کے سانحے اور اس کے ردعمل کے طور پر رونما ہونے والے فسادات نے لوگوں کو ذہنی کرب میں مبتلا کردیا۔

اس دوران انسانیت کو شرمسارکردینے والے حادثات اور ہجرت کے کرب نے لوگوں کو بے حس بنادیا جس نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو صلب کردیا۔ جہاں ان مسائل کی وجہ سے اردو افسانے کے موضوعات کو وسعت حاصل ہوئی، وہیں موضوعات کی یکسانیت نے اکتاہٹ پیدا کردی، اور مقلدین کی بھرمار نے ادب کو نعرہ بنادیا جس کی وجہ سے اس تحریک کا زور  روز بہ روز  ختم ہوتا چلاگیا۔  ۱۹۶۰ء کے بعداردو افسانے میں تجربات اور ردــوقبول کے دور کا آغاز ہوا۔ ان تجربات نے جہاں اردو افسانے کو مروجہ اسلوب سے باہر نکالا وہیں اردو افسانے کو نئے معنی و مفاہیم بھی عطا کیے۔ جدیدیت کی یہ تحریک ادب کے ساتھ ساتھ اسلوب اور موضوعات میں بھی شعوری طور پر تبدیلی کی خواہش مند تھی۔ چنان چہ اظہار خیال کے لیے  نئے  اسلوب کی تشکیل کا عمل شروع ہوا، اور یہیں سے اسلوب کی سطح پر تجربات کے دور کا آغاز ہوا۔ موضوعات میں انفرادیت اور نئے پن کی جستجو نے انھیں اجتماعی موضوعات سے دورکردیا۔ کبھی افسانے میں کردار کو، کبھی کہانی کو رد کیا گیا۔ افسانہ نگار اپنی بات اشاروں، کنایوں، تشبیہات و استعارات میں بیان کرنے لگا۔ حقیقت نگاری کا اسلوب علامتی اور تمثیلی پیرایہ بیان اختیار کرتا چلاگیا۔ اسی دور میں قاری تلازمہ خیال، خود کلامی، شعور کی روکی تکنیک اور آپ بیتی جیسے اسلوب سے متعارف ہوا۔۱۹۷۰ء کے بعد اردو افسانہ نگاری کا اہم مرکز مہاراشٹر رہا۔

مہاراشٹرا میں پیداہونے والے ماہر افسانہ نگار  نورالحسنین19 مارچ 1950 کو اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ سید نور الحسنین کا تعلق نقش بندی سلسلے کے ایک صوفی خاندان سے ہے۔ ان کا مکمل نام سید نور الحسنین نقش بندی ہے۔ ان کے اجداد تاجکستان کے شہر خُجند سے ہجرت کرکے لاہور پہنچے اور مقام ایمن آباد میں سکونت پذیر ہوئے۔ وہاں انھوں نے خانقاہی نظام قائم کیا۔ ان کے پوتے سید شاہ عنایت الٰہی نے ہجرت کرکے برہان پور پہنچے۔ وہاں سے مہاراشٹر کے علاقے بالا پور پہنچے اور وہاں نقشبندیہ خانقاہ کی بنیاد رکھی۔ ان کے پوتے سید شاہ قمرالدین نقشبندی اورنگ آباد (دکن) پہنچے۔

مشہور شاعر سکندر علی وجدؔ ان کے ننھیالی رشتہ دار تھے اورحمایت علی شاعر ان کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ ایسے ادبی ماحول میں نور الحسنین قلم نہ سنبھالتے تو کیا کرتے۔ ساتویں جماعت سے ان کے ہاتھ میں قلم آگیا تھا۔ میٹرک کے بعد مزاحیہ کالم لکھنے لگے جو مقامی اخبارات میں شائع ہوتے تھے۔ لیکن قلم کار بننے سے پہلے وہ ایک ڈرامہ آرٹسٹ بن چکے تھے۔ وہ اسکول کے ڈراموں میں حصہ لیتے تھے۔ نورالحسین شاعر بننا چاہتے تھے لیکن اردو نثر میں قلم آزمائی کرنے لگے۔ انھوں نے پہلی کہانی بچوں کے لیے  'انسانیت' کے عنوان سے لکھی۔ اس کہانی کی اشاعت سے انھیں خوشی بھی ہوئی اور ڈر بھی لگا۔ ڈر کی وجہ یہ تھی کہ ان کے خاندان میں اسکولی تعلیم سے ہٹ کر بچوں کے اس طرح لکھنے پڑھنے پر پابندی تھی۔ لیکن وہ چوری چوری لکھتے بھی رہے اور چھپتے بھی رہے۔ اگریہ کہا جائے کہ نور الحسنین کو افسانہ نگار بنانے میں ان کے اندر موجود آرٹسٹ کا ہی ہاتھ ہے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔

ساتویں جماعت سے لکھنے لکھانے کا  جو  سلسلہ نور الحسنین نے شروع کیا تھا ،  ان میں پانچ افسانوی مجموعے ہیں، چار ناولیں، تنقید کی پانچ کتابیںاور بچوں کے لیے کہانیوں کے تین مجموعات اور ایک ڈرامے کے بعد بھی مسلسل جاری ہے۔ نورالحسنین ادب کی تخلیق کے عمل میں تجربات کرتے رہتے ہیں۔ وہ چوں کہ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اسٹیج سے جڑے رہے ہیں اس لیے انھوں اپنے افسانوں اور ناولوں میں 'فلیش بیک تکنیک' کے علاوہ  'شعور کی رو'،  'خود کلامی' اور منظری تکنیک کا بھی استعمال کیا ہے۔ تصوف اور عصری مسائل پر مبنی اپنے ناول  'تلک الایام' میں بھی انھوں نے تکنیکی تجربے کیے ہیں۔ وہ عالموں اور صوفیوں کے خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کے بزرگوں کی حیات اور ان کی تعلیمات کا کتابوں اور مختلف تذکروں میں ذکر ہے۔ انھیں کردار بنانے کے لیے نور الحسنین نے  Schizophrenia نامی ایک مرض کا سہارا لیا جس کے مریض کو عجیب عجیب چہرے نظر آتے ہیں۔ وہ ان سے باتیں بھی کرتا ہے۔ وہ ایسے مناظر بھی دیکھتا ہے جہاں وہ کبھی گیا ہی نہیں ہوتا ہے۔

اس مرض کا سہارا لے  کر  ہی وہ یہ اچھوتا ناول لکھنے میں کامیاب ہو سکے۔ نور الحسنین کے  'چاند ہم سے باتیں کرتا ہے' ناول میں فارمیٹ سے بغاوت نظر آتی ہے۔ انھوں نے اس ناول میں کئی کہانیوں کو جوڑنے کی وہی تکنیک استعمال کی ہے جو  'مہابھارت' میں نظر آتی ہے، اس ناول میں ایک کے بعد ایک کئی کہانیاں آتی ہیں لیکن اصل کہانی قائم رہتی ہیں۔ یہ ناول عشق کے موضوع پر ہے، وہ اپنے ناولوں کے لیے بہت ہوم ورک کرتے ہیں۔ موضوع سے متعلق مطالعہ کرتے ہیں۔ نوٹس تیار کرتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر قدیم پینٹنگس کی تلاش کرتے ہیں۔ نقشوں کی مدد لیتے ہیں۔ تاریخ اور جغرافیہ کی کتابیں کھنگالتے ہیں۔ شاید اس لیے کہا جانے لگا کہ نور الحسنین نے ناول نگاری کو بھی ریسر چ ورک بنا دیا ہے۔ ممتاز افسانہ نگار و ناول نگار ڈاکٹر عبد الصمد کا خیال ہے کہ :

’’قرۃ العین حیدر کے بعد نئی نسل میں نورالحسنین ہی ہیں جو ناول کے لکھنے سے پہلے تحقیقی مواد جمع کرتا ہے۔‘‘

نورالحسنین اپنی ادبی زندگی کے بارے میں ایک انٹرویو میں خلاصہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : ’’میری ادب میں انٹری ہی بچوں کے ادب سے ہوئی جب میں خود بچہ تھا۔ اس وقت  بھی لکھتے وقت میں اپنے آپ سے سوال کرتا تھا کہ میری خواہشات کیا ہیں؟ میرے دوست مجھ سے کس قسم کی کہانی سننا پسند کرتے ہیں۔ رہی بات لفظیات کی تو وہ وہی ہوتے تھے جنھیں میں استعمال کرتا تھا۔ عمر کے ساتھ ہی ساتھ میں افسانہ نگاری کی طرف  مائل ہوگیا تھا اور بچوں کے لیے لکھنے کا شوق مجھ سے جدا ہوگیا تھا۔ لیکن قسمت مجھ سے پھر ایک بار یہ کام لینا چاہتی تھی۔ چنانچہ جب میں ریڈیو کی ملازمت میں آیا تو بچوں کے پروگرام کے لیے پھر مجھے بچوں کے لیے کہانیاں لکھنا ضروری ہو گیا۔ اب میں بچوں کی نفسیات، اُن کی شرارتیں، اُن کی پسند کے ساتھ ہی اور بھی بہت سارے موضوعات پر لکھنے لگا تھا، جیسے درخت کیوں ضروری ہیں، بارش کیسے ہوتی ہے، اسکول کا پہلا  دن کیا خوشیاں لاتا ہے۔ والدین کی اطاعت اور فرمابرداری سے خود بچوں کو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ اس کے لیے کچھ فینٹاسی بھی لکھی تاکہ بچوں کا دل بہل سکے۔ میرا خیال ہے ۔  ادب اطفال کی تخلیق کے لیے ان باتوں پر بھی دھیان دیا جائے تو بہت کچچھ لکھا جاسکتا ہے۔بعد میں ان ہی کہانیوں کو ایک جگہ جمع کرکے میں نے ’’گڈو میاں‘‘ چوتھا شہزادہ، اور بچوں کے لیے ڈراموں پر مشتمل ایک کتاب ’’حضور کا اقبال بلند رہے‘‘ شایع کر دیا تھا۔ ان کتابوں کو بچوں نے بے حد پسند کیا۔

