Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Sunday, September 20, 2026

مولانا حسرت موہانی کی انقلابی شاعری


"مولانا حسرت موہانی کی انقلابی شاعری"
اسماء جبین، ریسرچ اسکالر، SGBAU، اکولا، مہاراشٹرا کا تحقیقی مقالہ ہے، جس میں مولانا حسرت موہانی کی زندگی، سیاسی جدوجہد اور ان کی انقلابی شاعری کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

اسماء جبین(ریسرچ اسکالر،مہاراشٹرا)

 اردو کے ممتاز شاعر، سیاسی رہنما اور صحافی مولانا فضل الحسن حسرت موہانی (۱۸۷۵–۱۹۵۱) ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے ایک ایسے استعارے ہیں جنھوں نے شاعری کو بھی انقلاب کا ہتھیار بنایا۔ ان کا تخلیقی سفر کلاسیکی غزل کی نزاکتوں سے شروع ہو کر انقلابی نظموں اور نعروں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ مقالہ حسرت کی انقلابی شاعری کے موضوعاتی، فکری اور فنی پہلوؤں کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں مکمل آزادی کا مطالبہ، سامراج دشمنی، سوشلزم، طبقاتی جدوجہد، سیکولرازم اور انسانی مساوات جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ مقالے میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح حسرت نے روایتی غزل کے قالب میں سیاسی شعور بھر کر اردو شاعری کی روایت کو ایک نئی جہت بخشی اور "انقلاب زندہ باد" جیسے نعرے کو عوامی شعور کا حصہ بنایا۔ آخر میں حوالہ جات کی ایک جامع فہرست پیش کی گئی ہے۔

حیات و سیاسی پس منظر

مولانا فضل الحسن ۱۸۷۵ء میں قصبہ موہان، ضلع اناؤ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام سید غلام مرتضیٰ تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، بعد ازاں علی گڑھ گئے اور وہاں سے بی اے کیا۔ علی گڑھ ہی میں انھیں سر سید کے مشن، جدید تعلیم اور سیاسی شعور کی پہلی خوراک ملی۔ یہیں انھوں نے اپنی شاعری کا آغاز کیا اور "حسرت" تخلص اختیار کیا۔ ابتدا میں ان کا رنگ عشقیہ غزلوں کا تھا، لیکن جلد ہی ملکی سیاست نے ان کے شعری رویے کو تبدیل کر دیا۔

۱۹۰۳ء میں کانگریس کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد وہ عملی سیاست میں داخل ہوئے۔ ۱۹۰۵ء میں تقسیمِ بنگال کے خلاف تحریک نے ان کے انقلابی ذہن کو مہمیز کیا۔ وہ "کنفیڈریٹ انڈیا" کے حامی تھے اور مسلم لیگ سے بھی وابستہ رہے، لیکن ۱۹۰۸ء میں جب انھوں نے اپنے اخبار "اردوئے معلی" میں برطانوی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی تو گرفتار کر لیے گئے اور دو سال قید کی سزا ہوئی۔ یہ ان کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ تھا۔ جیل سے رہائی کے بعد وہ پورے طور پر انقلابی بن چکے تھے۔

کئی دہائیوں میں حسرت موہانی نے ہندوستانی سیاست میں دو بڑے کام کیے: ایک تو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں "مکمل آزادی" کی قرارداد ۱۹۲۰ء میں پیش کرنا (جو اس وقت منظور نہ ہوئی)، اور دوسرا ۱۹۲۱ء میں احمد آباد کانگریس اجلاس میں پورن سوراج (مکمل خود مختاری) کا مطالبہ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب گاندھی جی کی قیادت میں کانگریس ڈومینین اسٹیٹس سے بھی راضی تھی، لیکن حسرت نے دو ٹوک لہجے میں کہا:"ہمیں مکمل آزادی چاہیے، کسی غیر ملکی حکومت کے ماتحت رہنے کی ذلت ہمیں منظور نہیں۔"

