📖 زیرِ نظر تحقیقی مضمون ’’مجاہدِ آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات‘‘ شہینا ناز (ریسرچ اسکالر، جمشید پور) نے تحریر کیا ہے، جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی ادبی و فکری خدمات کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
شہینہ ناز (ریسرچ اسکالر، جمشید پور)
مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کے لیے کثیر الجہات اور جامع صفات جیسے الفاظ عموماً استعمال کر دئیے جاتے ہیں۔ در اصل مولانا آزاد جیسی شخصیتوں کے لیے بنے ہی نہیں ہیں ان کی شخصی اور دانش ورانہ توانائیاں اتنی شدید اور وسعت آشنا ہوتی ہیں کہ وہ کسی ایک شناخت، راہ اور سمت میں محدود نہیں رہ سکتیں۔ ایسی شخصیتیں در اصل شخصیتوں کا ایک مجموعہ ہوتی ہیں اور وہ ہر لمحہ خود اپنے آپ کو اور اپنے اطراف کی دنیا کو تراشیدم، پرستیدم، شکستم کی رو میں بناتی، توڑتی اور پھر بناتی رہتی ہیں۔ ایسی شخصیتیں خارج کی بجائے خود اپنے آپ میں مرکوز ہوتی ہیں اور ان کی تخلیقی انفرادیت اس مرکز سے شعور و ادراک اور باہری دنیا کے زمین و آسمان پر تصورات و خیالات کے حملے کر کے انہیں اپنازیر نگیں کرتی رہتی ہے۔مولانا آزاد بہ یک وقت ایک بے پناہ عالم دین، دیدہ ور اور نکتہ رس مفسر قرآن، انسان شناس مفکر، سماجی و سیاسی ادراک کے منتہی، نہایت جری و بے باک صحافی، عربی و فارسی شعر و ادب کے پارکھ، اردو کے منفر دانشا پرداز، سحر طر از خطیب، سیاست دان، مدیر، منتظم، ادارہ ساز اور سب سے بڑھ کر نفیس ترین انسانی و اخلاقی اقدار کی حامل ایک ایسی تہذیبی شخصیت تھے جسے قدرت کی طرف سے اشیا اور افکار وحالات کی ماہیت کی گہرائیوں تک نہایت برق رفتاری سے پہنچ سکنے والی نورانی ذہانت اور بصیرت بخشی گئی تھی۔ ان کی عبقری شخصیت کے ان تمام پہلوؤں پر الگ الگ اور مجموعی اعتبار سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ یہاں ہمارا مقصد اس پوری وسعت کا احاطہ کرنا نہیں ہے۔ ہماری دل چسپی یہاں مولانا آزاد کی تخلیقی انفرادیت اور حرکی توانائی کے اس وفور سے ہے جو بہت کم عمری میں ہی ان کی ذات کے آئینے میں منعکس ہونے لگی تھی اور جس نے ان کے زمیں گیر اور آسماں پیما تخیل اور دانش کو فکر و عمل کے ان سانچوں میں ڈھالا جن کی یک جائی کو آج ہم مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے جانتے ہیں۔
دس پندرہ سال کی عمر میں جب عام انسانوں کا جسم تک ٹھیک سے دیکھنا اور بولنا شروع نہیں کرتا ابو الکلام کے ذہن و احساس اور ان کی روح تک نے دیکھنا، محسوس کرنا، سوچنا اور کلام کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کی تعلیم و تربیت ان کے والد کی سخت گیر نگرانی میں ہوئی تھی جو اپنے وقت کے جامد اور طے شدہ مذہبی خیالات کے حامل ایک عالم دین اور ساتھ ہی ایک مشہور پیر تھے۔ آزاد کے بچپن کے تخیل نے اپنے والد کے مریدوں کو احترام و عقیدت کی پر چھائیوں کی شکل میں دیکھا تھا جن کا اپنا کوئی وجود نہیں تھا اور جو محض اپنے پیر کا عکس تھے۔ پیر زادے کی حیثیت سے آزاد کو ان مریدوں کے طفیلی احترام و عقیدت میں ایک عجیب کی جارحیت محسوس ہوتی تھی۔ یہ ماحول ان کے اندر زیرپرورش انفرادی شعور کے لیے ایک چیلنج کی طرح تھا۔ وہ اسے پوری طرح سمجھ تو نہیں پارہے تھے مگر انہیں اپنے اندر کہیں گہرائی میں اس سب کے خلاف ایک بغاوت کا احساس روشن ہوتا نظر آتا تھا۔ وہ کہتے ہیں:
