پروفیسر شاہد نوخیزاعظمی
’’قیصر روم نے خط پاکر حکم دیا کہ اگر اس کے حدود سلطنت میں عرب کا کوئی شخص مل جائے تو اسے حاضر کیا جائے،اتفاق سے اس وقت ابوسفیان جو تجارت کے سلسلے میں شام آئے ہوئے تھے ،موجودتھے۔ چنانچہ انھیںلے جاکر پیش کیا گیا۔ قیصر نے ان سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق چند سوالات کیے ۔ ان میں جھوٹ بولنے کی گنجائش نہ تھی اس لیے ابو سفیان نے صحیح جوابات دیے۔یہ جوابات سن کر قیصر کو آنحضرت صلعم کی صداقت کا یقین ہوگیا۔ اس نے ابوسفیان سے کہاکہ ’’اگر تمھارے جوابات صحیح ہیں تو میرے قدم گاہ تک اس شخص (آنحضرت صلعم ) کا قبضہ ہوجائے گا، مجھ کو معلوم تھا کہ ایک پیغمبر آنے والاہے ، لیکن یہ خیال نہ تھاکہ وہ عرب میں ظاہر ہوگا۔ اگر میں اس تک پہنچ سکتا توان کے قدم دھوتا‘‘۔ قیصرکے ان خیالات کو سن کراس کے بطارقہ سخت برہم ہوئے لیکن اس اعتراف کے باوجود وہ تخت و تاج کی طمع میں اسلام کی دعوت سے محروم رہ گیا‘‘۔
ان تبلیغی خطوط میں حضور صلعم نے اللہ کے نام کے بعد اور مرسل الیہ کے نام سے پہلے ارسال کرنے والے کانام تحریر کروایاتھا ۔ اس طرح کا ایک خط جب خسرو پرویز کجکلاہ ایران کے نام بھیجا گیا تو وہ آپے سے باہر ہوگیا، جن کی تفصیل شاہ معین الدین ندوی نے اپنی کتاب ’’تاریخ اسلام‘‘ میں اس طرح بیان کی ہے:
’’ان تبلیغی خطوط میں عرب کے طرز تحریر کے مطابق اللہ کے نام کے بعد اور مرسل الیہ کے نام سے پہلے’فریسندہ‘ کا نام تھا، خسرو پرویز کجکلاہ ایران اس تحریر سے آشنا نہ تھا، اس لیے اسے اپنی تحقیر سمجھ کر سخت برہم ہوا اور کہا ’’میرا غلام مجھے یوں لکھتا ہے‘‘۔ اور نامہ مبارک چاک کر ڈالا اور ایران کے یمنی گورنر کو لکھا کہ عرب کے مدعی نبوت کو میرے پاس بھیج دو۔ اس نے دو آدمی مدینہ بھیجے ۔ انھوں نے آنحضرت صلعم سے جاکر کہاکہ تم کوشہنشاہ عالم نے طلب کیا ہے۔ اگر اس حکم کی تعمیل نہ کروگے تو تمھارے ملک کو برباد کرڈالے گا۔شہنشاہ دوعالم صلعم نے جواب دیا: جا کر اس سے کہہ دو کہ اسلام کی حکوت کسریٰ کے پایہ تخت تک پہنچے گی۔ ابھی یہ دونوں سفیر واپس بھی نہ ہوئے تھے کہ خود خسرو پرویزکے لڑکے نے باپ کا کام تمام کردیا۔
مقوقس عزیز مصر نے جواب دیا کہ مجھ کو معلوم تھا کہ ایک پیغمبر آنے والا ہے لیکن میں سمجھتا تھا کہ وہ شام میں ظاہر ہوگا، میں نے آپ صلعم کے قاصد کو عزت و احترام کے ساتھ ٹھہرایا ،آپ کے لیے لباس اور خچر تحفہ بھیجتا ہوں‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خط مبارک جب شاہ حبش نجاشی کے پاس پہنچاتو وہ ادب واحترام سے تخت سے نیچے اترآیا اور اس نامہ مبارک کوآنکھوں سے لگاکر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر اسلام قبول کرلیااور حضور صلعم کو لکھ بھیجا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی اللہ کے پیغمبر اور اس کے رسول ہیں۔ واضح ہوکہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ہجرت اولیٰ میں حبشہ گئے تھے اور وہیں مقیم تھے۔والی بصرہ شرحبیل نے حضور صلعم کے قاصد کو شہید کرڈالا۔ مکی دور کے کاتبین وحی کی ایک طویل فہرست ہے جس ہیں حضرات ابو بکر صدیق، عمر فاروق ، عثمان غنی علی ، طلحہ بن عبیداللہ، زبیر بن عوام، ارقم بن ابو ارقم،حاطب بن عمرو، عامر بن فہیرہ، ابو سلمہ بن عبد الاسداور معیقیب السدوسی رضی اللہ عنہم اجمعین۔ مدنی دور کے کاتبین وحی کے اسمائے گرامی اس طرح ہیں: حضرات ابی ابن کعب، زید بن ثابت، بریدہ بن الحصب الاسلمی، ثابت بن قیس، معاویہ بن ابو سفیان، خالد بن ولید، حذیفہ بن الیمان، حویطب بن عبد العزی، عبداللہ بن ارقم، عبداللہ بن رواحہ، سعید بن سعید بن العاص، عبداللہ بن عبداللہ بن ابی سلول رضی اللہ عنہم اجمعین ۔
صبح الاعشیٰ کے مصنف اورمواہب لدنیہ کی شرح میں علامہ زرقانی نے ایسے افراد کی ایک طویل فہرست پیش کی ہے جو عہد رسالت یا خلافت راشد ہ میںکتابت کے عہدے پر مامور تھے۔ حضرات عثمان بن عفان ،زید بن ثابت اور ابوبکر رضی اللہ عنہم کے زمانے میں کتابت کے فرائض انجام دیتے تھے جب کہ حضرت زید بن ثابت اور عبداللہ بن خلف حضرت عمرؓ کے کاتب تھے۔ مروان بن حکم حضرت عثمان ؓکی خط وکتابت کا کام انجام دیتے تھے۔ حضرت علی ؓ کے دور میں حضرت عبد بن ابی رافع اور حضرت سعید بن نجران المہدانی اس منصب پر فائز تھے جب کہ حضرت حسن بن علی کے کاتبوں میں حضر ت عبداللہ بن ابی رافع کا مقام سب سے بلند تر تھا۔ اس لیے حضرت عمر ؓ نے اس مراسلت و مکاتب کو باضابطہ ترتیب دینے کا ایک مستقل محکمہ قائم کیا اور تبھی سے انشا پردازی اور دبیری کو ایک صنف کی حیثیت حاصل ہوئی کیوں کہ اس دور میں ان خطوط کو صرف مرکزی حکومت تک محدود نہیں رکھا گیابلکہ دیگر علاقوں اور صوبوں کی حکومتوںکے لیے بھی اس قسم کے کاتب مقرر کیے گئے۔ چنان چہ علامہ شبلی نعمانی الفاروق میں لکھتے ہیں :