اسی زمانے میں انھوں نے "انقلاب زندہ باد" کا نعرہ بھی متعارف کرایا جو بعد میں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کا محبوب نعرہ بن گیا۔

۱۹۲۵ء میں کانپور میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی بنیاد رکھنے والوں میں حسرت بھی شامل تھے۔ وہ مزدوروں اور کسانوں کی جدوجہد کو قومی تحریک کا لازمی جزو سمجھتے تھے۔ اس حوالے سے ان کا مشہور نعرہ تھا:"مزدوروں کی آزادی کے بغیر سیاسی آزادی کا کوئی مطلب نہیں۔"

حسرت مسلم لیگ، کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی تینوں سے وابستہ رہنے والے واحد سیاست دان تھے، لیکن وہ کسی تنظیم کے غلام نہیں بنے۔ جب مسلم لیگ نے دو قومی نظریے کو اپنایا تو انھوں نے اس کی شدید مخالفت کی اور کہا:"مسلمان ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔"

ان کا یقین تھا کہ فرقہ وارانہ سیاست غلامی کا ایک نیا حربہ ہے۔

۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہند کے بعد بھی وہ ہندوستان میں ہی رہے اور علی گڑھ سے لے کر لکھنؤ تک عوامی مسائل کے لیے سرگرم رہے۔ ۱۳ مئی ۱۹۵۱ء کو لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوا۔ یہ پوری زندگی قربانیوں، جیل یاترا اور نظریاتی استقامت کا ایک باب تھی، جس کا فطری نتیجہ ان کی شاعری میں انقلابی عناصر کی صورت میں ظاہر ہوا۔

حسرت کی شاعری میں انقلابی عناصر

حسرت موہانی کی شاعری کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ انقلابی موضوعات ان پر کس طرح وارد ہوئے۔ وہ غزل گو تھے، اور غزل بنیادی طور پر عشق و عاشقی کی شاعری ہے، لیکن حسرت نے اس کے اندر سیاسی اور انقلابی شعور کو اس خوبی سے سمویا کہ غزل کا کلاسیکی حسن بھی برقرار رہا اور عصرِ حاضر کے مسائل بھی پوری توانائی سے ابھرے۔ ان کی شاعری میں انقلاب محض جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ ایک فلسفیانہ، سماجی اور سیاسی تصور ہے جس کی بنیادی خصوصیات درج ذیل ہیں۔

مکمل آزادی کا مطالبہ

حسرت موہانی پہلے سیاست دان تھے جنھوں نے کھلے عام یہ اعلان کیا کہ ڈومینین اسٹیٹس یا کسی قسم کی محدود خود مختاری قابلِ قبول نہیں، بلکہ اصل ہدف مکمل آزادی ہے۔ یہی مطالبہ ان کی شاعری میں ایک لازمی جزو بن کر ابھرا۔ ان کے مشہور قطعے دیکھیے:

جو وہ غنچۂ مژگاں تو یہ کہا

آزاد ہو ہندوستان، آ جائے جو موسمِ گلاں

میں وطن کی آزادی کو فطری اور فصلی تغیر کی طرح ناگزیر بتایا گیا ہے۔ اسی طرح اپنی ایک طویل نظم "آزادی" میں وہ لکھتے ہیں:

نہ ڈومینین، نہ حاکم کی عنایت چاہیے

اپنی ہی قسمت پہ قابو، اپنی حکومت چاہیے

خواب میں بھی اب نہ دیکھیں غیر کی صورت کو ہم

جاگ اٹھیں اور کہہ دیں آزادی کی جنت چاہیے

یہ نظم اس زمانے میں لکھی گئی جب زیادہ تر قائدین نیم آزادی پر بات کر رہے تھے۔ حسرت نے "غیر کی صورت" سے مراد برطانوی سامراج لیا اور "جاگ اٹھیں" کا استعارہ قومی شعور کی بیداری کے لیے استعمال کیا۔

