Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Monday, September 21, 2026

تحریک آزادی میں خواتین کا کردار ۔۔۔ عزم، قربانی اور حریت کی ناقابل فراموش داستان


"تحریکِ آزادی میں خواتین کا کردار"
ثناء الرحمن، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، لکھنؤ یونیورسٹی کا تحقیقی مضمون ہے، جس میں ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں خواتین کی جدوجہد، قربانیوں اور قومی خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ 
 ثنا ءرحمن
 (ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو لکھنو یونیورسٹی)

تاریخ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے، ظلم کے اندھیروں سے نکلنے اور آزادی کی روشن صبح کا استقبال کرنے کا عزم کیا، اس جدوجہد میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، بے مثال قربانیوں اور ناقابل فراموش خدمات کے ذریعے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اگرچہ تاریخ کی بیشتر کتابوں میں مرد مجاہدین، سپہ سالاروں اور سیاسی رہنماؤں کا تذکرہ نسبتاً زیادہ ملتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قومی تحریک کی کامیابی میں خواتین کی شرکت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ برصغیر کی خواتین نے اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے، سماجی پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے اور ہر قسم کے خطرات کو قبول کرتے ہوئے آزادی کی اس جدوجہد میں ایسا کردار ادا کیا جسے فراموش کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

تحریک آزادی محض سیاسی اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی قومی بیداری، فکری انقلاب اور تہذیبی خودمختاری کی جدوجہد تھی جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس جدوجہد میں خواتین نے صرف جلسوں، جلوسوں یا احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ ہی نہیں لیا بلکہ قومی شعور پیدا کرنے، نئی نسل کی ذہنی تربیت، مالی تعاون، خفیہ اطلاعات کی ترسیل، انقلابی کارکنوں کی پناہ گاہیں فراہم کرنے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور بعض مواقع پر میدانِ جنگ میں عملی قیادت کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ آزادی کی قیمت صرف مردوں نے نہیں بلکہ خواتین نے بھی اپنے لہو، آنسوؤں اور قربانیوں سے ادا کی ہے۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں آزادی کی جدوجہد کسی ایک دن یا ایک واقعے سے شروع نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک طویل سفر تھا جس میں مختلف ادوار، مختلف تحریکیں اور مختلف قیادتیں سامنے آئیں۔۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی سے لےکر۱۹۴۷ء میں آزادی کے حصول تک متعدد ایسے مواقع آئے جب خواتین نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔ بعض خواتین نے میدان جنگ میں تلوار سنبھالی، بعض نے قلم کو اپنا ہتھیار بنایا، کچھ نے قوم کے ضمیر کو بیدار کیا، کچھ نے اپنی دولت آزادی کی تحریک پر نچھاور کردی، جبکہ بہت سی ایسی خواتین بھی تھیں جن کے نام تاریخ کے اوراق میں نمایاں نہیں ہوسکے مگر ان کی قربانیاں آزادی کے سفر کا لازمی حصہ تھیں۔

تحریک آزادی میں خواتین کی شرکت کو صرف سیاسی سرگرمیوں تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ دراصل انہوں نے سب سے پہلے گھروں کو آزادی کی تربیت گاہ بنایا۔ انہوں نے اپنے بچوں کے دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کیا، شوہروں اور بھائیوں کو حق و انصاف کی راہ پراستقامت کا درس دیا اور خاندان کے ہر فرد میں غلامی کے خلاف نفرت پیدا کی۔ یہی وہ خاموش مگر مضبوط بنیاد تھی جس پر آزادی کی پوری عمارت قائم ہوئی۔ اگر گھروں میں آزادی کا شعور پیدا نہ ہوتا تو میدانوں میں آزادی کے نعرے بھی اتنے مؤثر ثابت نہ ہوتے۔

