یہ مضمون ’’تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ‘‘ کے عنوان سے پروفیسر مجید بیدار کا ایک تحقیقی و تاریخی مطالعہ ہے۔ اس میں 1857ء سے 1947ء تک اردو صحافت، اخبارات و رسائل اور ممتاز صحافیوں کی جدوجہدِ آزادی میں خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون اردو صحافت کے ذریعے قومی شعور، حب الوطنی اور آزادی کی تحریک کو فروغ دینے کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔
پروفیسر مجید بیدار
جمہوریت میں صحافت کو تیسری آنکھ کا درجہ حاصل ہے۔ تحریک ِآزادی ہی نہیں بلکہ جدوجہد ِآزادی میں ہندوستان کی صحافت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس قدر انقلابی نعرے اور وطن پرستی کے جذبات کو ابھارنے میں اردو زبان نے حق ادا کیا ہے‘ اس کی مثال ہندوستان کی دوسری زبانوں میں ملنی مشکل ہے۔ 1857ء کے بعد سے لے کر 1947ء تک ہندوستان میں اردو اخبارات ‘ رسائل اور جرائد نکالنے والے مدیران یا ان سے وابستہ افراد نے صحافت کو تجارت پیشہ یا پھر ایک وسیلۂ اظہار کے طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ اردو کے شاعروں اور ادیبوں نے اخبارات سے وابستہ ہوکر جدوجہد آزادی کو تیزتر کرنے میں اردو صحافت کو ایک تحریک کا درجہ دے دیا اور اپنے کالموں‘ اداریوں اور خبروں کے ذریعہ ہندوستانیوں میں اتحاد اور میل جول کا ماحول پیدا کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ غدر سے لے کر ہندوستان کی آزادی تک کے تمام اردو اخبارات کا بہ غور مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اردو صحافت نے کبھی عصبیت ‘ فرقہ واریت‘ علاقہ واریت یا پھر مذہب کی فضا استوار کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ صاف طور پر ظاہر ہوجاتا ہے کہ شمالی اور جنوبی ہند سے اردو میں شائع ہونے والے تمام اخبارات نے صرف ایک مقصد کے لیے اپنی صحافت کے جوہر دکھائے اور وہ مقصد تھا کہ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کروایا جائے اور ہندوستانیوں میں حب الوطنی کے جذبے کو پروان چڑھاکر انھیں سچے دیش بھکت بنایا جائے۔ یہی وجہ رہی کہ تحریک آزادی میں تیزی اور انگریزی سامراج کے خلاف غم و غصہ کی لہر نے عوام میں اس قدر شدت اختیار کرلی کہ 100 سالہ علمی جدوجہد میں ہندوستانیوں کو وہ کامیابی حاصل نہ ہوئی جو 40 سالہ اردو صحافت نے انجام دی۔ بلاشبہ تحریک آزادی میں ہندوستان کی کامیابی کو ہم صحافت کی دین قرار دے سکتے ہیں۔ ہندوستانی سیاسی رہنماؤں اور مختلف مذہبی سربراہوں کے بیانات اخبارات میں شائع نہ ہوئے اور صحافت کے توسط سے عوام تک نہیں پہنچے اور ان کے توسط سے انگریز بربریت کا کچا چھٹا عوام کے سامنے نہ آتا تو آزادی کا حصول حد درجہ دشوار ہوجاتا۔ اخبارات نے جب انگریز ظلم و زیادتی کی رپورٹنگ شروع کی تو ساری دنیا پر حقیقت آشکار ہوگئی کہ ہندوستان کو اپنے زیر نگیں رکھ کر سامراجیت کس طرح مفادات حاصل کررہی ہے۔ انگریزی رویہ کو اردو اخبارات نے صحافت کے ذریعہ طشت از بام کیا جس کی وجہ سے آزادی کا سورج طلوع ہوا۔