(افسانے کا رتقاء ہر لحاظ سے ہوا ہے۔انٹرویو۔ڈاکٹر غضنفر51  2022)

۱۹۸۰ء کے بعد مہاراشٹرا میں لکھے گئے افسانوں میں سلام بن رزاق کا افسانہ’’آخری کنگورہ‘‘، نورالحسنین کا ’’فقط بیان تک‘‘ اور ’’سبزہ نوررستہ کا نوحہ‘‘، مشتاق مومن کا ’’ترنت شور مچائیے اور انعام پائیے‘‘، ساجد رشید کا ’’سونے کے دانت‘‘، انور خان کا ’’حق‘‘، ’نور الحسنین کا ’گڑھی میں اترتی شام‘‘ اور ’’فنکاری‘‘، انورقمر کا’’فضول کاغذات میں ملے تین خط‘‘، احمدعثمانی کا ’’اپنی مٹی‘‘ اور اشتیاق سعید کا افسانہ ’’ہل جوتا‘‘ وغیرہ مہاراشٹر کے نئے افسانوں میں اولیت کے حامل ہیں۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں مہاراشٹر کے افسانہ نگاروں نے موضوعات کی یکسانیت اور مروجہ افسانوی اسلوب کے خلاف آواز بلند کی اور اس کہانی کی تلاش میں سرگرداں ہوگئے جس میں دل کے دھڑکنے کی صدا واضح طور پر سنی جاسکے اور کہانی روح کی تسکین کا ذریعہ بن سکے  جس میں شہری زندگی کے مسائل اور زندگی بسر کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ان کی آرزوئیں اور تمنائیں انگڑائیاں لے رہی ہوں اور معاشرے کے ایک ایک پہلو کو اجاگر کرسکے، جہاں کہانی اسلوب کے پردے میں نہ چھپ جائے۔ اس احساس کے زیر اثر مہاراشٹرکی اردوافسانہ نگاری نے اپنا رخ بدلا جوکہ نہ تو اپنے پیش رو افسانہ نگاروں کے مشابہ تھا اور نہ ہی بالکلیہ جدیدیت کا منحرف جس کے نتیجے میں ایک ایسے افسانے کا چہرہ سامنے آیا جسے ناقدین نے ’’نئے افسانے‘‘ کے نام سے منسوب کیا، جوکہ افسانہ نگاروں کے فطری تقاضوں کو اپنے بھیتر پوری طرح سموئے ہوئے تھا۔ اس دور کے افسانہ نگاروں نے جہاںکہانی پن کے انحراف کو رد کیا، وہیںعلامتی افسانوں کی بامعنویت گیرائی اور گہرائی کوبھی اپنے افسانوں میں جگہ دی۔ اس نئے افسانے کی کامیابی کاسہرا ،انور خان ،شوکت حیات ،سلام بن رزاق حسین الحق، نورالحسنین ،بیگ احساس ،نگار عظیم ،اور انو ر قمر  کے سرہے۔ مگران کے شانہ بشانہ مہاراشٹر کے دوسرے افسانہ نگاروں نے بھی اسے ترقی دینے میں اہم کرداراداکیا۔

آج مہاراشٹر میں اردو افسانے کی یہ مستحکم بنیاد انھیں افسانہ نگاروں کی کوششوں اور کاوشوں کا ثمرہ ہے۔ عصر حاضر کے مہاراشٹرکے افسانہ نگاروں انور خاں شوکت حیات ،میں سلام بن رزاق،حسین الحق ، انورقمر، ساجدرشید، انور خان، نورالحسنین، بیگ احساس ،نگار عظیم ، انور قمر ،حمید سہروردی،مقدرحمید، سید محمداشرف، معین الدین جنابڑے، بلراج مین را، بانوسرتاج،احمد عثمانی، ایم مبین، عارف خورشید، مشتاق مومن، قاضی مشتاق،محمودایوبی، علی امام نقوی، مظہرسلیم، اشتیاق سعید، رحمن عباس، مشتاق رضا، عظیم راہی، م۔ناگ، طارق کولہاپوری، اقبال نیازی اور براق مرزا وغیرہ کا نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے۔ ترقی پسند تحریک نے مہاراشٹر میں جو اردو افسانہ نگاری کا بیج بویا تھا آج وہ توانا درخت بن کر کئی جدید افسانہ نگاروں کے لیے  راحت کا سبب بن گیا ہے ۔نورالحسنین 1980 کے بعد کے افسانہ نگاروں میں ایک اہم نام ہیں۔