ملکی معاشرے میں خواتین کو طویل عرصے تک سماجی پابندیوں، تعلیمی محرومیوں اور محدود مواقع کا سامنا رہا، مگر اس کے باوجود جب وطن کی آزادی کا سوال سامنے آیا تو انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ یہ امر اس بات کی دلیل ہے کہ کسی بھی معاشرے میں خواتین کو اگرموقع اور مقصد مل جائے تو وہ قوم کی تعمیر و ترقی میں مردوں کے شانہ بشانہ بلکہ بعض مواقع پر ان سے بڑھ کر کردار ادا کرسکتی ہیں۔ تحریک آزادی اس حقیقت کا سب سے روشن ثبوت ہے۔۱۸۶۷ء کی جنگ آزادی ملک کی تاریخ کا وہ فیصلہ کن موڑ تھا جس نے انگریز اقتدار کے خلاف پہلی منظم مزاحمت کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ اس جنگ کی قیادت میں متعدد مرد رہنما نمایاں تھے، لیکن خواتین کی شجاعت نے بھی اس جدوجہد کو نئی توانائی عطا کی۔ سب سے نمایاں نام جھانسی کی ملکہ رانی لکشمی بائی کا ہے، جنہوں نے اپنے وطن، اپنی ریاست اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے بے مثال جرأت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے صرف سیاسی قیادت ہی نہیں کی بلکہ خود میدان جنگ میں اتر کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ ان کی بہادری نے ہندوستان کے عوام کے دلوں میں آزادی کی ایسی چنگاری روشن کی جو بعد کے عشروں تک بجھ نہ سکی۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا استعارہ بن گئی کہ آزادی کی حفاظت کے لیے صنفی امتیاز کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اصل چیز جذبۂ حریت اور قربانی کا حوصلہ ہے۔

۱۸۵۷ء کی جدوجہد میں متعدد خواتین بھی سامنے آئیں جنہوں نے مختلف علاقوں میں انگریز افواج کے خلاف مزاحمت کی۔ اگرچہ ان میں سے بہت سی خواتین کے نام تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے محفوظ نہیں ہوسکے، مگر ان کی قربانیاں اجتماعی قومی حافظے کا حصہ ہیں۔ دیہی علاقوں کی بے شمار خواتین نے مجاہدین کو خوراک فراہم کی، زخمیوں کی تیمارداری کی، دشمن کی نقل و حرکت کی اطلاعات پہنچائیں اور اپنے گھروں کو آزادی کے سپاہیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنایا۔ ان خدمات کا اعتراف کیے بغیر تحریک آزادی کی مکمل تاریخ نہیں لکھی جاسکتی۔

۱۸۵۷ء کی جنگ اگرچہ عسکری اعتبار سے کامیاب نہ ہوسکی، لیکن اس نے ہندوستانی عوام کے ذہن و فکر میں آزادی کا ایسا بیج بو دیا جو آنے والی نسلوں میں تناور درخت بن گیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں خواتین کی شرکت نے یہ ثابت کردیا کہ آزادی کی تحریک کسی ایک طبقے یا جنس کی جدوجہد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بعد کے تمام ادوار میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں کی بنیاد بھی اسی دور میں پڑی۔

۱۹؍ویں صدی کے آخری برسوں اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب قومی بیداری کی نئی لہریں اٹھنے لگیں تو خواتین کی تعلیم پر بھی توجہ دی جانے لگی۔ تعلیم نے خواتین کے اندر سیاسی شعور پیدا کیا، انہیں قومی حالات کا ادراک بخشا اور وہ آزادی کی تحریک کے فکری محاذ پر بھی سرگرم ہونے لگیں۔ انہوں نے خواتین کی انجمنیں قائم کیں، اصلاحی اجتماعات منعقد کیے، مضامین لکھے، تقریریں کیں اور گھر گھر آزادی کا پیغام پہنچایا۔ اس دور میں تعلیم یافتہ خواتین نے یہ احساس دلایا کہ غلام قوم کی خواتین بھی حقیقی ترقی حاصل نہیں کرسکتیں، اس لیے قومی آزادی خواتین کی آزادی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