صحافت کا مقصد ہی حقیقی اطلاعات کی اشاعت اور ان کی تشہیر ہے اور جدوجہد آزادی کے دوران اردو صحافت نے نہ صرف اس حق کو نبھایا بل کہ ہندوستان کی دوسری زبانوں کے اخبارات کے مقابلے میں سبقت حاصل کرلی۔ تحریک ِ آزادی میں اردو اخبارات کی حق گوئی اور حق پرستی نے دھوم مچادی اور سارے ملک میں اردو صحافت کی شہرت ہوگئی۔
1830ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے فارسی کے بجائے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا اور 1836ء میں نئے اخبارات نکالنے کی آزادی کے باعث مولوی محمد باقر نے 1837ء میں ’’دہلی اخبار‘‘ کے نام سے ایک ہفتہ روزہ جاری کیا جس کا نام بدلتا رہا لیکن زیادہ عرصہ ’’دہلی اردو اخبار‘‘ رہا۔ مولوی باقر والا بزرگوار ‘ مولوی محمد حسین آزاد تھے جن کی صحافت سے تحریک ِ آزادی میں ایک نئی جان پڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انور علی دہلوی نے اظہارِ خیال کیا ہے:
’’اسی اخبار نے 1841ء میں ہندوستان کی پہلی سیاسی جماعت وشنو تیشونی سبھا کی خبر چھاپی جو کلکتہ میں قائم ہوئی تھی اور جس کی بنیاد رکھنے میں صحافی پیش پیش تھے۔ دہلی اردو اخبار کے مختصر تبصرے میں انگریزوں کی خویش پروری‘ اس کی پولیس عملے کی نااہلی اور سرکاری محکموں کی بدعملی پر چھینٹے ڈالے جاتے تھے۔ چنان چہ ا سی خبار نے 1857 کی عظیم فضاء تیار کرنے اور پھر اس بغاوت کی پر مغز معلومات خبریں چھاپنے میں بہت کام کیا‘‘۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ انور علی دہلوی جیسے صحافی کے نزدیک بھی 1857ء کی اولین جدوجہد ِ آزادی ’’بغاوت‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ کیوں کہ انھوں نے ’’دہلی اردو اخبار‘‘ کے تعارف کے دوران اسی لفظ کا استعمال کیا ہے۔ مولوی محمد باقر نے اپنے اخبار کو تحریک ِ آزادی کا ایک آرگن بنایا جس کے نتیجے میں وہ انگریز آفیسر کی گولی کا نشانہ بنے۔ ہمارے لیے یہی ثبوت کیا کم ہے کہ 1857ء کی جدوجہد ِ آزادی میں ایک صحافی نے جامِ شہادت نوش کیا اور اسی ثبوت سے تحریک ِآزادی میں اردو صحافت کے اہم کردار ادا کرنے کی حقیقت مسلمہ ہوجاتی ہے۔
۱۔ اردو صحافت کی تاریخ میں منشی محبوب عالم کے اخبار ’’پیسہ اخبار‘‘ کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 1887ء میں شائع ہونے والا یہ اخبار مسلسل نصف صدی تک جاری رہا۔ منشی محبوب عالم کا انتقال مئی 1933ء میں ہوا۔ اگرچہ بہت سارے اردو اخبارات آہستہ آہستہ بند ہوگئے لیکن ’’پیسہ اخبار‘‘ نے نصف صدی تک صحافت کی خدمت کی۔ ’’پیسہ اخبار‘‘ کی صحافت پر رائے زنی کرتے ہوئے مولانا امداد صابری اور انور علی یہ لکھتے ہیں:
’’منشی محبوب عالم اپنے ’’پیسہ اخبار‘‘ میں بدیشی حکومت کی چیرہ دستیوں کو بے نقاب کرتے تھے۔ مجموعی طور پر ان کا اخبار اعتدال پسند اور سنسنی مخالف تھا۔‘‘
۲۔ جدوجہد ِآزادی میں لالہ لاج پت رائے کی صحافتی خدمات کو کسی لحاظ سے بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے پنجاب اخبارات اینڈ پریس کمپنی لمیٹڈ قائم کی جس کے توسط سے 1930ء میں اردو روزنامہ ’’بندے ماترم‘‘ شائع کیا جانے لگا۔ اس اخبار کے مدیر اور معاونین کے جدوجہد ِ آزادی کے جذبہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس اخبار کو حکومت نے کئی بار وارننگ دی۔ جنوری 1922ء میں دوہزار کی ضمانت لی اور اس پر مقدمہ دائر کیا۔ پھر مارچ 1922ء میں مقدمہ دائر کیا اور اس پر دیوانی کے تین مقدمے تھوپے۔ 1930ء میں بھی اخبار کو حکومت نے سیاہ فہرست میں شامل کردیا۔ اس اخبار نے سیاسی جدوجہد کے علاوہ اصلاحی رویہ کو برقرار رکھا جس کی حقیقت کو ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے لالہ جی کئی برس تک جیل کاٹ چکے تھے۔ اس دوران انھوں نے جیل خانے کے ابتر حالات دیکھے تھے۔ فرنگی حاکم اپنی جیلوں کے بارے میں ان انکشافات کی تاب نہ لاسکا اور اخبار پر ہتک عزت کا مقدمہ ٹھونک دیا‘‘۔
۲۔ لالہ لاج پت رائے نے انگریزوں کی بدانتظامی کو عوام کے سامنے پیش کرکے جدوجہد ِآزادی میں حصہ لیا اور ان کے اخبار نے انگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں کی رائے ہم وار کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور انگریز ظلم و استبداد کو کھول کھول کر عوام کے سامنے رکھ دیا۔ اس طرح اردو صحافت نے اپنے رویے کے ذریعے سامراجی طاقتوں کے خلاف عوام میں غم و غصہ کی لہر پیدا کرنے کا ماحول پیدا کردیا۔
۱۔ ’’ اردوئے معلی‘‘ کی اشاعت یکم جولائی 1903ء سے ہوئی۔ علی گڑھ سے مولانا حسرت موہانی نے اس اخبار کا منصوبہ بنایا اور پہلے شمارے سے ہی کامل آزادی کا نعرہ لگایا۔ وہ صحافت کے میدان میں پہلے باغی تھے جنھوں نے اخبار کومکمل طور پر آزادی کی جدوجہد کے لیے مختص کردیا۔ ’’اردو معلی‘‘ کی صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے عبدالسلام خورشید لکھتے ہیں:
۲۔ ’’برائے نام میں Passive Resistance کا نعرہ اور تصور سب سے پہلے مولانا حسرت موہانی نے دیا۔ اس کے لیے انھوں نے ’’مزاحمت دفاعی‘‘ کی اصطلاح ایجاد کی۔ اسی تصور کے بعد میں ’’ستیہ گرہ‘‘ کا نام پایا۔ جہاد حریت سے سرشار ’’اردوئے معلی‘‘ ایک شعلہ بار مجلہ تھا جس کی تحریروں سے فرنگی حکم رانوں کی نیندیں حرام ہوگئیں۔ یہ اپنے آغاز سے تقریباً 10 سال تک حکومت کے جبر و استبداد کا شکار رہا جس سے اس کی اشاعت کئی بار بند ہوئی۔ نامساعد حالات کے باوجود مولانا حسرت موہانی کسی نہ کسی حالت میں اسے 1942ء تک نکالتے رہے‘‘۔
۱۔ مولانا حسرت موہانی کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے اردو صحافت کو سیاست میں عملی اقدامات کے لیے استعمال کیا اور اپنے اخبار کے ذریعہ ایسی فضا تیار کی کہ جس کی وجہ سے عوام میں حکومت ِ وقت سے ٹکرانے میں اور اسے اقتدار سے بے دخل کرنے کا جذبہ عام ہوا۔ ان کے اخبار نے عملی ا قدامات اور سیاسی حکمت عملی کے تعین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسی رویے کی وجہ سے انھو ںنے کانگریس سے وابستگی اختیار کی۔
۲۔ یہ وہ دور ہے جب کہ لاہور سے مخزن ، شباب اور ہمایوں ۔ لکھنو سے ’’دلگداز‘‘ خدنگ نظر‘ الناظر‘ تہذیب اور معیار۔ میرٹھ سے ’’عصر جدید‘‘ شائع ہورہے تھے۔ منشی دیا نرائن نگم نے بریلی سے اردو ماہنامہ ’’زمانہ‘‘ جاری کیا جس کا دفتر بورین کانپور منتقل ہوگیا۔ ’’زمانہ‘‘ کی صحافت کے ذریعہ جن جذبات اور احساسات کو پروان چڑھایا گیا‘ اس کا اندازہ اس جریدے کے اداریے کے الفاظ سے خود لگایا جاسکتا ہے:
’’حالات زمانہ پر پورے غور و فکر کے بعد نیک، محتاط اور دوراندیشانہ مشورہ دینے کے علاوہ ایک رسالہ کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ باہمی میل جول اور قومی اخوت و اتحاد کے اصولوں کو محبت اور صداقت کے ساتھ فروغ دے‘‘۔
چنان چہ ان کا اخبار ’’زمانہ‘‘ 46 سال تک مسلسل شائع ہوتا رہا۔ یہ وہ دور تھا جب کہ کلکتہ سے ’’نیرنگ خیال المصباح۔ احسن الاخبار ، تحفہ محمدی، لسان الصدق اور دارالسلطنت شائع ہونے لگے تھے۔ اخبارات کے اس قافلہ میں جہاد اور انقلاب کا نعرہ لے کر مولانا ابوالکلام آزاد داخل ہوئے۔ انھو ں نے 1912ء میں ہفت روزہ ’’الہلال‘‘ کلکتہ سے شائع کیا۔ مولانا کی خطیبانہ نثر نے تحریک حریت کے اس دور کو صحافت کی معراج تک پہنچادیا۔ انھوں نے ’’پیغام اور البلاغ‘‘کے توسط سے بھی اردو صحافت کی خدمت کی اور جدوجہد ِ آزادی میں عملی حصہ لیتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ وہ قلم کے دھنی ہی نہیں بل کہ ایک عملی انسان اور سرگرم سیاست میں حصہ لینے والے باشعور صحافی بھی ہیں۔ چنان چہ ان کی اردو صحافت نے ہندوستانی سیاست کے دھارے کو بدلا اور کانگریس سے وابستگی کے ذریعہ انھوں نے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو عملی طور پر اکثریت کے ساتھ مل کر اقدامات کرنے کی ترغیب دلائی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت بہ ذاتِ خود ایک موضوع قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس لیے صحافت کے لیے ان کی خدمات پر گفتگو سے اجتناب برتتے ہوئے اردو صحافت کے قافلے کو دیگر اخبارات اور رسائل کی خدمات سے وابستہ کرتے ہوئے جدوجہد ِ آزادی میں ان کے کارناموں سے یہاں بحث کی جائے گی۔
۱۔ ابتداء میں ہفت روزہ ’’پرکاش‘‘ اور 1919ء سے لاہور سے شائع ہونے والے ’’پرتاپ‘‘ کے مدیر مہاشہ کرشن نے مہاتما منشی رام کی قیادت میں چلنے والی آریہ سماج کی گوروکل پارٹی کی حمایت کی لیکن مہاتما گاندھی کے دہلی میں ستیہ گرہ کے ساتھ پرتاپ نے ولولہ انگیز خبریں شائع کرنی شروع کیں۔ اس طرح یہ اخبار کانگریس کی تحریک ِ آزادی کا دیوقامت نقیب بن گیا۔ اس کے ایڈیٹر نے 1943ء میں سنسرشپ (پابندی) کے خلاف احتجاج کیا۔ ان کا انتقال25 ؍ فروری 1963ء کو ہوا۔ جدوجہد ِآزادی میں پرتاپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس اخبار کی صحافت نے حکومت کے منصوبوں اور احکامات کی خلاف ورزی کا بیڑا اٹھاکر جدوجہد ِآزادی کی تحریک کو استحکام بخشا۔ اس لیے پرتاپ کی صحافت اور اس کے طرز کو جدوجہد ِآزادی میں کسی لحاظ سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
۲۔ دیوان سنگھ مفتوں کو Investigative Journalism یا تحقیقی صحافت کا پیش رو قرار دیا جاتا ہے جنھوں نے 1924ء میں اخبار ’’ریاست‘‘ جاری کیا۔ وہ اپنے اخبار کے شذرات میں بڑے بڑے انکشافات کیا کرتے تھے۔ دورِ حاضر میں اسے اسکوپ کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے بھوپال کے نواب کی انگلستان کے دورے کے موقع پر سکریٹری آف اسٹیٹ سے ریاست اخبار کے خلاف شکایت کی خبر شائع کی اور یہ مسئلہ بھوپال کے ملٹری سکریٹری سے اسمبلی کے ایوان تک گشت کرتا رہا۔ ’’ریاست‘‘ کی اردو صحافت سے جدوجہد ِ آزادی کے دوران راز افشا کرنے کے وسیلہ کا آغاز ہوا۔ اسی لیے اس اخبار کی صحافتی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