وہ پچھلے 40   برسوں سے افسانے لکھ رہے ہیں۔ اب تک ان کے پانچ افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں، پہلا مجموعہ ،سمٹتے دائرے 1985، دوسرا ’’ مور رقص اور تماشائی 1988،تیسرا’’ گڑھی میں اترتی شام 1999،چوتھا ’’ فقط بیان تک 2012،اورپانچواں آخری مجموعہ ‘’’بھور بھئی جاگو‘‘  وغیرہ ہیں۔ ان کے افسانے نہ ترقی پسندی کا پروپیگنڈہ ہیں نہ ہی جدیدیت کے مہر زدہ ہیں۔ نورالحسنین کہتے ہیں، جنسیات انسانی زندگی میں اتنی ہی ہے جتنا کھانے میں نمک۔ اس لیے ان کے افسانوں میں جنسیات کا دخل بہت کم ہے۔ تہذیب و اخلاق کا زوال اور ماضی کی بازیافت ان کے پسندیدہ موضوعات معلوم ہوتے ہیں۔ گڑھی میں اترتی شام، کلمہ گو، پیتل کی چھئیاں، بیساکھیوں پر کھڑے لوگ، بھور بھئی جاگو، ایک اداس شام وغیرہ ان کے نمائندہ افسانے ہیں۔

افسانہ ’’ایک اداس شام‘‘ آنکھوں کے سامنے ابھرتے ماضی کے جھلملاتے اور آپ ہی تحلیل ہوتے خوش گوار مناظر اور یادوں کے سہارے آگے بڑھتی کہانی ہے۔ کہانی دھیرے دھیرے قاری کو یوں جکڑ لیتی ہے کہ اسے یہ اپنی کہانی معلوم ہوتی ہے۔ اخلاص و محبت میں ڈوبا ہوا ایک ہنستا کھیلتا مخلوط خاندان جہاں امی،ابا، چچی اور دادی منوں میاں کو منانے میں لگے ہیں۔ بعد میں منوں میاں کی پسند کی شادی ہوئی اور چولہے الگ ہوگئے، گھر کا بٹوارا  ہوا  اور ساری خوشیاں وقت کی چکی میں پس کر ریزہ ریزہ ہو گئیں۔۔  اب ناراض منوں میاں کو منانے والی کوئی آواز کانوں تک نہیں آرہی ہے۔

پہلے لوگ اپنے بزرگوں کے فرماں بردار ہوا کرتے تھے۔ نہ لڑکے کو لڑکی دکھائی جاتی تھی اور ناہی لڑکی کو لڑکا۔ وہ کہاں اپنے پسند کی شادیاں کرتے تھے پھر بھی اللہ نے ان کے رشتوں میں وہ تاثر رکھی تھی کہ ایک ان دیکھے ساتھی کی محبت میں پوری زندگی گزار دیا کرتے تھے۔ آج کل تو بات بات پر سیز فائر کا معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔

’کل شام بیوی سے ان بن ہوگئی تھی۔ تب سے تنہا بھوکا پیاسا پلنگ پر اوندھا منہ پڑا ہوں۔ منانے والی کوئی آواز میرے کانوں تک نہیں پہنچ رہی ہے کیوں کہ مقابل کے کمرے میں ناراض بیوی اور بچے ٹی وی دیکھ رہے ہیں اور میں انتظار کر رہا ہوں کہ کوئی چپکے سے آکر مجھے منا لے۔۔۔۔۔‘‘

ایک عمدہ و  دل خراش کہانی۔ یہ نورالحسین کے قلم کی سحر البیانی ہے کہ جس نے منوں میاں کے ذہن کی اسکرین پر بنتے ماضی کے دائروں سے بچپن کی سیر کرادی ہے۔ اس کہانی میں نورالحسنین نے فلیش بیک کے واقعات کو اسکرین پلے کی تکنیک میں ڈھالا ہیں۔ اس لیے کہانی کا ہر منظر ایک اکائی ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے مربوط ہے۔

افسانہ ’’کلمہ گو‘‘ دکنی ماحول و فضا میں سانس لیتا ہے۔ جس میں کرداروں کی زبان اپنے ماحول اور علاقے کی ترجمان ہے۔ یہ ایک ابو دادا نامی غنڈے کی کہانی ہے۔ جس میں خامیوں کے ساتھ ساتھ چند خوبیاں بھی جمع ہو گئی ہیں۔ اس کا اصل کاروبار سود کا ہے اور حسن اس کی کم زوری ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ رحم دل بھی ہے۔ غریبوں کی مدد بھی کرتا ہے۔ اور جمعہ کے دن کوئی برا کام نہیں کرتا۔ ایک انگریز طالبہ ماریا برونٹ ابودادا سے سود پر پانچ ہزار روپئے لیتی ہے۔ ابودادا  اس کے حسن کا دیوانہ ہے۔ پیسے ادا نہ کر پانے کی صورت میں ایک دن ماریا پیسوں کے عوض اپنے آپ کو یہ کہتے ہوئے ابودادا کے سامنے پیش کرتی ہے ’’ہم انگریز کمیونٹی کبھی کسی کا احسان نہیں رکھتا۔‘‘ تب ابودادا کا ایمان بھی جوش مارنے لگتا ہے اور وہ کہتا ہے ’’ماریا ہم مسلمان ہیں۔۔۔۔ کلمہ گو۔۔۔۔ کس چیز کی کیا قیمت ہوتی ہے۔ وہ ہم بھی جانتا ہے۔۔۔۔‘‘