اسی زمانے میں مسلم خواتین میں بھی بیداری کی نئی لہر پیدا ہوئی۔ انہوں نے دینی اور عصری تعلیم کے امتزاج کے ساتھ قومی مسائل کو سمجھنا شروع کیا اور آزادی کی تحریک میں اپنی ذمہ داری محسوس کی۔ ان کا کردار اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ انہوں نے مذہبی اقدار اور قومی جذبے کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ وطن سے محبت، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور عدل و انصاف کیلئے جدوجہد کرنا اسلامی تعلیمات کے بھی عین مطابق ہے۔ یہی فکر بعد میں تحریک خلافت، تحریک عدم تعاون اور دیگر قومی تحریکوں میں مسلم خواتین کی فعال شرکت کا سبب بنی۔

تحریک آزادی کی ابتدائی تاریخ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ خواتین نے نہ صرف قربانی دی بلکہ قوم کے فکری، اخلاقی اور سماجی شعور کو بھی جلابخشی۔ انہوں نے یہ باور کرایا کہ آزادی صرف سیاسی اقتدار کا نام نہیں بلکہ انسان کی عزت، خودداری، شناخت اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کا دوسرا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی داستان میں خواتین کی خدمات کو نظر انداز کرنا دراصل تاریخ کے ایک نہایت اہم باب کو ادھورا چھوڑ دینے کے مترادف ہوگا۔

تحریک آزادی کی ابتدائی جدوجہد نے ہندوستان کے ہر طبقے میں آزادی کی خواہش کو مضبوط کردیا تھا، لیکن بیسویں صدی کے آغاز میں یہ تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ اب آزادی کی آواز صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، مذہبی اجتماعات، اخبارات، ادبی محفلوں اور عوامی جلسوں تک پہنچ گئی۔ یہی وہ دور تھا جب خواتین نے پہلے سے کہیں زیادہ منظم انداز میں قومی تحریک کا حصہ بننا شروع کیا۔ انہوں نے صرف مرد رہنماؤں کی معاونت ہی نہیں کی بلکہ متعدد مواقع پر خود قیادت سنبھالی، عوامی جلسوں سے خطاب کیا، احتجاجی جلوسوں کی قیادت کی، جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ آزادی کی جدوجہد کسی ایک جنس کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

۱۹۰۵ء میں تقسیم بنگال کے خلاف شروع ہونے والی تحریک نے ہندوستان میں قومی شعور کو نئی زندگی عطا کی۔ اس تحریک میں خواتین نے غیر ملکی اشیاء کے بائیکاٹ، گھریلو صنعتوں کے فروغ اور قومی یکجہتی کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ گھروں میں چرخہ چلانا، دیسی کپڑوں کا استعمال، غیر ملکی مصنوعات سے اجتناب اور نئی نسل کو حب الوطنی کی تعلیم دینا دراصل خواتین کی وہ خاموش جدوجہد تھی جس نے تحریک کو عوامی بنیادیں فراہم کیں۔ آزادی کی تحریک کی اصل قوت صرف جلسے اور جلوس نہیں تھے بلکہ وہ گھریلو ماحول بھی تھا جہاں قومی غیرت اور خودداری کی تربیت دی جارہی تھی، اور اس تربیت میں خواتین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔

جب خلافت تحریک اور عدم تعاون تحریک کا آغاز ہوا تو ہندوستان کی خواتین نے پہلے سے کہیں زیادہ جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ مسلمان خواتین نے اپنے زیورات تک قومی تحریک کے لیے پیش کردیے۔ اس موقع پر بی اماں (آبادی بانو بیگم) کا کردار تاریخ کے روشن ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے دونوں صاحبزادوں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی سیاسی جدوجہد کی نہ صرف بھرپور حمایت کی بلکہ خود بھی ملک کے مختلف حصوں میں جاکر عوام سے خطاب کیا۔ اس زمانے میں پردہ نشین خواتین کا اس انداز سے عوامی میدان میں آنا ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ بی اماں کی تقریروں میں دینی غیرت، قومی حمیت اور آزادی کی تڑپ نمایاں ہوتی تھی۔ وہ مسلمانوں کو غلامی سے نجات، اتحاد اور قربانی کا درس دیتی تھیں۔ ان کی شخصیت نے ہزاروں خواتین کو گھروں سے نکل کر قومی تحریک میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔

اسی طرح بیگم محمد علی نے بھی آزادی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے خواتین میں سیاسی شعور بیدار کرنے، چندہ جمع کرنے، جلسوں کے انعقاد اور تحریک کے کارکنوں کی حوصلہ افزائی میں اہم خدمات انجام دیں۔ اس دور میں متعدد مسلمان خواتین نے اپنے گھروں کو قومی کارکنوں کے لیے محفوظ مراکز میں تبدیل کردیا۔ وہ نہ صرف انقلابیوں کی مدد کرتی تھیں بلکہ انگریز حکومت کی سخت نگرانی کے باوجود قومی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں۔

عدم تعاون تحریک کے دوران کستوربا گاندھی کی خدمات بھی ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اگرچہ وہ ایک عظیم قومی رہنما کی شریکِ حیات تھیں، لیکن ان کی اپنی شخصیت بھی بے حد مؤثر تھی۔ انہوں نے دیہی علاقوں میں خواتین کو بیدار کیا، صفائی، تعلیم، خود انحصاری اور قومی شعور کا پیغام عام کیا۔ کئی مواقع پر وہ جیل گئیں، بیماریوں اور تکالیف کا سامنا کیا، مگر اپنے عزم میں کبھی کمزوری نہیں آنے دی۔ ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی ترجمان ہے کہ خاموش خدمت بھی تاریخ کا دھارا بدل سکتی ہے۔

اسی عرصے میں سروجنی نائیڈو قومی سیاست کی ایک مؤثر آواز بن کر سامنے آئیں۔ انہیں برصغیر کی ’’بلبل ہند‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن ان کی شناخت صرف ایک شاعرہ کی نہیں بلکہ ایک بے باک سیاسی رہنما کی بھی ہے۔ انہوں نے اپنی خطابت، ادبی صلاحیت اور غیر معمولی قیادت کے ذریعے آزادی کی تحریک کو نئی قوت عطا کی۔ وہ ہندوستانی قومی کانگریس کی پہلی ہندوستانی خاتون صدر بنیں اور متعدد بین الاقوامی مواقع پر ہندوستان کی آزادی کا مقدمہ پیش کیا۔ ان کی تقریریں نوجوانوں اور خواتین میں نئی روح پھونک دیتی تھیں۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ آزادی کی منزل تک پہنچنے کے لیے خواتین کی شمولیت ناگزیر ہے۔

۱۹۳۰ء میں جب سول نافرمانی تحریک شروع ہوئی اور نمک قانون کے خلاف احتجاج کیا گیا تو ہزاروں خواتین نے کھل کر اس میں حصہ لیا۔ اگرچہ ابتدا میں انگریز حکومت یہ سمجھتی تھی کہ خواتین کو گرفتار کرنے سے عوامی ردعمل پیدا ہوگا، لیکن جب خواتین کی تعداد مسلسل بڑھنے لگی تو انہیں بھی گرفتار کیا جانے لگا۔ اس زمانے میں بے شمار خواتین نے جیلوں کی سختیاں برداشت کیں، جسمانی اذیتیں جھیلیں، مگر اپنے اصولوں سے پیچھے نہ ہٹیں۔ ان کی ثابت قدمی نے ہندوستانی عوام کے حوصلے مزید بلند کیے۔