’’... واقعہ یہ ہے کہ ابھی میری تعلیم ختم نہیں ہوئی تھی اور زیادہ سے زیادہ میری عمر تیرہ برس کی تھی کہ میرا دل اچانک اپنی موجودہ حالت اور ارد گرد کے منظر سے اچاٹ ہو گیا اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں کسی اچھی حالت میں مبتلا نہیں ہوں۔ یہ بے اطمینانی بڑھتی گئی تھی کہ مجھے ان ساری باتوں سے جو لوگوں کی نظروں میں انتہا درجہ عزت و احترام کی باتیں تھیں، ایک طرح کی نفرت ہو گئی اور میں اندر ہی اندر ان باتوں پر شرم اور ذلت محسوس کرنے لگا۔ اب جو لوگ میرا ہاتھ پاؤں چومتے تو مجھے محسوس ہو تا کہ گویا ایک بہت ہی سخت برائی کا کام ہو رہا ہے۔ چند دن پہلے ہی یہی منظر میرے لیے نہایت ہی فخر و غرور کا باعث تھا۔‘‘
ذکر آزاد، صفحہ ۶۵۲))
یہ مولانا کے انفرادی شعور اور ان کی روح کی بیداری کا زمانہ ہے جب وہ خود اپنے آپ پر دھیرے دھیرے گھل رہے تھے۔ اپنے آپ میں آنے کا یہ لازمی واقعہ، لا سے الا تک سفر کی یہ پہلی جنبش ہی عظیم شخصیتوں کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد کا کام کرتی رہی ہے۔ آزاد کا نوخیز شعور اپنی تمام تر انفرادی توانائی کے ساتھ اپنے گھر اور خاندان کی بخشی ہوئی موروثی پہچان اور عزت و احترام کے خلاف پوری قوت سے انحراف کر رہا تھا کہ جیسا کہ ان کی بعد کی ساری زندگی سے ظاہر و ثابت ہونا تھا ان کا وجودی شعور تقلید کی کسی بھی شکل کا بوجھ ڈھونے کو تیار نہیں تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی غیر معمولی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس عمر میں بچے کھیل کود اور بے فکری میں مصروف ہوتے ہیں، اسی زمانے میں انھوں نے علم و ادب کی دنیا میں اپنی شناخت قائم کرنا شروع کر دی تھی۔ کم سنی ہی میں ان کے اندر مطالعے، تحریر اور صحافت کا ایسا ذوق پیدا ہوا جس نے انھیں مستقبل کا ایک عظیم ادیب، صحافی اور مفکر بنا دیا۔ انھوں نے بچپن میں شاعری کا آغاز کیا اور جلد ہی ادبی و صحافتی سرگرمیوں میں سرگرم ہو گئے۔ ابتدا میں مختلف رسائل و جرائد کی اشاعت اور ادارت کے ذریعے اپنی علمی صلاحیتوں کا اظہار کیا، جن میں نیرنگ خیال کے اجرے کے ساتھ ساتھ، لسان الصدق اور المصباح بھی نمایاں ہیں۔
بعد ازاں مولانا آزاد نے اردو صحافت کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کا ہفتہ وار’ الہلال‘ نہ صرف اپنے عہد کا سب سے مؤثر اخبار ثابت ہوا بلکہ اس نے قومی بیداری، آزادی کے جذبے اور سیاسی شعور کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ’ البلاغ‘ نے بھی اسی روایت کو آگے بڑھایا اور برطانوی استعمار کے خلاف عوامی آواز بن کر ابھرا۔ ان کے علاوہ انھوں نے متعدد اخبارات و رسائل کی ادارت کی اور تحریکِ آزادی کے مقاصد کو عام کرنے کے لیے پیغام جیسے ہفتہ وار جریدے کا اجرا بھی کیا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا عقیدہ تھا کہ ہندوستان کی آزادی صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ دونوں قومیں برطانوی حکومت کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کا شکار نہ ہوں۔ مشرقِ وسطیٰ اور فرانس کے سفر کے دوران انھوں نے فرانسیسی زبان سیکھی اور بعد میں تاریخ، ادب اور فلسفے پر بھی گہرا عبور حاصل کر لیا۔ جولائی 1912ء میں مولانا آزاد نے کلکتہ سے ہفتہ وار الہلال جاری کیا، جو اردو صحافت کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس اخبار کے ذریعے انھوںنے مسلمانوں میں صحیح اسلامی تعلیمات، قومی شعور اور جذبۂ آزادی کو فروغ دیا۔’ الہلال ‘کی زبان نہایت مؤثر، پُرجوش اور خطیبانہ تھی، جس نے عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ حکومت ِ برطانیہ نے اس کے انقلابی افکار سے خوف زدہ ہو کر اس پر بار بار پابندیاں عائد کیں اور آخرکار 1914ء میں اسے بند کر دیا۔اس کے بعد 1915ء میں انھوںنے’ البلاغ‘ جاری کیا، لیکن یہ اخبار بھی مارچ 1916ء میں بند کر دیا گیا۔ اسی دوران حکومت نے مولانا آزاد کو کلکتہ سے نکال کر رانچی میں نظر بند کر دیا۔ رانچی میں قیام کے دوران انھوں نے تذکرہ جیسی اہم تصنیف لکھی، ایک مدرسہ قائم کیا، قرآنِ کریم کا درس دیا اور انجمن اسلامیہ رانچی کی بنیاد رکھی۔ یکم جنوری 1920ء کو رہائی کے بعد مولانا آزاد کی پہلی ملاقات مہاتما گاندھی سے ہوئی۔ انھوں نے گاندھی جی کی تحریکِ عدم تعاون کی بھرپور حمایت کی اور تحریکِ خلافت میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ اسی عرصے میں وہ باقاعدہ انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ ہوئے اور مسلمانوں کو تحریک ِ آزادی میں شامل کرنے کے لیے حزب اللہ کی تحریک بھی شروع کی، اگرچہ یہ تحریک زیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔ جیل میں رہ کر مولانا آزاد نے اپنی زندگی کی مصروفیات کو خطوط نگاری کے مشغلے میں صَرف کردیا۔ ان کے خطوط کا مجموعہ ’’غبارِ خاطر‘‘ ہے، جس کو پڑھنے سے ان کی شخصیت کی انفرادیت، انانیت، فکر و فلسفہ کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے خطوط ان کی آپ بیتی اور جگ بیتی دونوں ہیں۔ ان کے خطوط سے ان کی انشا پردازی، حیات و کائنات کے بارے میں فلسفیانہ باتیں اور ایشیا کے مفکروں کے خیالات نظر آتے ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد کے تعلیمی نظریات
مولانا ابوالکلام آزاد کا بنیادی فلسفہ ٔ حیات اور ان کے تعلیمی نظریات ان کے تعلیمی اقدامات اور پالیسیوں میں واضح طور پر نمایاں تھے۔ وہ قوم کی تعلیمی ترقی کے لیے ضروری اصلاحات کے حامی تھے۔ انہیں جمہوریت پر کامل یقین تھا، اسی لیے انھوں نے تعلیم کے عالمگیر فروغ (Universalization of Education) اور ''حصولِ کامیابی '' (Achievement Orientation) پر زور دیا۔مولانا آزاد نے تین زبانوں کے اصول کی حمایت کی۔ ان کے مطابق ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں علاقائی زبانوں اور ہندی کو ذریعۂ تعلیم بنایا جانا چاہیے، جب کہ اعلیٰ تعلیم اور عالمی سطح پر رابطے کے لیے انگریزی کو ایک اہم زبان کی حیثیت دی جانی چاہیے۔ آج قومی تعلیمی پالیسی 1986 (NPE 1986) میں اختیار کیا گیا تین زبانوں کا فارمولا اسی نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔ مولانا آزاد کا عقیدہ تھا کہ ''ہر فرد کو تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ حق فراہم کرے۔'' یہ نظریہ آج کے حقِ تعلیم قانون (Right to Education Act, 2009) سے مماثلت رکھتا ہے، جس کے تحت ملک کے ہر بچے کو تعلیم کا حق حاصل ہے۔
وہ چودہ سال کی عمر تک تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی ابتدائی تعلیم کے حامی تھے۔ ان کا یہ نظریہ تعلیمی منصوبہ بندی کے سماجی تقاضوں پر مبنی تھا۔ اسی مقصد کے لیے حکومت ہند نے سرو شکشا ابھیان (Sarva Shiksha Abhiyan) جیسے پروگرام شروع کیے تاکہ ہر بچے تک تعلیم پہنچ سکے۔ اسی طرح چائلڈ لیبر ایکٹ کے ذریعے کم عمر بچوں سے مزدوری کے خلاف اقدامات نے ابتدائی تعلیم میں تعطل اور تعلیمی ضیاع کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔تعلیم کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ملک میں متعدد تعلیمی ادارے قائم کیے گئے۔ مولانا آزاد ثانوی تعلیم میں تنوع پیدا کرنے اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم (Vocational Education) کو فروغ دینے کے حامی تھے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں۔