یہ مضمون معروف ادیب و محقق ڈاکٹر صفیہ فاطمی کا ہے، جسے قارئین کے ادبی و تحقیقی مطالعے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹرصفیہ فاطمی
معاشیات میں ایک باب ہے محنت کی تقسیم جس کے مطابق ذمے داری دیتے وقت کام کرنے والے کی صلاحیت ، ضرورت اور حدود کاخیال رکھنا ہوتاہے۔ اسے درجہ بندی یافرق مراتب بھی کہہ سکتے ہیں، بھید بھاؤ نہیںکہہ سکتے ۔ مشہور کہاوت ہے کہ مضبوط پیٹھ پرہی زیادہ بوجھ ڈالا جاسکتاہے۔ موڈرن مینیجمنٹ کایہ طریقۂ کار فطری قوانین کی بنیاد پرہے۔خالق کائنات نے اپنی مخلوق کومختلف صلاحیتوں سے نوازاہے۔ کسی کو بھی اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیںدیا ۔اس کی ایک بنیادی وجہ درجہ بندی ہے، جہاں صنفی مساوات کاخیال رکھا گیا ہے۔ وخلقناکم ازواجا ۔ سورۃالنباا ٓیت ۸
زوج کایہ تصورصرف انسان ہی میں نہیں بلکہ دیگرحیوانات میں اورنباتات میں بھی ہے، شاید جمادات میں بھی ہے ۔
خلق الازواج کلھامما تنبت الارض ۔ سورہ یسٓ ۔آیت ۳۶
ومن کل شیء خلقنا زوجین ۔ سورۃ الذاریات۔آیت ۴۹
صلاحیت کے اسی فرق کے تحت بچے کی پیدائش سے لے کر تربیت کی ذمہ داری خواتین کے سپرد کی گئی ۔ اس سلسلے کے بیش تر الفاظ مونث یعنی استری لنگ یعنی Feminine Gender سے تعلق رکھتے ہیں۔پیدائش ، پرورش،تربیت ، تعلیم ، ترقی ، بولی ، زبان ، بھاشا، خواندگی ، پڑھائی ، لکھائی ، بھوک، روشنی ، خوراک، توانائی، کھیتی ، روئیدگی ، خوشی ، امید ، بناوٹ ، سجاوٹ ، کتاب، روح، زندگی، ولایت ، کرامت ، فضیلت ، عزت ، دولت، شہرت، صلاحیت، مہارت، موت، قبر وغیرہ وغیرہ یعنی ابتدا سے انتہا تک مونث ہی ہے۔ بچے نے ماں کے شکم میںپرورش پائی تھی، اس تصور نے مادر وطن یعنی ماتری بھومی یعنی Mother Land کاتصور مستحکم کیا۔ دنیامیںکہیں بھی پدر وطن کاتصور نہںملتا۔ ماں نے بچے کے منھ میںاپنی زبان ڈال دی ۔ اسی زبان کومادری زبان یعنی ماتری بھاشا یعنی Mother tongueکہتے ہیں، کہیںبھی پدری زبان کاتصور موجود نہیںہے۔ ایک مالک کے دو چار کاروبار یا دوچار کارخانے ہوں تو سب کو Sister Concern کہا جاتاہے Brother Concern نہیں کہا جاتا۔
ماں نے سو سو طرح کے جتن کرکے بچے کو کسی قابل بنایا ۔ یہ شفقت مادری تاحیات برقرار رہتی ہے۔ لگ بھگ ہرماں اپنے بچے کولوری سناتی ہے۔ اس لحاظ سے ہر ماں بنیادی طور پر شاعرہ بھی ہوتی ہے، چاہے وہ عروض وبلاغت جانے یا نہ جانے، اس کاکلام اثر انداز ہوتاہے۔ اس کلام میںوزن ، بحر ، قافیہ ، ردیف وغیرہ ہو یا نہ ہو، آہنگ ضرور ہوتاہے ۔ خواتین کو قدرتی طور پر یہ صلاحیت ودیعت کی گئی ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے اس فن کو بازار میں بیچنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ا ردو شاعری کی نسائی آوازوںمیںعمومی طور پر ایک خاص معیار پایا جاتاہے۔ اخلاق کی بلندی سے نیچے آنے کے لیے عموماً شاعرات تیار نہیںہوتیں۔
انسانی علوم کی مختلف شاخیں ہیں، ادب بھی ایک اہم شاخ ہے اور شاید دیگرشاخوںسے زیادہ سینئر ہے۔ ادب کی مختلف اصناف میں شاعری اور فکشن کی بزرگی کوچیلنج کرنا مشکل ہے۔ دادی حوا سلام اللہ علیہا نے اپنے بچوں کو لوری اور کہانی سنائی ہوگی (چاہے ان کی زبان جیسی بھی رہی ہو)پھر بچوں کے بچے ، ان کے بچے ، پانچ چھ سوسال میں ان کی اولاد کی مجموعی تعداد لاکھ میں ہوگئی ہوگی۔ ان سارے بچوں کی سینیئر موسٹ امی جان کاتخلیق کردہ ادب پارہ انسانی علوم کی بنیاد رہا ہوگا۔ سینیئر موسٹ ابا یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے علوم سے اپنی اولاد کوبہرہ ور کیا ہوگا۔ ابا جان نے دوڑ ، بھاگ ، اچھل ، کود، پہلوانی ، شکار ، ماہی گیری، تیراکی ، کاشت کاری ،صنعت وحرفت جیسے جوہر سکھائے ،وہ یاد رہ گئے، ان سے قبل امی جان نے جوسکھلایاتھا، اسے انسان بھول گیا، کیوںکہ اس وقت اس کاذہن ہی ناپختہ تھا۔