کملا نہرو بھی اس دور کی ایک نمایاں شخصیت تھیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے شوہر پنڈت جواہر لال نہرو کی سیاسی جدوجہد میں بھرپور تعاون کیا بلکہ خود بھی متعدد احتجاجی تحریکوں میں شریک رہیں۔ انہوں نے خواتین کو قومی تحریک سے جوڑنے، غیر ملکی اشیاء کے بائیکاٹ اور عوامی بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت اس بات کی علامت ہے کہ ایک باشعور خاتون پورے معاشرے کے فکر و عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔

اسی طرح وجے لکشمی پنڈت نے بھی آزادی کی تحریک کے مختلف مراحل میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کی سیاسی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور قومی شعور نے خواتین کو قومی قیادت میں اپنا مقام بنانے کا حوصلہ دیا۔ بعد ازاں آزاد ہندوستان میں ان کی سفارتی خدمات بھی اس بات کا ثبوت بنیں کہ تحریکِ آزادی نے خواتین میں قیادت کی ایسی صلاحیتیں پیدا کیں جنہوں نے ملک کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

تحریک آزادی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ خواتین نے صرف پرامن احتجاج تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ انقلابی تحریکوں میں بھی حصہ لیا۔ پریتیلتا وادی دار، کلپنا دت، بینا داس، سہا سنی گانگولی اور دیگر نوجوان خواتین نے انقلابی تنظیموں کے ساتھ مل کر انگریز حکومت کے خلاف عملی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ ان میں سے بعض نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، بعض نے طویل قید کاٹی اور بعض نے شدید جسمانی و ذہنی اذیتیں برداشت کیں، مگر آزادی کے خواب کو ترک نہیں کیا۔ ان خواتین نے یہ ثابت کیا کہ وطن کی محبت کسی مخصوص طبقے یا صنف کی میراث نہیں بلکہ ہر باشعور انسان کا فریضہ ہے۔

آزادی کی تحریک میں خواتین کی ایک اور نمایاں خدمت صحافت، ادب اور ابلاغ کے میدان میں تھی۔ متعدد خواتین نے اخبارات و رسائل میں مضامین لکھ کر عوام کو بیدار کیا، قومی شعور پیدا کیا اور غلامی کے نقصانات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے قلم کو ایک مؤثر ہتھیار بنایا۔ اس زمانے میں لکھا جانے والا قومی ادب آج بھی آزادی کی جدوجہد کا زندہ سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ خواتین کے یہ مضامین، نظمیں اور تقاریر عوام کے اندر آزادی کی نئی امنگ پیدا کرتے تھے اور انگریز حکومت کے ظلم و استبداد کو بے نقاب کرتے تھے۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آزادی کی تحریک میں خواتین کی شرکت نے ہندوستانی معاشرے میں خواتین کے مقام کو بھی مضبوط کیا۔ جو خواتین پہلے صرف گھریلو زندگی تک محدود سمجھی جاتی تھیں، وہ قومی قیادت، سماجی اصلاح، تعلیمی بیداری اور سیاسی جدوجہد کی علامت بن گئیں۔ انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ اگر خواتین کو تعلیم، اعتماد اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

تحریکِ آزادی کا یہ مرحلہ اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے ہندوستانی خواتین کو ایک نئی شناخت عطا کی۔ وہ صرف تحریک کی معاون نہیں رہیں بلکہ اس کی مؤثر قائد، ترجمان، منتظم اور قربانی پیش کرنے والی عظیم مجاہد بھی بن گئیں۔ ان کی استقامت، بصیرت، ایثار اور حوصلے نے آزادی کی منزل کو قریب تر کردیا اور قوم کے اندر یہ یقین پیدا کیا کہ جب مرد و زن ایک مقصد کے لیے متحد ہوجائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں کامیابی سے محروم نہیں رکھ سکتی۔