’’صوبوں میں بڑے بڑے عہدے دار ہوتے تھے یعنی حاکم صوبہ،کاتب یعنی میرمنشی، کاتب دیوان یعنی دفتر فوج کا میر منشی، صاحب الخراج یعنی کلکٹر،صاحب احداث یعنی افسر پولیس، صاحب بیت المال یعنی افسر خزانہ، قاضی یعنی صدرالصدور‘‘۔
حضرت عمر ؓ کے مبارک ہاتھوں سے اس محکمہ کی عالم وجود میں آنے کے بارے میں صاحب صبح الاعشی ٰ کا بیان بھی ملاحظہ فرمائیں:
ترجمہ:ان تما م مراسلات کا تعلق محکمۂ انشا سے ہے، برخلاف محکمہ فوج کے کہ اس کو سب سے پہلے امیر المومنین حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں ایجاد اور مرتب کیا۔
عہد عباسی اور بنو امیہ کے دور میں یہ محکمہ دیوان انشا کے نام سے جانا جاتا تھا۔ عہد عباسیہ اور بنو امیہ کے عہد میں فن انشا کو کافی فروغ حاصل ہوااوریہ محکمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوا اور اطراف و اکناف کے ممالک و صوبوں میں بھی بہت سے ماہرین خطوط نے شہرت حاصل کی اور مختلف ناموں سے انھیںجانا گیا۔کچھ علاقے انھیںدیوان کے نام سے جانتے تھے کیوں کہ یہ بہترین کاتب ہواکرتے تھے اور ریاض داں بھی۔ مقدمات رقعات عالمگیر میں سید نجیب اشرف ندوی صفحہ ۶پر دیوانوںکی تقسیم کے عنوان سے لکھتے ہیں:
’’انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کا بیان ہے کہ ابتدا ً دیوان اس دفتر کو کہتے تھے جو ’’دبیر ‘‘ سے متعلق ہوتا تھاجس میں حکومت کے آمد و خرچ کا حساب رکھا جاتا تھا، پہلے شام و مصر میں یہ حساب یونانی اور ایران میں پہلوی زبان میں تھا، اس کے بعد عربی میں پہلے ہوگیا اور ۸۱ ھ سے عربی ہی میں رہا (البلاذری، ص ۱۹۳، ۳۰۰، الماوردی، ص ۲۷۹) اس کے بعد خزانہ سے متعلق دفتروں کا نام دیوان رکھا گیا ، خلافت عباسیہ کے زمانے میں تمام دفتروں کو اسی نام سے موسوم کیا گیا بلکہ بعض اوقات خود خلیفہ کو بھی اسی نام سے یادکیا جاتاتھا‘‘۔
یہ دیوان مختلف عہدوں پر مامور ہوتے تھے اور ان کو الگ الگ ناموں سے جانا جاتا تھا ۔آمد ورفت اور اخراجات کے حساب رکھنے والے کو دیوان الزمام، جبکہ حکومت کے محاسب اعلیٰ اور خازن اول کو جوکہ نگرانی اور سرکاری اخراجات کی جانچ کرتا تھا اسے دیوان التوقیع کہتے تھے۔ دیوان البر یہ دیوان خلیفتہ المقدر کے مشہور وزیر علی بن عیسٰی نے قائم کیاتھا اور اس کا کام اوقاف کی نگرانی تھی جب کہ جو دفتر سرکاری خطوط پر خلیفہ کی مہر لگاتا تھا اسے روانہ کرنے کا انتظام کرتا تھا۔ خطوط کی نقلیں رکھتا تھا۔ اسے دیوان الخاتم کہتے تھے۔خطوط لکھنے والے کاتب کی ذمہ داری چونکہ انتہائی اہم ہوتی تھی وہ تمام رازوں سے واقف ہوتا تھا۔ اس لیے اس عہدے پر انتہائی اہم ، باصلاحیت اور پاکیزہ شخصیت کا مالک رکھاجاتا تھاتاکہ وہ کسی کے ماتحت نہ ہو کسی کاغلام نہ ہو داخلی و خارجی حالات سے واقف ہو شخصیت میں توازن ہو وفاداری اور خیرخواہی اس کی فطرت میں شامل ہو۔ بیش تر علوم پر مہارت رکھتا ہو ، صرف و نحو، معانی و بیان ، ادب و انشا ، تاریخ و جغرافیہ ، ریاضی و ہئیات، فقہ و حدیث ، معدنیات و ارضیات پر مکمل دست رس رکھتا ہو۔قرآن کی آیات، احادیث ، اقوال زریں اور اشعار کثرت سے یاد ہوں تاکہ بلاغت اور زور و جوش پیدا کیا جاسکے۔ انتظامی صلاحیت کا بھی مالک ہو ، بیش تر ممالک کے حالات ، منزلوں کی حیثیت ،شہروں کا علم اور روابط و خوش اسلوبی کا ہنر بھی رکھتا ہو۔اس کے پاس الفاظ و محاوارت کی کثرت ہو ۔ تاریخ سے واقف ہو اور القاب و آادب اور حفظ مراتب کا خیال رکھتا ہو ۔انسانی فطرت سے واقف ہو ، درباری سیاست سے دور رہے اور ہر طرح کی عبارت لکھنے پر قادر ہو ۔ جفاکش اور امانت دار ہو۔اس طرح کی خصوصیات رکھنے والے بے شمار کاتبوں نے بہت اہم عہدے تک ترقی حاصل کی جب بھی ہم کسی اہم سلطنت کا مطالعہ کرتے ہیں تو سلطان اور امرا کے بعد اس عہد کے دبیروں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔یہ لفظ جب ہندوستان میں آیا تو دبیر کی جگہ منشی نے لے لی ، چنان چہ عہد بہمنیہ کا مشہور ومعروف وزیر محمود گاواںکی تصنیف مناظر الانشاء و دستورالانشاء میں ان تمام اوصاف کا احاطہ کیا گیاہے جس میں منشی کا معیار اوراس کے اوصاف کے بارے میں بھی مفصل بیان ہے۔