مذکورہ بالا سارے دعوے درست ہوسکتے ہیں جنھیں Circumstancial Evidence کہتے ہیں پھر بھی فیصلہ صادر کرنے کے لیے DOCUMENTRY EVIDENCE یعنی دستاویزی سند چاہیے۔ اردو شاعرات کی ابتدائی خدمات میں ہماری نگاہ مہ لقا چندا تک پہنچتی ہے ۔ ذوق، مومن اور غالب سے سینیئر تھی ۔ اس کادیوان’’ گلزار ماہ لقا ‘‘ کے نام سے اس کی موت کے بعد شائع ہوا۔ اس کانام ماہ لقا اوٰر مہ لقا دونوں طرح سے لکھاہواہے، ماہ لقا بائی بھی لکھا ہے۔ نظام حیدرآباد کے دربار سے تعلق تھا۔ ماہ لقاکی کی طرح اس کی ماںراج کنور بھی طوائف تھی۔ ’’گلزار ماہ لقا‘‘ مختصر سی کتاب ہے جس پر سال اشاعت ۱۳۲۴ ہجری درج ہے ۔ اس پر ’’ ریاست آصفیہ ‘‘ بھی لکھا ہو ا ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ حکومت وقت نے اس کتاب کوشائع کرایا ۔ کتاب کے افتتاحی سطور :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کہاں طاقت ہے راہِ حمد میں جو ہو زباں گویا
کہ یاں جز عجز خاموشی نہیں ہے یک جہاں گویا
نہ ہو نعت محمد میں کسی سے محفل آرائی
بچا رکھ ہرزہ گوئی سے زباں کو شمع ساں گویا
بعد کی غزلوں کے اشعار بھی حمد ونعت و منقبت پرمشتمل ہیں یعنی خالق کائنات اورپنجتن پاک تک اس شاعرہ نے خود کو محدود کیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور سوچنے کی فرصت نہیں، شاید ضرورت بھی نہیں۔
چندا کو بخش یا علیؑ اپنے جناب سے
تہہ جود و پیمان میں ہو اقتدار کا
نہیں جز مدح مولا کے سنا کوئی سخن لب سے
دلِ چندا الہی مخزن اسرار ہے کس کا
چندا کو تم سے چشم یہ ہے یا علیؑ کہ ہو
خاک نجف کو سرمۂ ابصار دیکھنا
شناسائی ہوئی ذات الہیـ سے تو کیا باعث
تجھے چندا شہنشاہِ نجف کا عشق رہبر تھا
اس مجموعے میںکل ۳۹ غزلیںہیںاورہر غزل میں پانچ پانچ اشعار ہیں۔ شاعرہ کی نگاہ رب العالمین ، محبوب رب العالمین اوران کے محبوب یعنی شہنشاہ ولایت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جانب ہے۔
زخ ش کاپورا نام زاہدہ خاتون شیروانیہ ، سال پیدائش ۱۸۹۸ یا ۱۸۹۴ء اور مقام پیدائش علی گڑھ، متحدہ ہندوستان ہے۔ کم عمری ہی میں اس عالم ناپایدار سے رخصت ہوگئیں۔ نعت پاک کے علاوہ ہندوستانیت اور عالمی سیاست پر بھی ان سے نظمیںیادگار ہیں۔ ان کی حیات وخدمات پر طویل مقالہ لکھ کرفاطمہ حسن نے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ۔ز خ ش کی لگ بھگ ساری غزلیںمسلسل یامربوط ہیں۔ان کی شاعری کابڑ احصہ منظومات پرمشتمل ہے۔
کرسکے طے نہ ملک عرفاں کو
رومی ومغربی وکرمانی
دوری ئِ بزم دوست کے غم میں
محو افغاں ہے ایک افغانی
عرش کے کنگرے پہ طائر قدس
رات کرتا تھا یوں خوش الحانی
کہ ہے انساں طلسم شان خدا
قدر اپنی نہ اس نے پہچانی
بند کیں اس نے جب ذرا آنکھیں
کھل گیا راز بزم امکانی
جانور تھا ، دیوتھا ، عفریت تھا ، شیطان تھا
باپ ہو ، بھائی ہو ، شوہر ہو کہ ہو فرزند وہ
مرد کل اشکال میں فرعون بے سامان تھا
مرد کی ناآشنا نظروں میں عورت کاوجود
ایک مورت ، اک کھلونا ، اک تنِ بے جان تھا
ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اپنے مقالہ میں لکھا ہے :
’’… زخ ش نے کم عمر پائی۔ وہ دسمبر ۱۸۹۸ء میں پید اہوئیں اور چوبیس سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ ان کے کلام کے دو مجموعے ’’’ آئینۂ حرم ‘‘ اور ’’فردوس تخیل ‘‘ منظر عام پرا ٓئے ۔ فردوس تخیل کو انھوں نے اپنی زندگی میں مرتب کردیا تھا۔ مگریہ کتاب ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔ کہا جاتاہے کہ ا ن کے والد کی ایما پر ان کی غزلوں کو جلادیا گیا تھا…‘‘