۱۹۴۲ء میں جب’’بھارت چھوڑو تحریک‘‘کا آغاز ہوا توملکی خواتین نے ایک مرتبہ پھر اپنی غیر معمولی جرأت، ثابت قدمی اور قائدانہ صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے آزادی کی جدوجہد کو نئی قوت عطا کی۔ اس تحریک کے دوران انگریز حکومت نے تقریباً تمام بڑے رہنماؤں کو گرفتار کرلیا، لیکن خواتین نے تحریک کی باگ ڈور سنبھال لی۔ اس موقع پر ارونا آصف علی ایک ایسی دلیر خاتون کے طور پر سامنے آئیں جنہوں نے ممبئی کے گووالیا ٹینک میدان میں قومی پرچم لہرا کر آزادی کی تحریک کو نئی زندگی بخشی۔ ان کی یہ جرأت پورے ملک کیلئے مزاحمت اور استقلال کی علامت بن گئی۔ وہ طویل عرصے تک زیر زمین رہ کر تحریک کی رہنمائی کرتی رہیں اور انگریز حکومت انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ ان کی جدوجہد نے ثابت کردیا کہ ایک باہمت خاتون پوری قوم کے حوصلے کو بلند کرسکتی ہے۔

اسی تحریک میں اُشا مہتا کا کردار بھی نہایت منفرد تھا۔ انہوں نے خفیہ ریڈیو اسٹیشن قائم کرکے آزادی کے متوالوں تک خبریں، پیغامات اور رہنماؤں کی ہدایات پہنچائیں۔ جب انگریز حکومت نے اخبارات پر پابندیاں عائد کردیں تو اسی خفیہ نشریاتی نظام نے آزادی کے پیغام کو زندہ رکھا۔ اگرچہ بعد میں وہ گرفتار ہوئیں اور سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے اپنے رفقا کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہ کیں۔ ان کی استقامت ہندوستانی خواتین کی جرأت و وفاداری کی روشن مثال ہے۔

آزادی کی جدوجہد کے عسکری محاذ پر کیپٹن لکشمی سہگل کا نام ہمیشہ احترام سے لیا جائے گا۔ انہوں نے آزاد ہند فوج میں رانی جھانسی رجمنٹ کی قیادت کرتے ہوئے خواتین کو پہلی مرتبہ باقاعدہ فوجی تربیت اور عملی جنگی کردار سے روشناس کرایا۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس کے ساتھ ان کی خدمات نے اس تصور کو باطل کردیا کہ جنگ اور عسکری قیادت صرف مردوں کا میدان ہے۔ رانی جھانسی رجمنٹ نے ہندوستانی خواتین میں خود اعتمادی، نظم و ضبط اور حب الوطنی کے ایسے جذبات پیدا کیے جو بعد ازاں آزاد ہندوستان کی تعمیر میں بھی معاون ثابت ہوئے۔

اسی طرح دُرگا دیوی ووہرا (دُرگا بھابھی)، کلپنا دت، پریتی لتا وادی دار، بینا داس اور دیگر انقلابی خواتین نے خفیہ تنظیموں کے ساتھ مل کر برطانوی حکومت کے خلاف عملی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر انقلابیوں کی مدد کی، اسلحہ پہنچایا، خفیہ اطلاعات فراہم کیں اور کئی مرتبہ اپنی شناخت تک قربان کردی۔ ان خواتین کی خدمات یہ ثابت کرتی ہیں کہ تحریکِ آزادی صرف سیاسی مذاکرات کا نام نہیں تھی بلکہ اس کے پس منظر میں بے شمار گمنام قربانیوں کی داستانیں بھی پوشیدہ ہیں۔

یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ تحریک آزادی کی کامیابی میں صرف معروف شخصیات ہی نہیں بلکہ دیہات، قصبوں اور شہروں کی ہزاروں گمنام خواتین کا بھی حصہ تھا۔ انہوں نے اپنے گھروں کو انقلابیوں کی پناہ گاہ بنایا، قید ہونے والے کارکنوں کے خاندانوں کی کفالت کی، زخمیوں کی خدمت کی، چندہ جمع کیا، قومی لباس اختیار کیا، غیر ملکی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا اور نئی نسل کو غلامی کے نقصانات سے آگاہ کیا۔ تاریخ اگرصرف مشہور ناموں تک محدود رہے تو یہ ان بے شمار ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہوں نے خاموشی سے آزادی کی بنیادیں مضبوط کیں۔

تحریک آزادی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اس نے ہندوستانی معاشرے میں خواتین کے مقام و مرتبہ کو نئی جہت عطا کی۔ آزادی سے قبل خواتین کی سماجی، تعلیمی اور سیاسی سرگرمیاں محدود سمجھی جاتی تھیں، لیکن قومی تحریک نے ثابت کردیا کہ خواتین صرف خاندان کی معمار نہیں بلکہ قوم کی بھی معمار ہوتی ہیں۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں خواتین کی سیاسی شرکت، پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں نمائندگی، اعلیٰ تعلیم، سماجی خدمات اور انتظامی شعبوں میں ان کی موجودگی درحقیقت اسی تاریخی جدوجہد کا تسلسل ہے۔

اگر ہم تحریک آزادی کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ خواتین نے صرف انگریز حکومت کے خلاف مزاحمت ہی نہیں کی بلکہ انہوں نے معاشرتی فرسودہ روایات کو بھی چیلنج کیا۔ انہوں نے تعلیم کی اہمیت اجاگر کی، خود اعتمادی پیدا کی، سماجی اصلاح کی تحریکوں کو فروغ دیا اور یہ ثابت کیا کہ ایک باوقار، تعلیم یافتہ اور باشعور خاتون پورے معاشرے کی فکری سمت متعین کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں خواتین کا کردار محض ایک ضمنی باب نہیں بلکہ پوری داستان کا ایک بنیادی ستون ہے۔

آج جب ہم آزادی کی نعمتوں سے بہرہ مند ہیں تو ہماری ذمہ داری صرف ان عظیم خواتین کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ ان کے افکار، کردار اور قربانیوں کو نئی نسل تک منتقل کرنا بھی ہے۔ اگر نوجوان نسل کو صرف چند مشہور نام یاد رہ جائیں اور ہزاروں بے نام خواتین کی خدمات فراموش کردی جائیں تو ہماری تاریخی شعوری وراثت ادھوری رہ جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی نصاب، تحقیقی ادارے، جامعات اور ذرائع ابلاغ ان خواتین کی خدمات کو زیادہ نمایاں کریں تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ آزادی کا یہ گلشن صرف مردوں کے خون سے نہیں بلکہ خواتین کے ایثار، صبر، عزم، استقلال اور قربانیوں سے بھی سیراب ہوا ہے۔

تحریکِ آزادی کی تاریخ دراصل قربانی، ایثار، صبر، استقلال اور قومی یکجہتی کی تاریخ ہے، اور اس تاریخ کے سنہرے اوراق پر ہندوستانی خواتین کے نام ہمیشہ روشن رہیں گے۔ انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ قوموں کی تقدیر صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ماؤں کی گود، بہنوں کی دعاؤں، بیٹیوں کی تعلیم، خواتین کی بصیرت اور ان کے بے لوث جذبۂ خدمت سے بھی سنورتی ہے۔ آزادی کا سورج جن لاکھوں قربانیوں کے بعد طلوع ہوا، اس کی کرنوں میں ان عظیم خواتین کا لہو، ان کی آنکھوں کے آنسو، ان کی دعائیں، ان کی استقامت اور ان کے خواب برابر کے شریک ہیں۔ آج اگر ہم ایک آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں تو ہمیں یہ کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ آزادی صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں بلکہ ان بے شمار خواتین کی امانت بھی ہے جنہوں نے اپنے ذاتی آرام، گھریلو سکون، مال، اولاد اور حتیٰ کہ اپنی جان تک وطن پر نثار کردی۔ ان کی زندگیاں ہمیں یہ ابدی سبق دیتی ہیں کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک حقیقی ترقی حاصل نہیں کرسکتی جب تک وہ اپنی خواتین کی صلاحیتوں کا احترام نہ کرے، ان کی خدمات کا اعتراف نہ کرے اور انہیں قومی تعمیر و ترقی کا مساوی شریک نہ سمجھے۔ یہی ان عظیم خواتین کو حقیقی خراجِ عقیدت اور آزادی کے مقدس سفر کا سب سے خوبصورت پیغام ہے۔