خلافت راشدہ کے بعد اموی اور عباسی سلطنت کا وجود عمل میں آیا اور پھر عثمانی سلطنت اپنے عروج پر پہنچی ۔ اموی حکومت میں بھی مختلف امور کی ترقی کے ساتھ ساتھ دفتری کام کاج کا بھی عروج حاصل ہوا۔ اس دور حکومت میں بھی عربی زبان و ادب کے ساتھ انشاء پرداری، خط و کتابت کو فروغ ملا۔ اس تعلق سے شاہ معین الدین ندوی نے تاریخ اسلام جلد اول کے صفحہ ۵۴۔۵۵۳پر تحریر کرتے ہیں:
’’اموی حکومت کا دفتری کاروبار بہت وسیع ہوگیاتھا اورعبدالملک نے عربی کو سرکاری زبان قراردیا۔ اس لیے غیرقوموںکے لیے بھی اس کا سیکھنا ضروری ہوگیاتھا۔ اس لیے ان کے اسلوب انشا کی آمیزش بھی عربی میں ہوئی ۔ ان اسباب کی بنا پر عربی انشا میں بڑی ترقی ہوئی ۔ اس زمانے میں حکومت سے لے کر امراء تک کاتب (میر منشی ) رکھتے تھے۔ان کے لیے انشا میں مہارت ضروری تھی، بل کہ انشا ہی ان کا سب سے بڑا وصف وکمال تھا۔اس لیے اس زمانہ میں انشا نے مستقل فن کی حیثیت حاصل کرلی اور متعدد نام ور کاتب پیداہوئے۔ ان میں عبدالملک کے کاتب سالم اور عبدالحمید کے نام زیادہ مشہور ہیں۔ عبدالحمید کے کمال فن پر یہ مقولہ شاہد ہے کہ ’’کتابت عبدالحمید سے شروع ہوئی ‘‘اور ابن العمید (عباسی دور کا ایک نام ور کاتب) پر اس کا خاتمہ ہوا‘‘۔
عربی زبان وادب میں خطوط کے چند مشہورو معروف رسائل و کتب کے مجموعے اور اس کے مصنف کے نام اس طرح سے ہیں،رسائل الاحزان: مصطفی صادق الرافعی،زھرۃ العمر: توفیق الحکیم، الشعلۃ الزرقاء: جبران خلیل جبران، رسالتہ التربیع والتدویر:ابو عثمان عمرو بن بحرالجاحظ، رسائل غسان کنفانی الی غادۃ السمان : غسان کنفانی،العاشق المتمرد: محدالماغوط، اوراق الورد : مصطفی صادق الرافعی، کتاب الرسائل :محمود درویش و سمیح القاسم،ثمرات الاوراق:ابن حجۃ الحموی، رسائل البلغاء: محمد کرد علی اور چند اہم مشاہیر ادبا و فضلاء کے کلاسیکی خطوط کا مجموعہ کو یہاں پیش کیا جا رہاہے ۔جیسے رسائلی الیہ: دینا عماد،’’ الیک‘‘رسائل لم تصل: رضوی احمد عیداور بوح: حسان بدور غیرہم۔ ابو الحسن علی ندوی نے مکتوبات کی دنیا میں دو معیاری کتابیں اس فن میں تحریر کی ہیں احادیث صریحتہ مع اخوانناا لعرب اور فی مسیرۃ الحیاۃ تو سید محمدرابع حسنی ندوی نے بھی ایک کتاب خطوط کے فن سے متعلق رقم کی ہے جو رسائل الاعلام کے نام سے ہے۔
احمد نظامی عروضی سمرقندی نے اپنی مشہور ومعروف تصنیف چہارمقالہ میں جن مقالوں کا ذکر کیا ہے اس میں سب سے اہم علم دبیری اورکیفیت دبیر کامل کے عنوان سے دبیر اور دبیری کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی حتی االامکان کوشش کی ہے۔اور یہی اس کے مقالے کا اہم باب بھی ہے ۔ دبیر کی حقیقت ، اہمیت ، افادیت ، حیثیت اور شخصیت کا بیان کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ دبیری وہ فن ہے جو قیاس ، خطابی اور استدلالی گفتگو پر مشتمل ہے یہ لوگو ں کے درمیان بات چیت ، مشورہ ، باہمی عداوت، تعریف ، مذمت، دل جوئی ، تدبیر، برانگیختہ کرنے، اعمال کو بڑا کرنے ، امور کو چھوٹا کرنے ، معذرت اور سرزنش کے اسباب فراہم کرنے ،نعمتوں کی یاد دہانی، گفتگو میں نظام اور ترتیب کا اظہار میں نفع بخش ہے۔ دبیری بہتر اور ممتاز طریقے پر انجام پائے ۔ دبیر کافرض یہ ہوتا ہے کہ و ہ عظیم شخصیت کو نسب کے اعتبار سے بزرگ ، عزت کے لحاظ سے شریف اور گہری فکر اور مستحکم رائے والا ہو۔ ادب اور اس کے نتائج کا بیش تر حصہ اس کے مطالعہ میں ہو ، منطقی قیاسیات سے بیگانہ نہ ہو اور اہل زمانہ کے مراتب سے آشنا ہو، مال و دولت میں مبتلا نہ ہو،آرایشوں میں مشغول نہ ہو، اس کے لیے لوگو ں کی عزت اور شان و شوکت پر حملہ نہ کرے اپنے قلم کو محتاط و محفوظ رکھے اور کبھی بھی احترام کا قدم دائرے سے باہر نہ نکالے۔القاب میں میانہ روی اختیار کرے اور سبھی کو حقیقت سے واقف کرائے۔ چہار مقالہ کا آغاز دبیری کے عنوان سے عروضی سمرقندی اس طرح کرتا ہے:
’’ دبیری صناعتی است مشتمل بر قیاسات خطابی و بلاغی ،منتفع در مخاطباتی کہ درمیان مردم است بر سبیل محاورت و مشاورت و مخاصمت ،درمدح و ذم وحیلت واستعطاف واغرا و بزرگ گردانیدن اعمال و خرد گردانیدن اشغال و ساختن وجوہ عذر و عتاب و احکام وثائق واذکارسوابق، وظاہرگردانیدن ترتیب ونظام در ھر واقعہ تا بروجہ اولیٰ واحری ادا کردہ آید۔پس دبیر باید کہ کریم اصل شریف العرض دقیق النظر عمیق الفکر وثاقب الرائے باشد، وازادب و ثمرات آن قسم اکبر وحظ اوفر نصیب اور سیدہ باشد، واز قیاسات منطقی بعید و بیگانہ نباشد، ومرتب ابناء زمانہ شناسد ومقادیر اھل روزگار داند، وبحطام دنیاوی ومزخرفات آن مشغول نباشد، وبتحسین و تقبیح اصحاب اغراض و ارباب اغماض التفات نکندو غرہ نشود، وعرض مخدوم رادر مقامات ترسل از مواضع نازل و مراسم خامل محفوظ دارد، ودر اثناء کتابت و مساق ترسل برارباب حرمت و اصحاب حشمت نیستزد، واگرچہ مخدوم مخاطب او مخاصمت باشد، او قلم نگاہ دارد ودر عرض اووقعیت نکند الا بدان کس کہ تجاوز حد کردہ باشد‘‘۔
آل سامان کے محررین میں سے ایک محرر، اس فن (کتابت) سے خوب آشنا تھا، بلندیوں پر بخوبی جاتا اور تنگیوں سے بآسانی نکل آتا، نوح ابن منصور کی پیام رسانی کے دفتر میں محرری کرتا تھا مگر لوگوں نے اس کی قدر نہ جانی اور فضیلت کے مطابق اس پر نوازش نہ کی ۔ وہ بخارا سے ہرات، الپتگین کے پاس چلا گیا، الپتگین ایک عقل مند اور ہوشیار ترک تھا، اس نے اسے عزت دی، خط و کتابت کا دفتر اس کے سپرد کیا ، وہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا، چونکہ جوانوں کا دربار میں غلبہ تھا وہ بزرگوں کی تحقیر کیا کرتے تھے اور الپتگین برداشت کر تا تھا۔ آخر کار وہ اس تحقیر کی بنار بغاوت پر آمادہ ہو گیا جو اس کے حق میں جوانوں کی ایک جماعت کے ورغلانے سے ہوئی تھی، امیر نوح نے بخارا سے زادلستان لکھا
تاکہ سبکتگین لشکر کے ہمراہ ا ٓئے، نیشا پور سے آئیں اور الپتگین سے مقابلہ و معرجہ آرائی کریں۔ وہ سخت جنگ اور سنگین واقعہ مشہور و معروف ہے، تمام فوجوں کے ہرات پہنچنے کے بعد امیر نوح نے علی بن محتاج الکشانی کو جو دربان تھا الپتگین کے پاس آگ اور پانی کے مثل ایک خط کے ہمراہ روانہ کیا، جس کا مضمون مکمل دھمکی اور اس کا مفہوم سراسر ڈانٹ پھٹکار پر مشتمل تھا۔ صلح کی گنجائش نہ چھوڑی تھی اور نہ ہی مصالحت کا راستہ کھلا رکھا، جیسا کہ اس طرح کے کسی واقعہ اور ایسے کسی حادثہ میں دور افتادہ غضب ناک آقا، نافرمان غلاموںکے پاس لکھتا ہے، پورا خط اس بات سے پر تھا کہ آتا ہوں، گرفتار کروں گا اور مار ڈالوں گا۔ جب دربان ، ابوالحسن علی بن محتار الکشانی نے خط پیش کیا، پیغام سنایا اور کچھ حذف نہیں کیا، الپتگین رنجیدہ تھا اور زیادہ رنجیدہ ہو گیا، پریشان ہوا اور کہا: میں اس کے باپ کا غلام ہوں لیکن جس وقت میرے آقا نے دنیا سے آخرت کی طرف رحلت کی اس کو میرے حوالے کیا تھا نہ کہ مجھے اس کے سپرد۔ اگرچہ ظاہری اعتبار سے مجھے اس کے زیر فرمان رہنا چاہیے لیکن جب تو اس معاملہ کی تحقیق کرے تو نتیجہ اس کے بر عکس بر آمد ہوگا کیونکہ میں پیری کے مرحلے میں ہوں اور جوانی کی منزلوں میں، جو لوگ اس کو اس پر برانگیختہ کر رہے ہیں وہ اس کی حکومت کے بدخواہ ہیں، نہ کہ خیر خواہ اور اس خاندان کو برباد کرنے والے ہیں کہ خدمت گزار۔ انتہائی غصہ کے عالم میںاسکافی کو حکم دیا کہ جب خط کا جواب تحریر کرے تو تحقیر کرنے سے کچھ بھی دریغ نہ کرے اور میں چاہتا ہوں کہ نامہ کی پشت پر جواب لکھے:
اسکافی دبیری بود از جملہ دبیران آل سامان ’’ رحمہم اللہ‘‘ و آن صناعت نیکو آموختہ بود و برشواھق نیکو رفتی و از مضایق نیکو بیرون آمدی و در دیوان رسالت نوح ابن منصور محرری کردی، مگر قدر او نشناختند و بقدر فضل او را ننواختند، از بخارا بھرات رفت بنزدیک الپتگین، والپتگین ترکی خرد مند بود و ممیز، او را عزیز کرد و دیوان رسالت بدو تفویض فرمود، و کار او گردان شد و بسبب آنکہ نوخاستگان در حضرت بدید ار آمدہ بودند بر قدیمان استخاف ھمی کر دند، والپتگین تحمل ہمیکرد، و آخر کار او بعصیان کشید باستخفافی کہ در حق او رفتہ بود باغراء جماعتی کہ نوخاستہ بودند، و امیر نوح از بخارا بزاو لستان بنو شت، تاسبکتگین باآن لشکر بیایند، وسیمجوریان از نیشا پور بیایند، و باالپتگین مقابلہ و مقاتلہ کنند، و آن حرب سخت معروفست و آن واقعۂ صعب مشھور۔ پس از آنکہ آن لشکر ھا بھرات رسیدند امیر نوح علی بن محتاج الکشانی راکہ حاجب الباب بود با الپتگین فرستاد با نامہ ای چوں آب و آتش، مضمون اوھمہ وعید ، و مقرون او ھمہ تھدید، صلح را مجال نا گزاشتہ ، و آشتی را سبیل رھانا کردہ، چنانکہ در چنین واقعہ ای و چنین داھیہ ای خداوند ضجر قاصی بہ بندگاہ عاصی نویسد۔ ھمہ نامہ پر از آنکہ بیایم و بگیرم و بکشم۔ چون حاجب ، ابوالحسن علی بن محتاج الکشانی، نامہ عرضہ کرد و پیغام بگفت و ھیچ باز نگر فت الپتگین آزردہ بود آزردہ ترشد، بر آشفت و گفت ’’ من بندۂ پدر اویم، اما در آن وقت کہ خواجۂ من از دار فنا بدار بقا تحویل کرد او را بمن سپردند مرا بدو اگرچہ از روی ظاہر مرادرفرمان او ھمی باید بود اما چون این قضیت را تحقیق کنی نتیجہ بر خلاف این آید، کہ من در مراحل شیبم و اود ر منازل شباب،و آنھا کہ او را این بعث ہمی کنند ناقض این دولت اند نہ ناصح، و ھادم این خاندان ان نہ خادم‘‘ وز غایت ز عارت باسکافی اشارت کرد کہ چون نامہ جواب کنی از استخفاف ھیچ باز و بر پشت نامہ خواہم کہ جواب کنی پس اسکافی بربدیھہ جواب کرد۔