اردو کی مشہور شاعرہ کے طور پر عزیز جہاں اداجعفری کا نام سر فہرست ہے ۔ پیدائش ۱۹۲۴ ء۱ور انتقال ۲۰۱۵ ء میں ہے ۔ اردو ادب میں انھوں نے بڑ انام کیا اور پاکستان سرکار سے کئی ایوراڈ حاصل کیے۔ پہلی غزل اختر شیرانی کے میگزن رومان میں ۱۹۴۵ء میں شائع ہوئی ۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ’’ میںساز ڈھونڈتی رہی ‘‘ ۱۹۵۰ میں شائع ہوا۔ شاعری میں اداجعفری کی کئی کتابیںہیں ۔ ’’ شہردرد‘‘،’’ غزالاں تم تو واقف ہو‘‘ ،’’ حرف شناسائی ‘‘ ،’’ موسم موسم‘‘ وغیرہ ۔ ’’جورہی سو بے خبری رہی ‘‘ ان کی خودنوشت سوانح عمری ہے ۔ نظم اورغزل کے علاوہ اردومیں ہائیکو طرز پر بھی شاعری کی ۔
غزلوںکے چند اشعار :
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
جس کی باتوں کے فسانے لکھے
اس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید
سنگ ریزوں میں ڈھل گئے آنسو
لوگ ہنستے رہے دکھانے کو
جو چراغ سارے بجھا چکے انھیں انتظار کہاں رہا
یہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا
انگلی تھام کے چلنے والا
نگری کا رستا کیا جانے
ساجدہ زیدی کا سال پیدائش بیش تر کتابوں میں 1927 ء لکھا ہے۔ اپنی خود نوشت’’ نوائے زندگی‘‘ میں وہ 1926 لکھتی ہیں۔ دس سال سے کم کی عمر میں یتیم ہوگئیں۔ وہ کل پانچ بہنیں تھیں ۔سب سے بڑی صابرہ (انتقال 1969 ء روس) پھر ساجدہ، پھر زاہدہ ، پھر شاہدہ (ماسکو ریڈیو سروس)، پھر خدیجہ (فلم ایکٹر شاہد کپور کی نانی)۔ پانچوں بہنوں نے سماج میں اونچا مقام حاصل کیا۔ ساجدہ زیدی کی غزلوں پر غالب اور حالی کے اثرات ہیں۔ ان کی شاعری میں پابند نظم کا فقدان ہے۔ ان کی شاعری کا بیش ترحصہ آزاد نظم کی صورت میں ہے۔ غزل کے چند اشعار:
دریا سمجھ لیا جسے نکلا وہی سراب
اک حرف تشنگی کے گنہ گار ہم بھی ہیں
چیر دے قلب زمیں توڑ دے زنجیر زماں
چھیڑ اب اپنا فسانہ دلِ نادار کوئی
کوئی غزل کوئی نغمہ کوئی بہار کا گیت
فضائے غم کو سناؤ کہ خواب لرزاں ہیں
کھینچ لایا تھا جو اس دل کو تری محفل میں
وہی انداز نظر آج پشیماں کیوں ہے
شام سے دل میں ترازو ہے کوئی تیر ستم
رات گزرے گی نہ خوابوں کے شبستاں ہوں گے
میرا وطن یہی ہے، نذر غالب، برق نو،’’ کاغذی ہے پیرہن‘‘ ،’’میں ہر طرف ہوں ہر طرف‘‘ جیسی نظمیں پر اثر ہیں۔ انسان ہمیشہ سے محو سفر ہے اور شاید سفر کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اس قدیم نظریے کو ساجدہ زیدی نے نئے انداز میں پیش کیا ہے۔
ساجدہ کِن یگوں کی مسافت سمیٹے ہوئے
اس بیاباں میں یوں ہی بھٹکتی رہو گی
ان بگولوں کے ہم راہ یوں رقص کرتی رہو گی
اپنے ناول مٹی کے حرم (2000 ء) میں انھوں نے اپنے بہت سارے خوب صورت اشعار لکھے ہیں۔ ان اشعار کا اپنا آزادانہ وجود ہے، پھر بھی ناول کی فضا میں شمولیت نے حسن اور افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔
زاہدہ زیدی کی پیدائش بڑی بہن ساجدہ زیدی سے لگ بھگ دو سال بعد ہوئی۔ زاہدہ کو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں ملازمت ملی۔ ان کا تعلق شعبۂ انگریزی سے تھا۔ ساجدہ سے پہلے انتقال ہوا۔ شادی نہیں کی ۔ ساجدہ زیدی کی دختر نیک اختر علی گڑھ کی میڈیکل پریکٹشنر ڈاکٹر زویا زیدی نے مجھے ٹیلی فون پر بتلایا کہ ان کی خالہ زاہدہ چوبیس (۲۴) کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں تنقید، ناول، ڈراما اور شاعری کو اہمیت حاصل ہے ۔ غزل کے چند اشعار درج ذیل ہیں:
وہ ہمیں راہ میں مل جائیں ضروری تو نہیں
خود بہ خود فاصلے مٹ جائیں ضروری تو نہیں
سرخ مٹی کی ردا اوڑھے ہے کب سے آکاش