افسانہ ’’بھور بھئی جاگو‘‘ کی شوٹنگ نورالحسین نے ریاست کیرالہ کے دیہات اندلور سے شروع کیں۔ اس کے بعد منگلور، کریم نگر، ایلورا  ہوتے ہوئے واپس اندور پہنچ گئے۔ ہر مقام کے لحاظ سے منظر نگاری اور زبان و بیان کا انھوں نے پورا خیال رکھا ہے۔ کنجوپائتما (فاطمہ)، احمد علی اور کنجوپائتما کے والد افسانے کے اہم کردار ہیں۔ کنجوپائتما ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے جو کیرالہ کے ایک دیہات اندلور سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ ماں کی ممتا سے محروم ہے۔ اس کے والد حکیم و عامل ہیں۔ افسانے کا دوسرا اہم کردار احمد علی آثار قدیمہ کا ملازم ہے۔ جو پہلی نظر میں ہی کنجوپائتما پر عاشق ہو جاتا ہے۔ افسانے میں شعور کی رو سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ کہانی کی شروعات رومانی انداز سے ہوتی ہے۔ اور اختتام مسلمانوں کے 73 فرقے ایک ہوجانے کی خواہش پر ہوتا ہے۔  نورالحسین مسلمانوں کے 73   فرقوں سے، مسلکی جھگڑوں سے اور اسلامی تہذیب و تمدن کے مٹتے ہوئے نقوش سے دکھی ہیں۔ وہ اسلام کے شان دار ماضی کی بازیافت چاہتے ہیں۔ ان کی افسانہ نگاری ایک بامقصد افسانہ نگاری ہے لیکن ان کا مقصد فن پر حاوی نہیں ہوتا ہے۔

’’گڑھی میں اترتی شام‘‘ 1948 کے پولیس ایکشن کے بعد حیدرآباد کے ماحول میں لکھا گیا افسانہ ہے۔ پولس ایکشن سے قبل شیروں کا شکار کرنے والے کریم الدین کہانی کے مرکزی کردار ہیں۔ وہ تیتر باز ہیں۔ اور تیتروں کا شوق انھیں اس وقت ہوا جب پولس ایکشن میں ان کی بندوق چھین لی گئی تھی۔ کریم الدین کے علاوہ زمیندار فاطمہ خالہ، زمیندار کا پوتا خورشید، نائی کاشی ناتھ اور بوڑھا گھسٹری افسانے کے جیتے جاگتے کردار ہیں۔

’’پیپل کی چھئیاں ‘‘مہاراشٹر کے ایک نہایت سخت گیر مذہبی برہمن خاندان کی کہانی ہے۔ جس میں مذہب کے غلط تصورات کے خلاف احتجاج و کشمکش افسانے کا نقطہ عروج ہے۔ پنڈت روی شاستری، ان کے دو بیٹے’’ وجے شاستری ‘‘اور ’’اجے شاستری ‘‘افسانے کے اہم کردار ہیں۔ جس میں وجے شاستری کٹر مذہبی روایات اور اندھے عقائد کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ افسانے میں پیپل کی کونپل کو اکھاڑ پھینکنا اندھے عقائد ماننے سے انکار کرنے کی طرف اشارہ ہے۔

افسانہ ’’بیساکھیوں کے پر کھڑے لوگ‘‘ میں جذباتی و نفسیاتی الجھنوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ افسانہ مادی خوش حالی اور روشن مستقبل کے لیے بچوں کو بیرون ملک بھیج دینا اور پھر ان گنت یادوں کے سہارے زندگی کے مشکل دن گزارنے والے لوگوں کی کہانی ہے۔ جس میں زندگی گھڑی کے پنڈولم میں قید ہو کر رہ گئی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار حیدر ہے  جس کے جذبات و احساسات پورے افسانے پر چھائے ہوئے ہیں۔ بہترین طرزبیان اور فلسفیانہ رنگ نے افسانے کو شہکار بنا دیا ہے۔آئیے اب دیکھتے ہیں نورالحسین کا فن اہل ادب کی نظر میں۔

ڈاکٹر قمر رئیس نورالحسنین کے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔ 

’’آپ کے فنی روئیے میں خاصی تازگی اور تہہ داری ہے، اور بڑی بات یہ ہے  کہ آپ ہم عصر زندگی کے جلتے ہوئے مسائل سے منحرف نہیں ہیں۔‘‘