عروضی سمرقندی نے دبیر اور دبیری کے متعلق جو کچھ کہاہے اس کی عبارات مختصر ترجمہ کے ساتھ نقل کی گئی ہے تاکہ قارئین کرام زیادہ سے زیادہ استفادہ کرسکیں:
ھرصناعت کہ تعلق بتفکر دارد صاحب صناعت باید کہ فارغ دل و مرق باشد، کہ اگر بخلاف این بود سھام فکر اومتلاشی شود و برھدف صواب بجمع نیاید زیرا کہ جز بجمعیت خاطر بچنان کلمات باز نتواند خورد۔ آوردہ اند کہ یکی از دبیران خلفاء بنی عباس رضی اللہ عنہم بوالی مصر نامہ می نوشت و خاطر جمع کردہ بود ودر بحر فکرت غرق شدہ، و سخن می پرداخت چون در ثمین و ماء معین، ناگاہ کنیز کش در آمد و گفت: ’’آرد نماند‘‘ دبیر چناں شوریدہ طبع و پریشان خاطر گشت کہ آن سیاقت سخن از دست بداد و بدان صفت منفعل شد کہ در نامہ بنوشت کہ آرد نماند، چنانکہ آن نامہ را تمام کرد و پیش خلیفہ فرستاد و ازین کلمہ کہ نوشتہ بود ھیچ خبر نداشت۔ چون نامہ بخلیفہ رسید و مطالعہ کرد، چوں بدان کلمہ رسید حیران فرو ماند، و خاطرش آئرا بر ھیچ حمل نتوانست کرد، کہ سخت بیگانہ بود۔ کس فرستاد و دبیر را بخوائند و آن حال از او باز پر سید۔ دبیر خجل گشت و براستی آن واقعہ را درمیان نہاد۔ خلیفہ عظیم عجب داشت و گفت:’’اول این نامہ را بر آخر چندان فضیلت و رجحان است کہ قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدْ را بر تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ۔ دریغ باشد خاطر چون شما بلغارا بدست غوغاء ما یحتا باز دادن۔‘‘ و اسباب ترفیہ او چنان فرمود کہ امثال آن کلمہ دیگر ھرگز بغور گوش او فرونشد، لا جرم آنچنان گشت کہ معانی دوکون در دو لفظ جمع کردی۔
ہر فن جس کا تعلق فکر سے ہے، صاحب فن کو فارغ البال اور خوشحال ہونا چاہئے، کیونکہ اگر اس کے خلاف ہوا تو اس کی فکر کے تیر منتشر ہو جائیں گے اور ٹھیک نشانہ پر نہیں بیٹھیں گے۔ اس لیے کہ اطمینان قلب کے بغیر ایسے کلمات دو بارہ ادا نہیں ہو سکتے ۔ لوگوں نے بیان کیاہے کہ خلفائے بنی عباس کا ایک سیکریٹری (دبیر) حاکم مصر کو خط لکھ رہا تھا، دل جوئی کے ساتھ فکر کے سمندر میں غرق ہو کر قیمتی موتی اور جاری پانی کے مثل انشا پردازی کر رہا تھا۔ اچانک اس کی کنیز داخل ہوئی اور کہا: ’’آردنماند‘‘ (آٹا نہیں رہا) سیکریٹری ایسا رنجیدہ و پریشان خاطر ہوا کہ گفتگو کا دو ربط ہاتھ سے نکل گیا اور اس قدر متاثر ہوا کہ خط میںلکھ دیا کہ ’’ آرد نماند‘‘۔ چنانچہ اس خط کو تمام کر خلیفہ کے پاس بھیج دیا، اس کلمہ کے بارے میں جو اس نے لکھا تھا اسے کوئی خبر نہیں تھی، جس وقت خلیفہ کے پاس پہنچا اور اس نے مطالعہ کیا جب اس کلمہ تک پہنچا حیران رہ گیا اور اس کا دل اس کو کسی چیز پر محمول نہ کر سکا کیونکہ بہت بے ربط تھا، ایک شخص کے ذریعہ اس سیکریٹری کو بلا بھیجا اور اس بابت اس سے باز پرس کی۔ سکریٹری (دبیر)شرمندہ ہوا اور سچائی کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کر دیا۔ خلیفہ کو بہت تعجب ہوا اور کہا : اس خط کے اول کو آکر پر اتنی فضیلت اور ترجیح ہے جو ’’ قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدْکو تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ‘‘پر، تم جیسے بلیغوں کے دل کو ضروریات زندگی کے ہنگامہ کے ہاتھوں باز رکھنا افسوس کی بات ہے، اس کی خوشحالی کے اسباب کا ایسا فرمان جاری کیا کہ اس طرح کے کلمے دوبارہ کبھی اس کے گوش گزار نہیں ہوئے۔ یقینا وہ ایسا ہو گیا کہ دونوں جہان کے معانی دو لفظوں میں جمع کر دیتا ہے۔
لمغان شہری است از دیار سند از اعمال غزنین وامروز میان ایشان و کفار کو ھی است بلند، و پیوستہ خائف باشند از تا ختن و شبخون کفار۔ اما لمغانیان مرد مان بشکوہ باشند و جلد و کسوب و با جلدی، زعری عظیم تا بغایتی کہ باک ندارند کہ بر عامل بیک من کاہ و یک بیضہ رفع کنند و بکم ازین نیز روادارند کہ بتظلم بغزنین آیند و یک ماہ و دو ماہ مقام کنند و بی حصول مقصد باز نگردند ۔ فی الجلمہ در لجاج دستی دارند و از ابرام پشتی، مگر در عھد یمین الدولہ سلطان محمود ’’ اَنَارَ اللہُ بُرْھَانَہٗ‘‘ یکی شب کفار برایشان شبخون کردند وبانواع، خرابی حاصل آمد۔ ایشان خود بی خاک مراغہ