نہ شفق پھولے نہ رم جھم کہیں بادل. بر سے
جل اٹھے ذہن کے ایوان میں نظموں کے چراغ
آج پھر گرمیٔ انداز بیاں رقص میں ہے
برہنہ پا آؤ تم بھی ہم دم بس اب تو صحرائے آرزو میں
تمازتِ ریگ آگہی سے طلسم موج سراب ٹوٹے
لکھو تو خون جگر سے ہوا کی لہروں پر
یہ داستان انوکھی بھی ہے پرانی بھی
مشہور نظمیں درج ذیل ہیں :
وہ جس کا انتظار تھا، بند کمرہ، ویرانہ، موت، سنگ جاں، یہ خوابوں کے سائے، ایک نظم ، دن کا کرب، دلدل ، سراب سے سراب تک، جنگل وغیرہ۔
مہہ جبیں بانو ناز فلم انڈسٹری سے منسلک رہیں۔ فلمی دنیا میں ان کا نام مینا کماری ہے۔ سال پیدائش 1933 ء اور سال انتقال1972 ہے۔ بچپن سے ہی فلموں میں کام کرنا شروع کردیا۔ لگ بھگ 33 سال کا سفر فلمی دنیا میں رہا۔70 سے زیادہ فلمیں ان سے یادگار ہیں ۔ صوبۂ مہاراشٹر میں ان کی پیدائش ہوئی، وہیں اپنا کیریر بنایا اور وہیں انتقال بھی ہوا۔ کئی مشہور فلموں میں کام کیا اور ایوارڈ بھی پایا۔ فلم بیجو باورا، پرینیتا، صاحب بی بی اور غلام، پاکیزہ ، کاجل ، دوبیگھا زمین ، دل اپنا اور پریت پرائی ، آرتی ، میں چپ رہوں گی ، دل ایک مندر، ’’پھول اور پتھر‘‘ اور ’’میرے اپنے ‘‘ ان کی اہم فلمیں ہیں۔ ان کی غزلوں کے چند اشعار:
درد تو ہوتا ہی رہتا ہے درد کے دن ہی پیارے ہیں
جیسے تیز چھری کو ہم نے رہ رہ کر پھر دھار کیا
آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا
یہ نہ سوچو کل کیا ہو
کون کہے اس پل کیا ہو
ان کہی ان سنی سی کچھ باتیں
سونے دن اور یہ سنساں راتیں
چشم پیمانہ سے ٹپکا آنسو
کوئی بے چارہ ثوابی ہوگا
ترے قدموں کی آہٹ کو ہے دل یہ ڈھونڈتا ہردم
ہر اک آواز پہ اک تھر تھراہٹ ہوتی جاتی ہے
زندگی کیا اسی کو کہتے ہیں
جسم تنہا ہے اور جاں تنہا
زہرا نگاہ کا سال پیدائش 1935 یا 1936 یا 1937 اور مقام پیدائش غیر متحدہ ہندوستان کا حیدر آباد علاقہ ہے۔ تقسیم ملک کے بعد انھوں نے پاکستانی شہریت اختیار کرلی۔ ان کی کئی تصانیف زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ جن میں’’ شام کا پہلا تارا‘‘ اور’’فراق‘‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ شاعری میں غزل اور نظم کو انھوں نے زینت بخشی۔ ان کی نظموں میں متاع الفاظ، شام کا پہلا تارا، ایک سچی اماں کی کہانی اور مسلم مسلم فسادات کو اچھی خاصی شہرت ملی۔ ان کی غزلوں نے بھی قارئین کو کافی متاثر کیا۔
تم سے حاصل ہوا اک گہرے سمندر کا سکوت
اور ہر موج سے لڑنا بھی تمھیں سے سیکھا
بیٹھے بیٹھے کیا دل گھبرا جاتا ہے
جانے والوں کا جانا یاد آ جاتا ہے
دیکھتے دیکھتے اک گھر کے رہنے والے
اپنے اپنے خانوں میں بٹ جاتے ہیں
بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں
دیکھو خالی دامن والے اب بھی ہیں
رات گہری تھی ، مگر ایک سویرا سا تھا
میری تنہائی کے کمرے میں اندھیرا سا تھا
بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں
ٹوٹا جال سمندر پر پھیلائے ہوئے ہوں
یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو
ملے نشیب تو کوہ و دمن کی بات کرو
ہمیں تو عادتِ زخم سفر ہے ، کیا کہیے
یہاں پہ راہ وفا مختصر ہے کیا کہیے
ایسے سناٹے میں جب بار ہو آواز نفس
صورت دل ہی، کسی دل میں دھڑکتے رہیے
اپنی صاف گوئی کی وجہ سے کشور ناہید کافی مشہور ہوئیں اور انھیں بری عورت کا تمغہ ملا جسے انھوں نے خوشی سے قبول کیا اور اپنی سوانح عمری ’’بری عورت کی کتھا‘‘ کے نام سے لکھ ڈالی۔ سال پیدائش ۱۹۴۰ء اور مقام پیدائش متحدہ ہندوستان کا یونائیٹڈ پرووینس یعنی آج کا اتر پردیش والا علاقہ ہے۔ پاکستان میں ان کا خاندان شفٹ ہو گیا۔ انھوں نے ایکونومکس میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ پاکستان میں بڑے عہدوں پر فائز رہیں۔ ان کی غزلوں کا مجموعہ’’ لب گویا ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ۔ جس پر انھیں پاکستان کا آدم جی ایوارڈ ملاتھا۔شعری مجموعہ ’’ مسافت ‘‘میں نظمیں ہی نظمیں ہیں ۔ ان کی ایک ادبی تخلیق ’’ نازائیدہ بیٹی کے نام‘‘بڑی مشہور ہوئی۔غزل ہو یا نظم ہو، ہر جگہ ان کے انداز بیان میں تیکھاپن محسوس ہوتا ہے۔
حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں
میں تجھ سے مخاطب ہوں ترا حال بھی پوچھوں
اپنی بے چہرگی چھپانے کو
آئینے کو ادھر ادھر رکھا
اپنا غم اب خود ہی اٹھا لے ورنہ رسوائی ہوگی
تیرا بھید چھپا کر دل میں ناحق بوجھ اٹھائے کون
اس کے آنگن میں کھلتا تھا شہر مراد کا دروازہ
کنویں کے پاس سے خالی گاگر ہاتھ میں لے کر پلٹی میں
ان کی نظمیں بھی بڑی ہنگامہ خیز رہیں جن میں ہم گناہ گار عورتیں، خداؤ ں سے کہہ دو ، گھاس تو مجھ جیسی ہے،قید میں رقص، آخری خواہش، آنکھ مچولی،آخری فیصلہ ، اور گدھے نے بانسری بجائی کافی مشہور ہوئیں۔
پاکستانی شاعرہ شبنم شکیل کا سال ولادت 1942اور سال انتقال2013 ہے۔ اردو ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور پاکستان کے کالج میں لکچرر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں۔ ان کی پہلی کتاب ’’تنقیدی مضامین‘‘' کے نام سے 1965ء میں شائع ہوئی۔ شب زاد، اضطراب، تقریب کچھ تو، مسافت رائیگاں وغیرہ ان کی دیگر کتابیں ہیں ۔ان کے چند اشعار:
کچھ تو لکھی ہیں اپنے مقدر میں گردشیں
کچھ پیار میں نباہ کا دستور بھی نہیں
تم بھی قصور وار نہیں قصہ مختصر
میرا تمہارے ساتھ ستارہ نہ مل سکا
لبوں پہ مہر خموشی لگائی جاتی ہے
اور اس کے بعد ہمیں سے سوال ہوتا ہے
محبت ہے ہمیں اک دوسرے سے
یہ آپس میں بتانا پڑ رہا ہے
کتنے آسان راستے ہوتے
ہم اگر ساتھ چل رہے ہوتے
بے وفا سے سوال کیا کرنا
زندگی کو وبال کیا کرنا
ہزار بار سنا پھر بھی دل نہیں مانا
کہ میرے پیار سے دل اس کا بھر گیا ہوگا
فہمیدہ ریاض کا سال پیدائش ۱۹۴۵ یا ۱۹۴۶ ء اور مقام پیدائش متحدہ ہندوستان کا میرٹھ والا علاقہ ہے۔ ابا جان کا نام ریاض ہے جو صوبہ سندھ میں معلم تھے۔ بٹوارے کے بعد پورا خاندان پاکستان شفٹ ہو گیا۔ کم عمری میں ہی فہمیدہ یتیم ہوگئیں۔اردو ادب اور پاکستانی سیاست میں فہمیدہ ریاض کا وجود ہنگامہ خیز رہا۔ پہلا مجموعہ کلام ’’پتھر کی زبان‘‘ ۱۹۶۷ ء میں شائع ہوا، اس کے بعد دوسرے مجموعے ’’بدن دریدہ‘‘ کی اشاعت کے ساتھ ہی وہ اردو ادب اور پاکستانی معاشرے میں مشہور اور بدنام ہوگئیں۔’’آواز ‘‘نام کے نیم ادبی نیم سیاسی میگزین کی وہ ایڈیٹر تھیں۔ پاکستانی صدر جنرل ضیاء الحق نے ’’آواز‘‘ کو بند کرنا چاہا۔ فہمیدہ ریاض اور ان کے شوہر ظفر علی کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا۔ ۱۹۸۱ء ء میں وزیر اعظم اندرا گاندھی نے انھیں ہندوستان بلا لیا۔جامعہ ملیہ دہلی میں پڑھانے کا ان کو موقع ملا۔ ان کا ناول ’’ گود اوری‘‘ اسی زمانے کی تخلیق ہے۔جنرل ضیاء الحق کے انتقال کے بعد ۱۹۸۷ء کے اخیر میں وہ پاکستان واپس ہوگئیں۔چھ شعری مجموعے شائع ہوئے، جن کی کلیات ’’سب لعل و گہر‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ان کی غزل کے چند اشعار:
کیا میرا زیاں ہے جو مقابل ترے آجاؤں
یہ امر تو معلوم ہے کہ تو مجھ سے بڑا ہے
تزئین لب و گیسو کیسی ، پندار کا شیشہ ٹوٹ گیا
تھی جس کے لیے سب آرائش، اس نے توہمیں دیکھا ہی نہیں
میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمت
کشش عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں
کس سے اب آرزوئے وصل کریں
اس خرابے میں کوئی مرد کہاں