جیلانی بانو، حیدرآباد نورالحسنین کے بارے میں لکھتی ہیں: ’’ آپ کے ہاں کہانی سنانے کا جو انداز ہے۔ وہ افسانے کے موضوع کی اہمیت بھی بڑھا دیتا ہے‘‘۔

نیر مسعودنورالحسنین کے بارے میں لکھتے ہیں۔  ’’ آپ کو کہانی بیان کرنے کا سلیقہ ہے۔‘‘ سلام بن رزاق، ممبئی سے نورالحسنین کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ ماضی کی بازیافت نورالحسین کے پسندیدہ موضوعات میں سے ہے۔‘‘بشر نواز، اورنگ آبادسے نورالحسنین کے بارے میں لکھتے ہیں:۔’’ اس کے ہاں کہانی بنتی ہے۔‘‘

شوکت حیات، پٹنہ۔نورالحسنین کے بارے میں لکھتے ہیں:  ’’1970 کے بعد جدید افسانوں میں جن مثبت تبدیلیوں کی باتیں میں کرتا ہوں ان کی جھلکیاں آپ کی بعض کہانیوں میں ملتی ہیں‘‘۔

ڈاکٹر ارتضیٰ کریم، نورالحسنین کے بارے میں لکھتے ہیں:’’ نورالحسین کا فن روشن امکانات کا حامل ہے۔ ان کے یہاں موضوعات میں  تنوع اور مشاہدے کا عام فہم زبان میں اظہار ہے‘‘۔

نورالحسین کے افسانوں کے پلاٹ مربوط ہوتے ہیں۔ اور واقعات میں ترتیب ہوتی ہیں۔ وہ کہانی میں ماحول کی ہوبہو تصویر کھینچتے ہیں۔ افسانے کے موضوع کی مناسبت سے اسلوب کا انتخاب کرتے ہیں۔ افسانے میں اپنے نقطہ نظر کو زیادہ نمایاں ہونے نہیں دیتے۔ آخر میں کوئی فیصلہ نہیں سناتے۔  سب کچھ قاری پر چھوڑ دیتے ہیں۔ کرداروں کو بڑی محنت سے گڑھتے ہیں۔ وہ اپنے افسانوں کے لیے ایک ماحول منتخب کرتے ہیں۔ پھر اس ماحول میں ان کرداروں کو بساتے ہیں۔ انھیں زندگی عطا کرتے ہیں۔ اور ماحول کے عین مطابق انھیں زبان عطا کرتے ہیں۔ ان کے کردار ملی جلی کیفیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جن میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیاں بھی ہوتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں ایک تاثر ہوتا ہے جو قاری کے دل مسحور کرلیتا ہے ۔ 

راجندر سنگھ بیدی کی افسانہ نگاری کی طرح نورالحسین بھی دھیمے لہجے سے افسانے کی شروعات کرتے ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے کشمکش اور اضطراب سر اٹھاتے ہیں اور ایک تجسّس پیدا کردیتے ہیں۔

بقول آل احمد سرور: ’’راجندر سنگھ بیدی اینٹ پر اینٹ رکھ کر افسانہ تعمیر کرتے ہیں۔ ان کا ہر افسانہ تراشا ہوا ہیرا ہے۔‘‘

 اور بہ قول کنہیا لال کپور ’’راجندر سنگھ بیدی تھیم کا بادشاہ ہے۔‘‘ بس یہ دونوں قول مجھے نورالحسین کی افسانہ نگاری پر صادق نظر آتے ہیں۔ 