انھوں نے تعلیمی منصوبہ بندی میں سماجی انصاف کو بنیادی حیثیت دی اور خواتین، درج فہرست ذاتوں (SC)، درج فہرست قبائل (ST)، معذور افراد اور بالغوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ ان کے مطابق خواتین کو آزاد ہندوستان کی باوقار شہری کی حیثیت سے تعلیم یافتہ ہونا چاہیے کیونکہ خاندانی اور قومی ترقی میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔ ملک میں تقریباً 85 فیصد ناخواندہ آبادی کو تعلیم دینے کے لیے انھوں نے تعلیمی اخراجات میں اضافہ کرتے ہوئے بجٹ کا حصہ ایک فیصد سے بڑھا کر دس فیصد کرنے کی سفارش کی۔ آج قومی خواندگی مہم (National Literacy Mission) اور خواتین کو بااختیار بنانے کی حکومتی پالیسیاں مولانا آزاد کے تعلیمی نظریات کی عملی جھلک پیش کرتی ہیں۔مولانا آزاد کا کہنا تھا کہ:
''سائنس غیر جانب دار ہے؛ اس کی دریافتوں کو انسانوں کی شفا کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور تباہی کے لیے بھی۔''
سیدین، کے۔ جی۔ 1990)۔) فلسفۂ تعلیم۔ وکاس پبلشنگ ہاؤس، صفحہ 64۔
وہ صرف اسلامی یا مشرقی فکر تک محدود نہیں تھے بل کہ مغربی سائنس اور ہندوستانی علمی روایت کے درمیان ایک مضبوط پل قائم کرنا چاہتے تھے۔انھوں نے مصر، ترکی، چین اور جاپان جیسے ممالک کی مثال دیتے ہوئے اعلیٰ تعلیم میں انگریزی کو ذریعۂ تعلیم کے طور پر قبول کرنے کی حمایت کی۔ ان کا خیال تھا کہ مغربی سائنس اور تعلیم کی ترقی سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم ہندوستانی زبانوں کو بھی ترقی دینا ضروری ہے۔مولانا آزاد نے دیہی علاقوں کی ترقی اور وہاں تعلیمی اداروں کے قیام پر زور دیا۔ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت معیاری اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے خواہاں تھے، جس کے لیے انھوں نے متعدد اداروں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔1947ء میں انھوں نے دہلی میں سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (Central Institute of Education) قائم کیا، جو آج دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تعلیم کا حصہ ہے۔ اس ادارے کا مقصد ملک کو درپیش نئے تعلیمی مسائل پر تحقیق کرنا تھا۔انھوں نے اساتذہ کی تربیت کو معیاری تعلیم کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ بطور پہلے وزیرِ تعلیم، انہوں نے 1951ء میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کھڑگپور (IIT Kharagpur) کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تاکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی اعلیٰ تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ بعد ازاں ممبئی، چنئی، کانپور اور دہلی سمیت دیگر شہروں میں بھی آئی آئی ٹی قائم کیے گئے۔1953 میں ان کی قیادت میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) قائم کیا گیا، جو ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار، ضابطوں اور مالی معاونت کا اہم ادارہ ہے۔ انہوں نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو (IISc) کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (CSIR)، انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ (ICSSR) اور سنٹرل بیورو آف ٹیکسٹ بک ریسرچ جیسے اداروں کے قیام اور فروغ میں بھی فعال کردار ادا کیا، جنھوں نے ملک میں ہر سطح پر تعلیم اور تحقیق کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
SHAHINA NAAZ
Research Scholar Ranchi universty,
Ranchi, Jharkhand, PIN 834001 ***
📚 مولانا آزاد کی ادبی و فکری خدمات پر یہ اہم تحقیقی مضمون مکمل پڑھنے کے لیے قادرالکلام ماہنامہ کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
🌐 www.qadirulkalam.com
📖 قادرالکلام — اردو ادب، تحقیق اور تنقید کا معتبر پلیٹ فارم

No comments:
Post a Comment