سرٹیفیکیٹ کے مطابق فاطمہ حسن کا سال پیدائش 1952 ء ہے، اسی مناسبت سے ان کا ریٹائرمنٹ۲۰۱۲ ء میں ہوا۔ پورا نام سیدہ انیس فاطمہ زیدی ہے۔ نسائی تنقید و تحقیق میں ان کے کارنامے کافی اہم ہیں۔’’ خاموشی کی آواز‘‘،’’ فیمینزم اور ہم‘‘، ’’بلوچستان کا ادب اور خواتین‘‘،’’ زخ ش: حیات و شاعری‘‘ اور ’’اردو شاعرات اور نسائی شعور سو برس کا‘‘ جیسی تحقیقی کتا بیں اپنی مثال آپ ہیں۔ اردو شاعری میں بھی بڑا نام ہے ان کا ۔ان کی ایک غزل نسائی حسیت کی ترجمان ہے، یہ ان کی جانب سے دعویٰ بھی ہے، فریاد بھی اور مشورہ بھی:
آنکھوں میں نہ زلفوں میں نہ رخسار میں دیکھیں
مجھ کو مری دانش مرے افکار میں دیکھیں
سو رنگ مضامین ہیں جب لکھنے پہ آؤں
گلدستۂ معنی مرے اشعار میں دیکھیں
پوری نہ ادھوری ہوں نہ کم تر ہوں نہ برتر
انسان ہوں انسان کے معیار میں دیکھیں
رکّھے ہیں قدم میں نے بھی تاروں کی زمیں پر
پیچھے ہوں کہاں آپ سے رفتار میں ، دیکھیں
منسوب ہیں انسان سے جتنے بھی فضائل
اپنے ہی نہیں میرے بھی اطوار میں میں دیکھیں
اس قادر مطلق نے بنایا ہے ہمیں بھی
تعمیر کی خوبی اسی معمار میں دیکھیں
نسائی حسیت کی اہم آواز پروین شاکر کی ہے۔ ان کے آبا و اجداد کا تعلق ضلع دربھنگا صوبہ بہار متحدہ ہندوستان سے تھا۔ بٹوارے کے وقت وہ خاندان مغربی پاکستان چلا گیا۔ وہیں 1952 ء میں پروین کی پیدائش ہوئی۔ ان کے ابا جان کا نام شاکر ہے۔ خوب صورت اور پر اثر غزل، پابند نظم، آزاد نظم و نثری نظم اور نثری تحریر ان کی یادگار ہیں۔ 1994 ء میں سڑک حادثہ کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔ طرز تحریر میں نرمی اور اثر آفرینی ہے۔کلیم الدین احمد نے نظیر اکبر آبادی کو اردوشاعری کا درخشندہ ستارہ کہا ہے، کافی حد تک اردو شاعری کی نسائی آوازوں میں پروین شاکر کی وہی اہمیت ہے۔
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
کا نپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو
کٹ جائیں میری سوچ کے پر ، تم کو اس سے کیا
وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے
موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے
ہماری زندگی برباد کر کے
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا
بشریٰ فرخ کا سال پیدائش 1957ء اور مقام پیدائش پیشاور کا علاقہ ہے ۔ پاکستان ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے ان کا تعلق رہا۔ شاعری میں بھی انھوں نے اچھا خاصا تعاون کیا ہے۔
وہ اک دیوار ہے حائل ہمارے درمیاں جو
کسی روزن کا اس میں اب کوئی امکاں نہیں ہے
اگرچہ کھا گئی دیمک غموں کی بام و در کو
مگر ٹوٹی ابھی تک یہ فصیل جاں نہیں ہے
یہ دو لفظوں کا رشتہ نبھ تو جاتا ہے مگر بشریٰ
کہیں جیون نہیں ملتا، کہیں ساتھی نہیں ملتا
کہتی رہوں آقا میں تری نعت مسلسل
ہوتے رہیں یہ کشف و کرامات مسلسل
کٹ جائے سہولت سے، اگر جود و کرم کی
ملتی رہے بس آپ سے خیرات مسلسل
طیبہ کو ہی ہم راہ گزر کرتے رہے ہیں
یوں حق و صداقت کا سفر کرتے رہے ہیں
انداز ترے حسن تکلم کے عجب تھے
جو دشمن جاں پر بھی اثر کرتے رہتے ہیں
دل کی لوح پہ نقشیدہ ہر لفظ محبت میں بشری
زبریں ، زیریں ، پیشیں ، نقطے ، سارے اس کے نام رہے
بشریٰ فرخ کی تحریر کردہ کئی کتابیں قارئین سے داد تحسین وصول چکی ہیں۔
اک قیامت ہے لمحہ موجود۔ اردو شاعری
ادھوری محبت کا پوراسفر۔ اردو شاعری
بہت گہری اداسی ہے۔ اردو شاعری: تیسرا مجموعہ کلام
جدائی بھی ضروری ہے۔ ار دو شاعری
مجھے آواز مت دینا۔ اردو شاعری
ورفعنا لک ذکرک ۔ اردو نعتیہ شاعری
تو کجا من کجا۔ اردو نعتیہ شاعری
خمینی کے ایران میں۔ سفرنامہ
محبتاں دے مزاج وکھرے۔ ہند کو شاعری