کردندی چون این واقعہ بیفتاد، تنی چند از معارف و مشاھیر برخاستند و بحضرت غزنینی آمدند و جامہ ھا بدریدند و سرھا برھنہ کردند و واویلا کنان ببازار غزنین در آمندند و ببارگاہ سلطان حاضر شدند، و بنالیدند و بزاریدند، و آن واقعہ را بر صفتی شرح دادند کہ سنگ و ابر ایشان گریستن آمد، و ھنوز این ز عارت و جلادت و تزویر و تمویہ از ایشان ظاہر نگشتہبود۔ خواجہ بزرگ احمد حسن سیمندی را بر ایشان رحمت آمد و خراج آن سال ایشان را ببخشید و از عوار ضشامصون داشت و گفت: ’’ باز گردید و بیش کوشید و کم خرچ کنید، تا سر سال بجای خویش باز آید‘‘ جماعت لمغانیان بافرحی قوی و بشاشتی تمام باز گشتند و آن سال مرفہ بنتشستد و آب بکس ندادند، و چون سال بسر شد، ھمان جماعت باز آمدند وقصۂ خود بہ خواجہ رفع کردند، نکت آن قصہ مقصود بر آنکہ سال پار خداوند خواجۂ بزرگ ولایت مارا رحمت و عافطت خویش بیار است وبحمایت و حیاطت خود نگاہ داشت، واھل ۔۔۔بدان کرم و عاطفت بجای خویش رسیدند و چنان شدند کہ در آن نغر مقام توانند۔
لمغان، مضافات غزنین سے سندھ کے علاقہ کا ایک شہر ہے، آج ان کے اور کافروں کے درمیان یک بلند پہاڑحائل ہے۔ وہ ہمیشہ کفار کے شبخون مارنے اور حملہ کرنے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ لیکن لغانی صاحب حشمت ،طاقتور، محنت کش اور طاقت کے ساتھ بڑے بد خلق ہوتے ہیں ۔ اس حد تک کہ انھیںپراوہ نہیں ہوتی کہ حاکم کے پاس ایک سیر بھوسا اور ایک انڈے کی شکایت لے کر جائیں اور اس سے کم میں بھی جائز سمجھتے ہیں کہ اظہار مظلومیت کے ساتھ غزنین آئیں، ایک یادو ماہ قیام کریں اور مقصد کے حاصل ہوئے بغیر واپس نہ جائیں۔ خلاصہ یہ کہ جھگڑنے میں ماہر ہیں اور قطع رحم میں ایک دوسرے کے حامی ہیں۔ اتفاقا یمین الدولہ سلطان محمود ’’ اَنَارَ اللہُ بُرْھَانَہ‘‘ (خدا اس کی حجت کو روشن کرے) کے زمانے میں ایک رات کفار نے ان پر شبخون مارا، مختلف قسم کی تباہی رونما ہوئی۔ یہ خود بہانہ تلاش کر رہے تھے، جب یہ واقعہ پیش آیا، چند مشہور و معروف لوگ اٹھے اور غزنین کے دربار میں آئے، کپڑوں کو چاک اور سروںکو برہنہ کرکے آہ و فغاں کرتے ہوئے غزنین کے بازار میں داخل ہوئے، بادشاہ کی بارگاہ میں پہنچے اور نالہ و زاری کی ۔اس واقعہ کو اس انداز میں بیان کیا کہ پتھر کو بھی ان پر رونا آئے، ابھی یہ بدخوئی، چالاکی اور مکرو فریب ان سے ظاہر نہیں ہوا تھا ، خواجہ بزرگ احمد حسن سیمندی کو ان پر رحم آیا، اس سال کا ٹیکس معاف کر دیا، انھیںاضافی ٹیکس کی ادائیگی سے محفوظ رکھا اور کہا : واپس جائو ، زیادہ محنت کرو اور کم خرچ کرو…
گورخان خطائی بدر سمرقندباسلطان عالم سنجرین ملکشاہ مصاف کرد، و لشکر اسلام را چنان چشم زخمی افتاد کہ نتوان گفت و ماوراء النھر او را مسلم شد بعد اش کشتن امام مشرق حسام الدین ’’ اَنَارَ اللہُ بُرْھَانَہ وَ وَسَّعَ عَلَیْہِ رِضْوَانَہُ‘‘ پس گورخان، بخارا رابہ ا تمتگین داد پسر امیر بیابانی، برادرزادۂ خوارز مشاہ اتسز، د در وقت باز گشتن او را بخواجہ امام تاج الاسلام احمد بن عبدالعزیز سپرد کہ امام بخارا بود و پسر برھان،تا ھر چہ کند با شارت کند و بی امراوھیچ کاری نکند و ھیچ حرکت، بی حضور او نکند، و گور خان باز گشت و بہ برسخان باز رفت و عدل او را اندازہ ای نبود و نفاذ امر او را حدی نہ۔ والحق حقیقت پادشاہی ازین درویش نیست۔ اتمتگین چون یدان تنھا یافت دست بظلم برد و از بخارا استخراج کردن گرفت۔ بخاریان تنی چند بوفدسوی بر سخان رفتند و تظلم کردند۔
گورخان خطائی نے شہر سمرقند کے دروازے پر سلطان عالم سنجر بن ملک شاہ کے ساتھ جنگ کی اور لشکر اسلام کو ایسی نظر بد لگی جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مشرق کے امام حسام الدین ’’ اَنَارَ اللہُ بُرْھَانَہ وَ وَسَّعَ عَلَیْہِ رِضْوَانَہُ‘‘(خدا اس کی حجت کو روشن کرے اور اس پر اپنی مرضی کو وسیع کرے) کے قتل ہونے کے بعد ما وراء النہر اس کے تصرف میں آگیا ۔ پس گور خان نے بخارا کو امیر بیابانی کے بیٹے، خوارزم شاہ اتسز کے بھتیجے، اتمتگین کے سپرد کیا اور واپسی کے وقت اسے خواجہ امام تاج الاسلام احمد بن عبدالعزیز کے حوالے کیا جو بخارا کا امام اور برہان کا فرزند تھا، تاکہ جو کچھ کرے اس کے حکم سے کرے اور اس کے فرمان کے بغیر کوئی کام انجام نہ دے اور اس کی موجودگی کے بغیر کوئی عملی اقدام نہ کرے، گور خان واپس ہوا اور شہر برسخان چلا گیا، اس کے عدل کا کوئی انداز نہیں تھا اور نہ اس کے امر کے نفا ذ کی کوئی حد تھی اور سچ تو یہ ہے کہ بادشاہی کی حقیقت ان دو چیزوں سے زیادہ نہیں ہے۔ جب میدان خالی پایا تو ظلم کرنے لگا اور بخارا سے جزیہ لینا شروع کر دیا۔ چند بخاری کی شکل میں برسخان گئے اور فریاد کی۔