ان کے افسانوں کے پلاٹ دیہی اور شہری حدود سے نکل کر بین الاقوامی سرحدوں تک کو عبور کر گئے۔ گڑھی میں اترتی شام زوال حیدر آباد کے بعد ایک دیہات کے ایک زمین دار کی کہانی ہے۔ افسانہ  'کلمہ گو' کا پس منظر حیدر آباد دکن ہے۔ افسانہ  'پیپل کی چھائیاں' شہر پونا سے تعلق رکھتا ہے۔ افسانہ  'یہ  تیرے پُراسرار بندے' کا Scenario ممبئی شہر کا ہے۔  'یہ عشق نہیں آساں' کا شہر اورنگ آباد ہے۔ افسانہ  ' بھور بھئی جاگو' میں ریاست کیرالہ کا ایک مقام اندلور ہے۔ افسانہ  'سبز نو رستہ کا نوحہ' کا مرکزی کردار حیدر آباد کا ہے جو کراچی پہنچ کر مہاجر بن جاتا ہے۔ افسانہ  'آخری  'اسٹوری' عراق کے زوال کے پس منظر میں ہے اور افسانہ ' بسلامت روی و باز آئی' افغانستان کے اطراف گردش کرتا ہے۔ نور الحسنین کے تحت الشعور میں کربلا بھی بسی ہوئی ہے۔ ان کے افسانے  'سبزنو رستہ کا نوحہ'   میں کربلائی منظر نامہ ہے۔ افسانے کا کردار اپنے گھر اور محبوبہ سکینہ کو چھوڑ کر پاکستان ہجرت کر جاتا ہے۔ پچاس برس کے بعد جب وہ واپس آتا ہے تو دیکھتا ہے کہ جہاں اس کا گھر تھا، وہاں ایک بلڈنگ کھڑی ہے۔ اس کے قریب عاشور خانہ ہے جہاں محرم کی مجلس ہو رہی ہے۔ افسانے کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے کہ واقعہ کربلا کس طرح کسی کا ذاتی غم بن جاتا ہے :’’میرے کانوں میں آوازیں گونج رہی تھیں، ' ہائے امام ِ مظلوم آپ کے عزیز اور چہیتے باقی نہ رہے، ہائے امامِ مظلوم آپ سے آپ کا مدینہ چھوٹ گیا، ہائے امامِ مظلوم آپ کی سکینہ بے سہارا ہو گئی، ہائے امامِ مظلوم آپ کا سب کچھ چھوٹ گیا، ہائے امامِ مظلوم آپ کس کس پر صبر کریں گے؟ میں غم سے نڈھال بہت دیر تک سکتے کی حالت میں ڈوبا رہا اور پھر بوجھل قدموں سے چلتا ہوا جیسے ہی امام باڑے میں داخل ہوا، وہاں ماتم اپنے نقطہ عروج پر تھا۔ سینے پر پڑنے والی ہر ضرب اور منہ سے نکلنے والی ہر آواز  'تشنہ شد یا حسین' راست میرے دل پر بجلی بن کر گر رہی تھی۔ ماتم داروں میں بھی شامل ہو گیا۔ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات ہو رہی تھی اور میری زبان سے پورے کرب کے ساتھ آوازیں نکل رہی تھیں 'ہائے تشنہ شد یا حسین  ۔ ' ہائے تشنہ شد یاحسین '  ہائے تشنہ شد یا حسین ( سبزنو رستہ کا نوحہ از نورالحسنین)

ان کے افسانوں کے پانچ مجموعے  'سمٹتے دائرے'، 'مور رقص اور تماشائی'، 'گڑھی میں اترتی شام'، 'فقط بیان تک' اور  'بھور بھئی جاگو‘۔ چار ناول 'اہنکار'،  'ایوانوں کے خوابیدہ چراغ'، 'چاند ہم سے باتیں کرتا ہے' اور  'تلک الایام' کے علاوہ تنقیدی کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ 1980  کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگاروں پر مضامین کے مجموعے  'نیا افسانہ۔ نئے نام' کی دو جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔نورالحسنین کی افسانہ نگاری ذکر کرتے ہوئے عصمت جاوید ایک جگہ پر لکھتے ہیں :

’’افسانے کی دنیا میں نورالحسین  کا نام بالکل نیا ہے ۔’’ بساط ہو ائے دل ‘‘پر وہ ابھی تازہ وارد ہیں ۔وہ مہاراشٹرا کی مشہور ادبی خطے مراٹواٹھواڑے میں ریڈیو آرٹسٹ کی حیثیت سے اور اسٹیج پر بھی اپنی صلاحیتوں کا سامعین اور  ناظرین سے اپنا لوہا منوا چکے ہیں ۔‘‘ ( افسانوی مجموعہ ’’سمٹے دائرے،نورالحسین ۔ پیش لفظ ۔عصمت جاوید ص ۸)۔

اس مجموعے کا پہلا افسانہ ہی قاری کے دل کو متاثر کر دیتا ہے جس کے بعد سے افسانہ نگار کی ساری گرہیں کھلتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں ۔عہد جدید کی مشہور و معروف شخصیتوں میں اہم نام نورالحسنین کا لیا جاتا ہے ان کی افسانہ نگاری کے تعلق سے عصمت جاوید لکھتے ہیں کہ:’’پریم چند کے اردو افسانے نے مختلف جہتوں میں سفر کیا ہے ۔منٹو کی فنکارانہ  جنس پرستی سے لے کر علامتی اور تجریدی افسانوں کے کچھ انتہائی معنی خیز اور کثرلایعنی فنی تجربوں تک اس نے ہزار رنگ اختیار کیے ہیں ۔نورالحسنین کے افسانوں میں بھی اس بت ہزار شیوہ کی ایک انوکھی ادا کی ہلکی سی جھلک دیکھی جا سکتی ہے‘‘( افسانوی مجموعہ ’’سمٹے دائرے،نورالحسین ۔ پیش لفظ ۔عصمت جاوید ص ۸)۔

’’سمٹے دائرے کے تمام افسانے تخیلی علامتی  نہیں ہیں ’’ واپسی ‘‘ کا پروفیسر ایک مثالی کردار ہے ’’مٹی ‘‘ کا بنیادی موضوع دہی ہے ۔لیکن انداز پیشکش نے اسے بالکل جدا گانہ روپ دیدیا ہے بچے کا بار بار منھ میں ڈھیلا رکھنا عموہ علامتی ٹچ ہے ۔