فوزیہ رباب کی تاریخ پیدائش 25 جولائی 1988 ء اور مقام پیدائش احمد آباد گجرات ہے۔ سرٹیفیکیٹ کا نام فوزیہ قریشی ہے ۔مورخہ 29 مئی 2010ء کو شادی ہوئی۔ ایک پیاری سی بچی پیدا ہوئی ۔ اس بچی کا ذکر شاعرہ کے پہلے مجموعہ کلام ’’آنکھوں کے اس پار‘‘ میں ہے ۔
اب محبت کی اور کیا حد ہو
میری بیٹی میں تو جھلکتا ہے
یہ شعر ایک پر فیکٹ مشرقی خاتون کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے جس کی پہلی ترجیح سسرال، شوہر اور بچوں تک محدود ہوتی ہے۔ ہندوستانی سماج میں مذہب بھی ایک بنیادی عنصر ہے۔ اس شاعرہ کے کلام میں کلمہ طیب کی بازگشت سنائی پڑتی ہے۔
اپنی ہستی تری چاہت میں مٹالی مولیٰ
لب ہیں خاموش رہی چشم سوالی مولیٰ
بھیجتی ہوں ترے محبوب کو صد بار درود
تجھ سے ملنے کی یہ تدبیر نکالی مولیٰ
اس شاعرہ کا پہلا مجموعہ کلام 2017 میں عرشیہ پبلیکیشنس دہلی نے شائع کیا۔ کم وبیش و بیش ڈیڑھ سوصفحات پر مشتمل اس مجموعہ کلام میں غزلیں اور نظمیں ہیں۔ جن میں مذہبیت کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کے عام تجربات پیش ہوئے ہیں۔
اردوشاعرات کے کلام سے منتخب چند اشعار
سدا سے ترے مجھ پہ انعام ہیں
ہیں انعام بھی اور اکرام ہیں
جو مانگا دیا، اور دیا بے طلب
پھر ی میں ، ترے در سے محروم کب
(سیدہ خیر النساء بہترؔ)
تیری ثنا کروں کیا یا رب العالمین
ایاک نعبد و ایا ک نستعین
تیرے ہی در پہ مولیٰ جھکتی ہے یہ جبین
ایاک نعبد و ایا ک نستعین
(اسرٰی منظور)
میرے مولیٰ مجھے بھی قوت دے
نام تیرا میں لوں یہ جرأت دے
چاروں جانب ترا ہی جلوہ ہے
دیکھنے کی مجھے بصیرت دے
(الفت شاکر)
آئینۂ دنیا میں ہر سمت سجا ہے تو
ہر زخم کا مرہم ہے ہر غم کی دوا ہے تو
اب تیرے سوا کوئی آنکھوں میں نہیں جچتا
اس قلب کی دھڑکن میں اب نغمہ سرا ہے تو
(اناؔ دہلوی)
کلی کو حسن تو پھولوں کو بھی شباب دیا
خدا نے چاہا تو گلشن کو بے حساب دیا
رہِ وفا کی سبھی مشکلیں ہوئیں آساں
سیاہ شب کے مسافر کو ماہتاب دیا
(اناؔ سلیم)
پنجاب کو دیکھو تو اک آگ کا دریا ہے
کشمیر میں جنت کی تصویر نہیں ملتی
وہ مری راہ میں پتھر کی طرح رہتا ہے
وہ مری راہ سے پتھر ہٹا بھی دیتا ہے
میں خود کو بھول نہ جاؤں بھٹک نہ جاؤں کہیں
وہ مجھ کو آئینہ لا کر دکھا بھی دیتا ہے
(انجنا سدھیر)
جب وفا کرتے ہیں ہم صرف وفا کرتے ہیں اور جفا کرتے ہیں جب صرف جفا کرتے ہیں
فکر و احساس پہ پردہ ہے حیا کا ورنہ
ہم غلط بات نہ سنتے نہ کہا کرتے ہیں
(لتاحیا)
کس نے یہ زلفیں کھولی ہیں بھیگا بھیگا موسم ہے
بادل کا یہ آگ لگانا میں بھی دیکھوں تو بھی دیکھ
فی الحال یہ کافی ہے کہ تم خود کو بدل لو
دنیا کو بدلنے میں ابھی وقت لگے گا
کسی پرندے نے اڑنے کا من بنایا ہے
وہ اور کوئی نہیں میرا ہی تو سایہ ہے
آراد ھنا پر ساد
تم نہ آؤ گے، جانتی ہوں، مگر
آس دل میں لگی سی رہتی ہے
ہم تو راضی تھے ساری شرطوں پر
کیا ضرورت تھی آزمانے کی
ایک شہزادہ دل میں رہتا ہے
دل ہمارا غریب تھوڑی ہے
شویتا شریواستو
سجانا ہے کبھی ہاتھوں میں منہدی کی طرح تم کو
کبھی آ نکھوں میں کاجل سا سما کر ساتھ رکھناہے
میں رہوں گی سنگ سداترے تو جہاں رہے مرے ہم سفر
مراا ٓشیاں تیرے دل میں ہے مری چاہ کوئی قلعہ نہیں
ان اندھیروں سے کوئی خوف نہیں ہے مجھ کو
میں سمجھتی ہوں، یہاں نور کی بارش ہوگی
آرتی کماری
دل کی باتیں میں سمجھ پائی نہیں
اور تم نے بھی تو سمجھائی نہیں
اثر میں ہوں تمہارے یہ تو سچ ہے
مگر اتنا گماں اچھانہیں ہے
اسے بچانا تھا ، تیراک بھی نہیں تھی میں
مجھے یہ فیصلہ مشکل میں ڈال سکتا تھا
رِتو کو شک
وہ ضرور ائے گا اک آس لگالی میں نے
گھر کی ہر چیز قرینے سے سجالی میں نے
جو کہنا چاہتی ہوں تم وہ سمجھو
مری باتوں کا وہ مطلب نہیں ہے