سامراج دشمنی اور استعماریت کا رد

حسرت کی انقلابی شاعری کا دوسرا اہم پہلو استعمار کے خلاف نفرت ہے۔ وہ برطانوی راج کو محض سیاسی غلامی نہیں، معاشی، ذہنی اور تہذیبی غلامی کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ ان کی مشہور نظم "غلامی کا یہ فائدہ" دراصل طنزیہ پیرائے میں سامراج کی حقیقت بیان کرتی ہے۔

غلامی کا یہ فائدہ ہے کہ ہم کو

خبر تک نہیں ہے غلامی کی ہم کو

یہاں حسرت استعماری نظام کی اس نفسیاتی گرفت کو بیان کرتے ہیں جس میں غلام قوم کو اپنی غلامی کا احساس ہی نہیں رہتا۔ یہ ایک انقلابی خیال ہے جو فرانز فینن جیسے مفکرین نے بعد میں پیش کیا۔ اسی طرح جب انھوں نے ۱۹۰۸ء میں جیل کاٹی تو ان کی شاعری میں مزاحمت کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ وہ لکھتے ہیں:

ہے زنداں میں اب اسیر ہمارا بدن، نہ روح

پہنچے گی ان ظالموں تک کبھی کیا ہماری روح

بدن اور روح کی ثنویت کے اس تصور نے سیاسی قیدیوں کے حوصلے بلند رکھے اور مزاحمتی ادب کے لیے ایک نئی علامت فراہم کی۔

سوشلزم اور طبقاتی جدوجہد

حسرت موہانی صرف سیاسی آزادی کے متوالے نہیں تھے، وہ معاشی انصاف کو بھی اسی قدر اہمیت دیتے تھے۔ ۱۹۲۵ء میں کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد ڈالنے کے بعد ان کی شاعری میں مزدوروں، کسانوں اور محنت کشوں کی آواز زیادہ بلند ہوئی۔ "مزدوروں کا ترانہ" ان کی اہم ترین انقلابی نظموں میں شمار ہوتی ہے۔

اٹھو مزدورو! جاگو مزدورو!

سنتا ہے کون تمہاری پکار

تمہارے ہاتھوں میں ہے انقلاب

تمہارے قدموں میں ہے سردار

اس نظم میں سردار سے مراد سرمایہ دار طبقہ ہے۔ "ہاتھوں میں انقلاب" کا استعارہ مارکسی نظریے کے مطابق پرولتاریہ کے تاریخی کردار کی طرف اشارہ ہے۔

حسرت کسانوں کو بھی نہیں بھولے:

ہل چلانے والو! اب سنبھالو اپنا حال

تم کو دیتے ہیں فقط تھوڑی سی جنس، لے لو مال

تمہارے کھیتوں سے چلتے ہیں یہ کارخانے کتنے

تمہارے جیسے بھوکے رہتے، پلتے ہیں سارے اتنے

یہاں زرعی معیشت، صنعتی استحصال اور طبقاتی تضاد کو بڑی سادگی مگر وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

سیکولرازم اور مذہبی ہم آہنگی

حسرت موہانی کا انقلاب فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مذہبی شناخت کے نام پر لڑانا سامراج کی پرانی چال ہے۔ ان کی یہ شہرۂ آفاق نظم اسی فکر کی آئینہ دار ہے۔

مسلمان ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

عرب ہماری جاں، چین ہے ہمارا، ہندوستان ہمارا

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا

یہ نظم فرقہ وارانہ فسادات کے پس منظر میں ایک منشور کی حیثیت رکھتی ہے۔ "عرب ہماری جاں" کہہ کر وہ مذہبی جذبات کی قدر کرتے ہیں، مگر فوراً "ہندوستان ہمارا" کہہ کر جغرافیائی قومیت کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں۔ ان کا پیغام واضح تھا: محبِ وطن مسلمان ہونا اور ساتھ ہی ساتھ اپنی تہذیبی جڑوں سے جڑے رہنا ممکن ہے۔ یہ سیکولرازم کا اعلیٰ ترین شعری اظہار ہے۔