فارسی زبان وادب میں بھی بے شمار مکتوبات رقم کیے گئے بزرگان دین سے لے کر صوفیاء ، ائمہ، علماء، فضلاء اور دانشوروں نے اپنی باتوں کو خواص تک پہنچانے کے لیے خطوط کا ہی سہارا لیا، عہد مملوکیہ ، بہمنیہ اور تیموریہ میں یہ فن نقطۂ عروج کو پہنچا۔شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی المعروف بہ غوث پاک کے تحریر کردہ خطوط کا مجموعہ مکتوبات جیلانی کے نام سے طبع ہوکر منظر عام پر آچکا ہے۔حجتہ الاسلام امام محمد غزالی کی مکاتیب غزالی کے نام سے کتاب چھپ چکی ہے۔نامہ ہا و منشآت جامی، نورالدین عبدالرحمن بن احمد جامی المعروف بہ علامہ جامی اس کو مقدمہ اورترتیب دیا ہے عصام الدین اورون بایف و اسراررحمانوف نے ۔مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم تاغلام شمس تبریزی نہ شد جیسے شعر کے خالق جلال الدین رومی کے مکتوبات اور خطوط کا مجموعہ مکتوبات جلال الدین رومی کے عنوان سے چھپ چکاہے۔ شیخ سعدی شیرزای، حافظ، عمر خیام کے خطوط بھی ملتے ہیں۔منشآت قائم مقام فراھانی، منشآت خاقانی منظرعام پر آچکے ہیں:
پیش ازا ین درمیان ملوک عصر و جبابرۂ روزگار پیش چون پیشدادیان وکیان وا کاسرہ و خلفا رسمی بودہ است کہ مفاخرت و مبارزت بعدل و فضل کردندی، وھر رسولی کہ فرستادندی از حکم و رموز ولغز، مسائل با او ہمراہ کردندی، و دراین حالت پادشاہ محتاج شدی با رباب عقل و تمیز و اصھاب رای و تدبیر، و چند مجلس درآن نشستندی و برخاستندی، تا آنگاہ کہ آن جوابھا بریک وجہ قرار گرفتی، و آن لغز و رموز ظاہر و ھویداشدی، آنگاہ رسول را گسیل کر دندی۔ و این ترتیب برجای بودہ است تا بروز گار سلطان عادل یمین الدولہ والدین محمود بن سبکتگین ’رحمہ اللہ‘ و بعد از او چون سلجوقیان آمدند و ایشان مرد مان بیابان نشین بوددند و از مجاری احوال و معانی آثار ملوک بی خبر، بیشتر از رسول پادشاہی بروزگار ایشان مندرس شدوبسی از ضروریات ملک منطمس گشت، یکی از اان دیوان برید است، باقی برین قیاس توان کردن۔ آوردہ اند کہ سلطان یمین الدولہ محمود ’رحمہ اللہ‘ روزی رسولی فرستاد بماوراء النھر بنزدیک بفراخان و در نامہ ای کہ تحریر افتادہ بود تقریر کردہ این فصل کہ ’’قال اللہ تعالیٰ: اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقَاکُمْ‘‘ و ارباب حقائق و دقائق بر آن قراردادہ اند کہ این تقیہ از جھلمی فرماید
اگلے زمانہ میں شاہان وقت اور زمانہ گذشتہ کے سنگ دل حاکموں مثلا ً پیشادیان اکابرہ اور خلفاء کے درمیان ایک رسم تھی کہ عدل و فضل کی بنیاد پر ایک دوسرے پر فخر کرتے اور باہم جنگ کرتے، جس قاصد کو بھیجتے حکمتوں، معموں اور پہیلیوں کے سوالات اس کے ہمراہ کرتے ۔ اس صورت میں بادشاہ ، ارباب عقل ودانش اور اہل مشورہ تدبیر کا محتاج ہوتا، اس بارے میں چند مجلسیں منعقد کرتے اور اٹھ جاتے، یہاں تک کہ جس وقت وہ جوابات اتفاق رائے سے طے ہو جاتے اور وہ پہیلی اور معمے حل ہو جاتے، اس وقت قاصد کو روانہ کرتے، یہ رسم سلطان
عادل یمین الدولہ والدین محمود بن سبکتگین کے زمانہ تک قائم رہی ، اس کے بعد جب سلجوقیوں کا زمانہ آیا تو صحرا نشین لوگ بادشاہوں کے آثار کی بلندیوں اور ان کے احوال کی راہوں سے بے خبر تھے۔ بہت سی شاہی رسمیں ان کے زمانہ میں فرسودہ ہو گئیں اور بہت سے لواز حکومت نابود ہو گئے، ان میں سے ایک ’’دیوان برید‘‘ (خط و کتابت کا دفتر) ہے، باقی کو اسی پر قیاس کرسکتے ہیں۔ لوگوں نے بیان کیا ہے کہ سلطان یمین الدولہ محمود نے ایک دن ما ورالنہر میں بغراخان کے پاس یک ایک قاصد بھیجا اور جو خط تحریر کیا گیا تھا اس میں یہ فضل بیان کی گئی تھی کہ ’’قال اللہ تعالیٰ: اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقَاکُمْ‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک خدا کے نزدیک تم میں زیادہ با عزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