۱۔ مولانا محمد علی جوہر نے ’’ہمدرد‘‘ کی صحافت کے ذریعہ مذہب کی بنیاد پر آزادی کے جذبات کو ابھارا۔ آزادی کی تڑپ دل میں رکھتے ہوئے وہ انگریزوں کے خلاف اپنے ایک اداریے میں رقم طراز ہیں:
’’ایسی خدا فروش اور مذہب دشمن حکومت جو خلافت اسلامیہ سے برسرپیکار ہو‘ اس سے اور اس سے ملحق اداروں اور محکموں سے کسی طرح کا تعلق جائز نہیں۔‘‘
مولانا ظفر علی خان ’’زمیندار‘‘ کے مدیر تھے۔ انھوں نے اردو صحافت کو حکومت کے غلط اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے کا سلیقہ بخشا۔ وہ نہ صرف غلطی کی نشان دہی کرتے بل کہ اس کے خلاف لوگوں کو ورغلاتے بھی ہیں۔ ان کا لہجہ ملاحظہ ہو:
’’کمیشن کی حمایت کرنے والے یہ تو فرمائیں کہ آخر انھیں خوشامد کا کون کیا صلہ دے گا؟ نئی عزت ملے گی۔ وہ کونسے سرخاب کے پر ان کی ٹوپی میں سجادے گا۔ مگر یہ آخر جچوڑتی ہڈیاں ہیںخوانِ مغرب کی جنھیں وہ پھینک کر مشرق کے کتوں کو لڑا دے گا۔‘‘
۱۔ مولانا ظفر علی خان نہ صرف ورغلاتے بل کہ انگریز حکومت کی جارحیت کو اردو صحافت میں پیش کرتے تھے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آجائے۔ مولانا محمد عثمان فارقلیط نے حصولِ آزادی کے فوری بعد ’’الجمعیۃ‘‘ کی ادارت سنبھالی۔ انھوں نے اردو صحافت کو کردار کی بلندی اور حوصلہ مندی کا پیغام دیا۔ وہ اپنے ایک اداریے میں لکھتے ہیں:
’’آج بھی میدان کا رزار موجود ہے لیکن اس کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اس وقت ہمیں غیروں سے لڑنا تھا‘ آج اپنوں کی تربیت کرنی ہے۔ کردار کی پختگی اس وقت بھی درکار تھی اور یہ پختگی آج بھی درکار ہے۔ موم بتی کی طرح اپنے جگر کا خون اور اپنی ہڈیوں کا روغن جلاکر اس وقت بھی آپ نے اپنا غرض انجام دیا تھا اور آج بھی فرض کا یہ احساس اسی مغز التخواں اور خونِ جگر کا مطالبہ کررہا ہے‘‘۔
۱۔ مولانا فارقلیط کی صحافت میں جان بچانے کا نہیں بلکہ اپنے تحفظ کے لیے جان قربان کرنے کا فلسفہ پایا جاتا ہے۔ مولانا عبدالماجد دربا بادی‘ نیاز فتح پوری‘ حامد الانصاری غازی اور ایسے ہی بے شمار نام صحافت کے توسط سے ارد ومیں شہرت رکھتے ہیں جنہوں نے اخبار اور ادارت کے ذریعہ جدوجہد ِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اردو اخبارات و رسائل صرف ہندوستان میں حاوی نہیں ہوئے اور جدوجہد ِ آزادی کا سلسلہ صرف اس ملک تک محدود نہیں رہا بلکہ غیر ممالک میں بھی اردو صحافت نے آزادی کی روح پھونکی۔ قسطنطنیہ سے شائع ہونے والا پندرہ روزہ ’’ترجمان شوق‘‘ 23؍ مارچ 1878ء سے شروع ہوا جس کے مالک اسکندر آنندی تھے۔ یہ اخبار عربی اور اردو میں شائع ہوتا اور انقلابی خبریں شائع کرتا تھا۔ ترکی سے شائع ہونے والا اخبار ’’سلطان الاخبار‘‘ یکم جنوری 1880ء میں سلطان عبدالمجید کے نام پر جاری ہوا۔ منشی قادر بخش ہندوستانی نے 1857ء کے غدر کے بعد ترکی کا رخ کیا اور وہاں سے اس اخبار کی بنیاد ڈالی جس میں انگریزوں کے خلاف بغاوت اور جہاد کی ترغیب دی جاتی تھی۔ اگست 1884ء میں لندن سے رسالہ ’’ہندوستان‘‘ اردو‘ ہندی اور انگریزی میں شائع ہونے لگا جو ہندوستانیوں کے جذبات کی عکاسی کرتا تھا۔ شیخ الہند مولانا محمودالحسن کے مشن پر مقبول الرحمن سرحدی اور شوکت علی بنگالی نے چین ‘ جاپان‘ فرانس اور امریکہ کا دورہ کیا اور 1905ء میں چین سے اردو رسالہ ’’العین‘‘ جاری کیا جو 1909ء تک جاری رہا۔ اس کے خریدار چند چینی انقلابی تھے۔ یہ رسالہ ہندوستان کی آزادی کے سلسلہ میں غلامی کے خلاف مضامین پیش کرتا تھا۔ برطانوی سامراج کے مخالف شیاما جی کرشن ورما نے لندن میں 1905ء میں ’’انڈیا ہوم سوسائٹی‘‘ قائم کی اور ایک اخبار ’’انڈین سوشلسٹ‘‘ ایک ہندو امریکن اسوسی ایشن قائم ہوئی جس کے سکریٹری لالہ امرناتھ نے ’’سرکلر آزادی‘‘ جاری کیا۔ مولانا برکت اللہ بھوپالی 1910ء میں نیویارک سے جاپان پہنچے او رانھوں نے ٹوکیو سے اردو اخبار ’’اخوت اسلامی‘‘ جاری کیا۔
1910ء میں لندن سے ’’سوراج‘‘ اخبار جاری ہوا جو بنگالی‘ اردو‘ انگریزی اور ہندی زبان میں شائع ہوتا تھا۔ 1912ء میں کنیڈا سے انقلابی اخبار ’’ہندونی‘‘ انگریزی‘ کنیڈین اور اردو زبان میں نکلتا تھا۔ کیلیفورنیا میں 13 ؍ مارچ 1913ء کو ہندوستانیوں کی ایک انقلابی پارٹی قائم کی گئی اور یکم نومبر 1913ء کو ’’اخبار غدر‘‘ جلوہ فگن ہوا ۔ جس کا مقصد انگریزوں کے خلاف نفرت پیدا کرنا اور بغاوت کی چنگاری کو ہوا دینا تھا۔ اس اخبار کی تحریک پر انگریز مخالف گروہ پیدا ہوئے جنھوں نے عام مخالفت کا بیڑا اٹھایا ۔ مئی 1914ء میں قسطنطنیہ سے اردو انقلابی ہفتہ وار ’’جہانِ اسلام‘‘ شروع ہوا جو ترکی‘ عربی اور اردو میں شائع ہوتا رہا۔ فرانس سے مولانا برکت اللہ نومبر 1925ء میں اخبار ’’الاصلاح‘‘ جاری کیا اور اخبار کی صحافت کی پاداش میں مولانا برکت اللہ کو ملک بدر کیا گیا۔ وہ جرمنی پہنچے اور دوبارہ ’’الاصلاح‘‘ جرمنی سے جاری کیا۔ جس میں انھو ں نے ایک تفصیلی مدلل اور جامع منصوبہ ہندوستان میں انگریزوں کی لوٹ کھسوٹ کے بارے میں شائع کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ اردو صحافت کے علم برداروں اور صحافیوں نے صرف ملک میں رہ کر ہی جدوجہد ِ آزادی میں حصہ نہیں لیا بلکہ بیرون ملک وہ جہاں جہاں گئے‘ اپنے اخبارات کے توسط سے ہندوستان کی آزادی کا پرچار کرتے رہے۔ غرض اس قدر منظم‘ مربوط اور جال کی طرح پھیلا ہوا اردو صحافت کا نظام ملک اور بیرون ملک کام کررہا تھا، جس نے نہ صرف جدوجہد ِ آزادی میں حصہ لیا بل کہ اپنی سرخیوں‘ خبروں‘ کالموں‘ اداریوں اور شذرات کے ذریعے ساری دنیا میںہندوستان کی آزادی کی روح پھونک دی اور اردو اخبارات کے اسی صحافتی رویے کی دین ہے کہ آج ملک آزاد ہے اور صحافت کو بھرپور آزادی حاصل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جدوجہد ِآزادی میں اردو صحافت کے کردار کو نہ صرف مقبول کیا جائے بلکہ ملک کی دوسری زبانوں میں اس حقیقت کا اظہار کیا جائے تاکہ احساس دلایا جاسکے کہ تمام تر جدوجہد ِ آزادی میں صرف اردو زبان اور اردو صحافت کے توسط سے ہی ملک کو غلامی سے نجات ملی۔ اردو صحافت کا اعتراف درحقیقت آزادی کے اعتراف کے مترادف ہے۔
📚 The Role of Urdu Journalism in the Freedom Movement
✍️ Prof. Majeed Bedar
Professor and Head (Retired), Department of Urdu, Osmania University, Hyderabad, India

No comments:
Post a Comment