اس مجموعے میں کچھ افسانے ایسے ہیں جو آ  پ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیں گے ۔عصمت جاوید لکھتے ہیں :’ نور الحسنین کے افسانوں میں ایک خاص بات مجھے یہ نظر آتی ہے کہ وہ پامال موضوعات سے گریز کرتے ہیں ۔وہ اسی وقت قلم اٹھاتے ہیں جب وہ کسی  انوکھے تجربے سے گزرتے ہیں ۔اور اسے انوکھے انداز میں پیش کرتے ہیں ۔یہی چیز انھیں عام رومانوی افسانہ نگاروں سے منفرد کرتی ہے ان کا اسلوب بیجا مرصع کاری اور ضرورت سے زیادہ سادہ بیانی ،دونوں عیوب سے پاک ہے ۔‘‘

( افسانوی مجموعہ ’’سمٹے دائرے،نورالحسین ۔ پیش لفظ ۔عصمت جاوید ص ۹)۔

سورج سوا نیزے پر ‘‘اس افسانے میں نورالحسنین کی مکالمہ نگاری عروض پر نظر آتی ہے ۔فضا بندی اور تخیل سازی کی کامیاب کوشش ہے اور مخصوص تقلیبی اور معکوسی تکنیک کی عمدہ مثال ہے ۔یہی تخیل سازی اور خیالی ماحول در پردہ آثار کی روشنی میں ’’ آخری اسٹوری ‘‘کا قابل ذکر بناتا ہے ۔اور سر دار کا کردار قدر کی جبر میں تبدیلی کردیتا ہے ۔اور اس  میں تو کوئی شبہ نہیں کہ نورالحسنین مکالمہ لکھنا عمدہ طریقے سے جانتے ہیں جانتے ہیں۔جاوید ناصر ان کی افسانہ نگاری کے بارے میں لکھتے ہیں :’’نورالحسنین کی تقلیبی اور معکوسی تکنیک ’’ شہر خموشاں کا نقیب ‘‘کو بھی قابل مطالعہ بناتی ہے ۔گورکن کے وجود کو نفرتوں سے ،ذلتوں سے ،غلاظتوں سے چھڑا کر ایک  قابل رحم لائق مطالعہ کرنے میں تبدیل کردیتی ہے ۔رہا بافت کا مسئلہ تو وہ چست  ہے اور زبان واحد متکلم ہو کر کرداروںکا ساتھ دیتی ہے ،یہی چیز کی نورالحسین کی شناخت بنتی ہے ۔کہانی کا غائب کردار اپنے انجام کے تعاقب میں ہے  لیکن کہانی اپنے اختتامیہ میں بر عکس صورت حال کو پیش کرتی ہے ۔جس کہانی سے سب سے زیادہ مجھے متائثر کیا ہے وہ ہے گھڑہی میں اتری شام ‘‘(افسانوی مجموعہ گڑھی میں اتری شام ۔پیش لفظ ناصر جاوید۔ص ۹)

نورالحسنین کے افسانوں میں کہیں نہ کہیں مقامیت  ،  علاقائیت اور ارضیت کی مثال ضرور ملتی ہے۔جو اپنے آپ میں آفاقی ہیں ۔ان کی مکالمے نگاری اپنے مناسب سمتوں میں رواں دواں ہے ۔اکثر مکالمے کردار کی مناسبت سے ہوا کرتے ہیں ۔ان لکے افسانوں میں کہانی بھی ہے ،تام جھام ہے ،چہل پہل ہے،سرگوشیاں بھی ہیں ،شور بھی ہے سناٹے بھی ہیں نید بھی ہے اور بیداری بھی ہے ایسا لگتا ہے کہ ایک آباد دنیا کی آباد کہانیاں ہیں ۔یہ وہ خوصیات ہیں جس کی بنیاد پر نورالحسین اپنے معاصر افسانہ نگاروں میں منفرد مقام رکھتے ہیں ۔


حواشی ۔

(افسانے کا رتقاء ہر لحاظ سے ہوا ہے۔انٹرویو۔ڈاکٹر غضنفر 51  2022)

(سبزنو رستہ کا نوحہ۔از نورالحسنین )

( افسانوی مجموعہ ’’سمٹے دائرے،نورالحسین ۔ پیش لفظ ۔عصمت جاوید ص ۸)۔

( افسانوی مجموعہ ’’سمٹے دائرے،نورالحسین ۔ پیش لفظ ۔عصمت جاوید ص ۸)۔

(افسانوی مجموعہ گڑھی میں اتری شام ۔پیش لفظ ناصر جاوید۔ص ۹)

***

ایسے ہی تحقیقی، تنقیدی اور ادبی مضامین کے مطالعے کے لیے قادرالکلام ماہنامہ سے جڑے رہیے اور تازہ شمارہ ملاحظہ کیجیے۔

قادرالکلام ماہنامہ — اردو ادب، تحقیق اور تنقید کا معتبر پلیٹ فارم۔


No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...