انسان دوستی اور مساوات

حسرت کی انقلابی شاعری میں انسانیت کی محبت ایک بنیادی قدر ہے۔ وہ کسی بھی قسم کی نسل پرستی، ذات پات یا طبقاتی تفریق کو قبول نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک انقلاب کی آخری منزل ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں سب برابر ہوں۔

نہ کوئی امیر رہے، نہ کوئی فقیر رہے

نہ کوئی اسیر رہے، نہ کوئی امیر رہے

انسان دوستی کا یہ تصور تصوف سے بھی قریب ہے اور جدید سوشلسٹ فکر سے بھی۔ ان کی غزلوں میں بھی اکثر ایسے اشعار ملتے ہیں:

حسرتؔ یہی ہے آرزو، دنیا میں ہو سبھی کا بھلا

ہندو ہوں یا مسلماں، سب رہیں بہم، یہی دعا

یہاں دعا کی شکل میں ایک انقلابی سیاسی پیغام دیا گیا ہے جو ان کی شاعری کا خاص وصف ہے۔

نمایاں انقلابی کلام کا تجزیہ

اس باب میں ہم حسرت موہانی کی چند منتخب انقلابی نظموں اور غزلوں کا تجزیہ پیش کریں گے۔

نظم "انقلاب"

یہ نظم حسرت کی انقلابی شاعری کا سنگِ میل ہے۔ اس کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

انقلاب اے انقلاب، اے قوم کی توقیر

تو ہے تقدیروں کا محور، تو ہے زنجیروں کا زنجیر

خوابِ غفلت سے جگا دیتی ہے تیری اک جھنکار

تیرے جلووں سے چھپ جاتے ہیں ظلمت کے اطوار

یہاں "انقلاب" کو براہِ راست مخاطب کیا گیا ہے جو کلاسیکی قصیدے کی روایت کی یاد دلاتا ہے، لیکن ممدوح کوئی بادشاہ یا سرپرست نہیں بلکہ ایک تجریدی سیاسی تصور ہے۔ "زنجیروں کا زنجیر" ایک نہایت قوی استعارہ ہے: انقلاب خود زنجیروں کو زنجیر پہنا دیتا ہے، یعنی جبر کے نظام کو جکڑ لیتا ہے۔ "ظلمت کے اطوار" سے مراد استعماری ظلم کے روپ ہیں۔ "خوابِ غفلت سے جگانا" اردو شاعری کا مستعار تصور ہے، مگر یہاں اسے سیاسی شعور کی بیداری کے لیے برتا گیا ہے۔

نظم "آزادی" (تفصیلی اشعار)

یہ آزادی کا پرچم، یہ جوانوں کا جوش

ہے یہی وہ قوت جو کر دے جہاں کو خاموش

آزادی، آزادی، اے میری جانِ جاں

تو ہے زندگانی کا مقصد، تو ہے روحِ رواں

تجھ کو پانے کے لیے ہم نے چھوڑے سب آرام

تیری خاطر بھگتیں گے قید و بند و دشنام

آزادی! آزادی! اے حریت کی علامت

تو ہے ہر دل کی محبت، تو ہے ہر روح کی راحت

یہ نظم "آزادی" کو ایک معشوق کی حیثیت سے پیش کرتی ہے جس کے لیے ہر قربانی دی جا سکتی ہے۔ یہی کلاسیکی غزل کے عشقیہ ڈکشن کو سیاسی آزادی کے لیے برتنے کا کمال ہے۔ "جانِ جاں"، "روحِ رواں"، "محبت" اور "راحت" جیسے الفاظ غزل کی معشوقانہ فضا یاد دلاتے ہیں، لیکن "پرچم"، "قید و بند" اور "دشنام" اسے مکمل انقلابی رنگ دیتے ہیں۔ حسرت نے عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی کے روایتی تضاد کو ختم کر کے عشقِ وطن کو دونوں کا اشتراک بنا دیا۔