سفر حیات کاپر لطف ہے مگر اے دوست
مصیبتیں بھی اسی رہ گزر میں رہتی ہیں
ترونا مشرا
تیورِ دریا کا شکوہ ہے نہ طوفان کا گلا
میری پتواریں خطا تھیں بادباں بدخواہ تھا
شہناز نبی
مروت میں کوئی کہاں تک نبھائے
کہ جان پر بنی ہو تو کیا فائدہ ہے ترنم ریاض
میرا کیا ہے
بچپن کی پہلی ٹھوکر سے جس نے سنبھلنا سیکھ لیا ہو
نازک کچی عمر سے جس نے آگ پہ چلنا سیکھ لیا ہو
ڈر سے باہر آکر جس نے ہرپل مرنا سیکھ لیا ہو
اڑ نا جس کا مقصد ہو اور جس نے اڑنا سیکھ لیا ہو
میں کیوں سوچوں، تبسم فاطمہ
کسی کے لئے پایۂ تخت ہے یہ
کسی کے لیے ایک زندان آنگن
عشرت آفریں
آگ بہتے ہوئے پانی میں لگانے آئی
تیرے خط آج میں دریا میں بہانے آئی
انجم رہبر
مٹی کا گھر ہی میرا مقدر تھا حشر تک
شیشے کا میں مکان بنانے میں رہ گئی
تبسم فرحانہ
شوق ہے جنگ جیتنے کا اگر
اپنے ہاتھوں پر اپنا سر رکّھو
توڑ ڈالیں جو سب سلاخوں کو
اتنے مضبوط اپنے پر رکّھو
ہماظفر
ہم دنیا کے بازاروں میں کشکول اٹھائے پھرتے ہیں
ہر چیز یہاں مل جاتی ہے بس پیار کا ملنا مشکل ہے
رخشاں ہاشمی
آج کیسی وہ مجھ کو سزا دے گیا
زندہ رہنے کی پھر وہ دعا دے گیا
عالیہ انصار
سمجھ لے گی ترے آنسو کو کمزوری تری دنیا
کسی بھی غیرکے گھر لیکے جانا پھر نہیں آ نسو
تبسم ناز
سرخ جوڑے میں دلھن بن کے نکھر جاؤں گی
وہ اسی سوچ میں تنہائی جیے جاتی ہے
نو شابہ عظیم
ان چراغوں کو جلانے کی ہے کوشش بے کار خوف کے مارے جو بجھ جائیں ہوا سے پہلے سنجیدہ عنبری
زندگی جب بھی آزماتی ہے
کچھ نہ کچھ تو ہمیں سکھاتی ہے
ہر طرف محفلیں خیالوں کی
عشق کے شاہی محکمے میں ہوں
باقی سب کچھ دنیا میں بے معنی ہے
میری نظر میں ایک توہی لاثانی ہے
پونم یادو
شاعرات کاایک خاص معیار ہے جسے حد بندی بھی کہہ سکتے ہیں۔ حد کو پار کرنا انہیں پسند نہیں۔ خالق کائنات نے مٹی کو ایک خاص مزاج دیا۔ دوسری جانب آگ اور پتھر بھی ہے جس کا مزاج الگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قطب مشتری، بہرام و گل اندام، پھول بن، سحر البیان،گلزار نسیم ،زہر عشق، لذت عشق، سوز و گدازیا اس طرح کی مثنوی لکھنے پر شاعرات کو قدرت حاصل نہیں۔ یہ اچھا بھی ہے۔ ہندی میں پدماوت، چتر اولی، مرگاوتی، اور اس طرح کی مثنویاں اسی انداز میں ہیں۔ سب کی کہانی کا بنیادی ڈھانچہ ایک ہی ہے۔ کسی لڑکا نے ایک لڑکی کا ذکر سنا یا تصویر دیکھی یا ایک جھلک نظر آئی تو دیوانہ وار اس کے پیچھے پڑ گئے۔ جان، مال،عزت، آبرو، ماضی، حال، مستقبل، مذہب، اخلاق، آبرو، شرم ،حیا وغیرہ کا خیال نہیں رکھا اور اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اردو کے قد آور مثنوی نگاروجہی ، غواصی ، میر حسن ، دیا شنکر نسیم یامرز اشوق نے جو طرز تحریر اختیار کیا،اس کی نقل کرنا شرمناک ہے۔جھاڑو مار عشق اور بے حیا طرز تحریر سے اللہ تو بہ۔ اگر ادب کی گنتی علم کی شاخ کے طور پر کی جائے تو مثنوی کے ذخیرہ کو علم ادب نہیں بلکہ علم بے ادب سے تعبیر کرنا مناسب ہوگا۔
خواتین شعرا کا ضابطۂ اخلاق افلاطون سے بلند تر ہے۔ شاعرات نے کم لکھا پھر میں انسانی ضرورت کے مطابق لکھ دیا۔زندگی کی پر خطر، ٹیڑھی میڑھی، خاردار اور نا آشنا راہوں میں اردو شاعری کی نسائی آوازیں رہنمائی کرتی ہیں۔اگر ان کے اثرات مثبت نہیں تو منفی بھی نہیں۔
***
Dr . SUFIA FATIMEE
MRM COLLEGE,DARBHANGA - 846004
MOB. 7763051364
***
یہ مضمون ماہنامہ قادرالکلام انٹرنیشنل، جلد (1)، شمارہ (12)، ستمبر 2026ء میں شائع ہوا ہے۔ اسے قارئین کے مطالعے اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے احباب کی علمی و ادبی استفادے کے لیے ویب سائٹ پر پیش کیا جا رہا ہے۔

No comments:
Post a Comment