حوالہ جات

۱- بانو سرتاج، ہندوستان کی جنگ آزادی میں خواتین، موڈرن پبلشنگ ہاؤس، دریا گنج، نئی دہلی، سنہ اشاعت: ۲۰۱۲ء۔

۲- شبانہ، جنگِ آزادی کی بہادر عورتیں، جیلانی پبلی کیشنز، نئی دہلی، سن اشاعت: ۱۹۹۷ء۔

۳- اپرنا باسو، ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں خواتین کا کردار، وکاس پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، سنہ اشاعت: ۱۹۷۶ء۔

۴- من موہن کور، تحریک آزادی (۱۸۵۷ء تا ۱۹۴۷ء) میں خواتین کا کردار، اسٹرلنگ پبلشرز، نئی دہلی، سنہ اشاعت: ۱۹۶۸ء۔

۵- بپن چندر، امرلیش ترپاٹھی، کے- این- پانیکر، ہندوستان کی جدوجہد آزادی، پینگوئن بکس، نئی دہلی، سنہ اشاعت: ۱۹۸۸ء۔

۶- جیرالڈین فوربس، نوآبادیاتی ہندوستان میں خواتین، کیمبرج یونیورسٹی پریس، نئی دہلی ایڈیشن، سنہ اشاعت: ۲۰۰۵ء۔

۷- کمالا دیوی چٹوپادھیائے، ہندوستانی خواتین کی جدوجہد آزادی، ابھی نو پبلی کیشنز، نئی دہلی،سنہ اشاعت: ۱۹۸۳ء۔

۸- من راج سنگھ، تحریک آزادی ہند میں خواتین کا کردار، بین الاقوامی مجلۂ تحقیق، جلد: ۱، شمارہ: ۲، سنہ اشاعت: ۲۰۱۴ء۔

۹- اُگریش کمار، ڈاکٹر دھرم راج پنوار، ہندوستان کی تحریک آزادی میں خواتین کا کردار: ایک تحقیقی جائزہ، جرنل آف ایڈوانسڈ اینڈ 

۱۰- ڈاکٹر ایس- ایل- ناگوری، ہندوستان کی خواتین اور قومی تحریک، پوائنٹر پبلشرز، جے پور، سنہ اشاعت ۱۹۹۶ء۔

۱۱- ڈاکٹر کے۔ سی۔ یادو، تحریک آزادی میں ہندوستانی خواتین کی خدمات، آتلانٹک پبلشرز، نئی دہلی، سنہ اشاعت ۲۰۰۰ء۔

۱۲- حکومت ہند، وزارت ثقافت، آزادی کا امرت مہوتسو: تحریک آزادی میں خواتین کی خدمات، نئی دہلی، سنہ اشاعت: ۲۰۲۲ء۔

***

346/459 Millat nagar colony mehandi ganj near Aisha clinic,  lucknow, 226003

📖 یہ مضمون قادرالکلام ماہنامہ، جلد 1، شمارہ 11، اگست 2026ء میں شامل ہے۔

🌐 مزید تحقیقی و ادبی مضامین کے لیے:
https://www.qadirulkalam.com/


No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...