غزل کے انقلابی اشعار

حسرت کی زیادہ تر غزلوں میں بھی انقلابی پہلو موجود ہے، حالانکہ وہ ظاہری طور پر عشقیہ ہیں۔ مثال کے طور پر:

کیا پوچھتے ہو حال ہمارا، کچھ پوچھو تو

قید و بند کی رات ڈھلی، صبحِ آزادی آئی

اس شعر میں قید و بند سے جیل اور سیاسی جبر مراد ہو سکتا ہے اور صبحِ آزادی سے مقصد ملکی آزادی بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے اشعار دوہرے معنی رکھتے ہیں جسے "ایہام" یا "ذو معنی" کہا جاتا ہے۔ یہی حسرت کی شعری حکمتِ عملی تھی: برطانوی سنسر شپ سے بچنے کے لیے عشقیہ پیرائے میں انقلابی باتیں کہنا۔

ایک اور مشہور شعر:

حسرتؔ کوئی ستم ہو کہ ہو وعدۂ وصال

کچھ ایسا کر کہ زمانے کو انقلاب آئے

یہاں انقلاب ایک خواہش ہے جو محبوب کے وعدے یا ستم دونوں میں پوشیدہ ہے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ حسرت کے لیے انقلاب ایک جمالیاتی اور عشقیہ تجربے کی مانند تھا، محض سیاسی عمل نہیں۔

نظم "نعرۂ انقلاب"

انقلاب زندہ باد یہ نعرہ ہے ہمارا

ہے پیامِ زندگی عالمِ افسردگاں کا یہی ایک سہارا

انقلاب زندہ باد دل میں ہے یہ گداز

لب پہ ہے یہ پکار خاک میں مل جائے گی

ظلم کی یہ ہریالی انقلاب زندہ باد

یہ ایک سادہ اور مؤثر نظم ہے جو نعرے کی ساخت رکھتی ہے۔ چھوٹی بحر، تکراری لفظیات اور آوازی تاثیر اسے عوامی نغمہ بنا دیتی ہے۔ "خاک میں مل جائے گی ظلم کی یہ ہریالی" میں استعارہ قدرت کے حوالے سے استعمال ہوا ہے: جیسے ہریالی ایک دن مٹی میں مل جاتی ہے، ویسے ہی ظلم کا انجام بھی فنا ہے۔

حسرت موہانی کا شعری اسلوب کلاسیکی غزل کی نزاکت اور انقلابی شاعری کے جوش کا حسین امتزاج ہے۔ انھوں نے فارسی اور اردو کے روایتی شعری ڈکشن کو جدید سیاسی اصطلاحات سے ہم آمیز کیا۔ "انقلاب"، "آزادی"، "غلامی"، "جمہوریت"، "سوشلزم" جیسے الفاظ ان کی شاعری میں بے تکلفی سے شامل ہو گئے۔ یہ بڑی جسارت تھی، کیونکہ اس زمانے میں ان الفاظ کو شاعری کے لیے نامناسب سمجھا جاتا تھا۔ان کا ایک اور کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے غزل جیسی صنف کو سیاسی بیانیے کے لیے برتا۔ جوش ملیح آبادی سے پہلے حسرت ہی تھے جنھوں نے غزل میں "انقلاب" کا لفظ استعمال کیا اور اسے جمالیاتی مرتبہ دیا۔ ان کے بعد فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی اور کیفی اعظمی جیسے ترقی پسند شعرا نے بھی غزل کو انقلابی پیغام کا وسیلہ بنایا۔ فیض کی "ہم دیکھیں گے" میں حسرت کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔

حسرت کی زبان سادہ، رواں اور عوامی ہے، جس کی وجہ سے ان کی شاعری دیہاتی کسان سے لے کر شہری دانشور تک سب کو اپیل کرتی ہے۔ "اٹھو مزدورو، جاگو مزدورو" جیسی نظمیں عوامی جلسوں میں پڑھی جاتی تھیں اور "انقلاب زندہ باد" کا نعرہ تو پورے برصغیر میں پھیل گیا۔ درحقیقت بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے عدالت میں اور پھانسی کے تختے پر یہی نعرہ لگایا جو حسرت کا ایجاد کردہ تھا۔

حسرت نے غزل کے تصورات میں بھی انقلابی تبدیلی پیدا کی۔ محبوب کے روایتی استعاروں (رخ و زلف و خط و خال) کے ساتھ ساتھ انھوں نے "وطن"، "ملت"، "عوام" کو بھی غزل کا موضوع بنایا۔ ان کا محبوب ایک بار قومی آزادی ہے تو دوسری بار مزدور کا حق۔ اس طرح انھوں نے اردو شاعری کی علامتیاتی دنیا کو وسیع کیا۔ان کا اثر صرف شاعری تک محدود نہیں رہا، بلکہ سیاسی تحریک پر بھی گہرا پڑا۔ انھوں نے ثابت کیا کہ شاعر صرف لفظوں کا جادوگر نہیں، عوامی رہنما بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی زندگی قربانیوں سے عبارت تھی: بارہا جیل گئے، کئی دفعہ زخمی ہوئے، مگر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی استقامت ان کی شاعری کو وزن اور اعتبار دیتی ہے۔

مولانا حسرت موہانی اردو کے ان چند شعرا میں سے ہیں جنھوں نے زبان کی جمالیات کو انقلاب کی ضرورت کے تابع کرنے کے بجائے دونوں کو یکجا کر کے پیش کیا۔ ان کی انقلابی شاعری محض نعروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل فکری نظام کا شعری اظہار ہے، جس میں سامراج دشمنی، طبقاتی شعور، سیکولرازم اور انسان دوستی شامل ہیں۔ انھوں نے کلاسیکی غزل کے دلکش قالب میں سیاسی آزادی اور سماجی انصاف کے تصورات کو ڈھالا اور بتایا کہ شاعری کسی ظالم نظام کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار بھی ہو سکتی ہے۔

ان کا نعرہ "انقلاب زندہ باد" صرف ایک تاریخی جملہ نہیں، بلکہ مزاحمت کی وہ لازوال علامت ہے جو آج بھی جبر کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز میں گونجتی ہے۔اس مقالے نے یہ دکھایا ہے کہ حسرت کی انقلابی شاعری نہ صرف ان کی زندگی کی سیاسی جدوجہد کا فنی ترجمان ہے، بلکہ اردو ادب میں انقلابی روایت کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔ آج جب دنیا نئے استعمار اور نئے طبقاتی تضادات سے دوچار ہے، حسرت موہانی کی شاعری پہلے سے کہیں زیادہ معنویت رکھتی ہے۔

حوالہ جات

1۔ موہانی، حسرت۔ کلیاتِ حسرت موہانی۔ مرتبہ: محمد اقبال، لاہور: کتابی دنیا، ۱۹۶۵۔

2۔ صدیقی، رؤف۔ مولانا حسرت موہانی: حیات اور کارنامے۔ دہلی: قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، ۱۹۹۸۔

3۔ قریشی، حمید اللہ۔ اردو شاعری میں انقلابی رجحانات۔ لاہور: مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، ۱۹۸۵۔

Asma Jabeen Abdul Rasheed Qureshi

Research Scholar (SGBAU)Akola, MaharashtraContact: 9881258485

***

📖 یہ مضمون قادرالکلام ماہنامہ، جلد 1، شمارہ 11، اگست 2026ء کے خصوصی شمارے میں شامل ہے۔

🌐 مزید تحقیقی و ادبی مضامین کے لیے:
https://www.qadirulkalam.com/


No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...