چوں اسکافی را کار بالا گرفت، در خدمت امیر نوح بن منصور متمکن گشت، و ماکان کاکوی بہ ری و کوھستان عصیان آغاز کرد و سراز ربقۂ اطاعت بکشید و عمال بہ خوار و سمنک فرستاد و چند شہر از کومش بدست فرو گرفت و نیز از سمانیان یاد نکرد ۔ نوح بن منصور بترسید از آنکہ او مردی سھمگین و کافی بود، و بتدارک حال او مشغول گشت، و تاش سپھسالا ر را باھفت ھزار سواربہ حرب او نامزد کرد کہ برود و آن فتنہ را فرو نشاند و آن شغل گران از پیش برد گیرد، برآن و جہ کہ مصلحت بیند، کہ تاش عظیم خرد مند بود و روشن رای ، ودر مضایق چست در آمدی چابک بیرون رفتی و پیروز جنگ بودی، و از کار ھیچ بی مراد باز نگشتہ بود وازحربھا ھیچ شکستہ نیا مدہ بود و تااو زندہ بود ملک بنی سامان رو نقی تمام و کار ایشان طراوتی قوی داشت۔ پش درین واقعہ، امیر عظیم مشغول دل بود و پریشان خاطر۔
جب اسکافی کو ترقی ملی، امیر نوح بن منصور کی بارگاہ میں سکونت پذیر ہوا، ماکان کاکوی نے کچھ شہر اور پہاڑی علاقہ میں بغاوت شروع کر دی اور حلقۂ اطاعت سے سر کھینچ لیا، خوار (ایک شہر کا نام) اور سمنک (ایک چھوٹے شہر کا نام) میں عامل بھیجے اور کومش (ایک ریاست کا نام) کہ چند شہروں پر قابض ہو گیا اور سامانیوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی۔ چونکہ وہ (ماکان) ایک خوفناک اور عقلمند آدمی تھا نوح بن منصور خوفزدہ ہوا اور اسکے حال کی تلافی میں مشغول ہوا، تاش امیر لشکر کو سات ہزار سوار کے ساتھ اس سے جنگ کے مقرر کیا تا کہ جائے اور اس فتنہ کو رفع کرے اور اس دشوار مہم کو جس طرح مناسب سمجھے سر کرے، کیونکہ تاش نہایت عقلمند اور روشن فکر تھا، تگ راہوں میں تیزی سے داخل ہوتا اور ہوشیاری سے نکل آتا اور جنگ سے شکست کھار نہیں پلٹا تھا، جب تک وہ زندہ رہا بنی سامان کے ملک کو نہایت رونق اور ان کے کام کو بڑی تازگی حاصل تھی۔ اس واقعہ سے امیر بہت فکرمند اور پریشان خاطر تھا۔
جب ہندوستان میں صوفیوں رشی منیوں اور بزرگوں کی آمد ہوئی تو ان بزرگان دین نے اپنی باتوں کو عوام و خواص تک پہنچانے کے لیے مخطوطات ، مکتوبات اور ملفوظات کا سہارالیا ۔داتا گنج بخش ہجویری، خواجہ معین الدین چشتی غریب نوازکی اسرار حقیقی مکتوبات میں شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہے، قطب الدین بختیار کاکی، بابا فرید الدین گنج شکر،نظام الدین اولیاء،بو علی شاہ قلندر پانی پتی کے مکتوبات و خطوط کا مجموعہ مکتوبات بو علی شاہ کے عنوان سے منظر عام پر آیا ہے،سراج الدین اخی آئینہ ہند،علاء الحق پنڈوی کے صاحبزادے شیخ نورالدین نور قطب عالم پنڈوی کے مکتوبات اور مخطوطات گلزار ابرار کے عنوان سے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا چکاہے ، مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کا لکھا ہوا مکتوبات اشرفی کے نام سے چھپ چکا ہے۔ وارث پاک، بندہ نواز گیسودرازکا تحریر کردہ خطوط، مکتوب، مکتوبات گیسودراز کے نام سے
منظر عام پر آچکاہے۔مکتوبات: اس مجموعے میں حضرت بندہ نواز کے ۶۶ مکتو بات ہیںجس کو ۸۵۲ھ میں ابو الفتح علاء الدین قریشی نے جمع کیا تھا ۔ حضرت بندہ نواز نے مولانا قطب بدر کے نا م اپنے ایک مکتو ب میں تحریر فرمایا ہے کہ ’’خدا کی یا د اور اس کے کا م کے سوا جو کچھ ہے سب خرافات اور لہو و لعب ہی نہیں بلکہ ممنو ع بھی ہے۔فوائدِحضرت خواجہ بندہ نواز علیہ الرحمہ ،صفحہ ۱۵:حسنِ خاتمہ کے سلسلے میں اپنے ایک مکتوب میں حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز علیہ الرحمہ فر ماتے ہیں :
’’ اہل تحقیق میں ایسے بھی لوگ ہو تے ہیں جو تجلیاتِ قہر و جلال اور تجلیاتِ لطف و جمال میں کر وٹیںبدلتے رہتے ہیں، تجلیِ جلالی یہ ہے کہ بندہ مالکِ حقیقی کی عزت و عظمت ،ہیبت و کبریائی کی آنچ میں تپتا رہے، تجلیات ِ قہر وہ ہیں جنہیں اگر صورت دی جائے تو مکروہات شرعی، شیرو گرگ کی صورت میں نظر آئیں انھیں نعتِ قہر کہتے ہیں ، تجلی جمال ان سب اشیاء میں پائی جاتی ہے جو ملیح و خوبصورت ہوں نازو کرشمے ، غنج و دلال ان کی رگ رگ میں ہوں اور تجلیات ِ لطف لقائے یار و ایصال ِ راحت اور اثبات ِ کرامت میں پر تو افگن ہوتی ہیں ، لیکن در حقیقت قہر و جلال بھائی بھائی اور لطف و جمال بہنیں بہنیں ہیں ۔جلال جمال میں مندرج ہے اور جمال ،جلال میں مند مج ہے، ایسے خدا پرست کا حُسن خاتمہ اس میں ہیکہ تجلی جمال پر سانس ٹوٹے۔ ان تجلیات کو اختیاری نہ سمجھنا۔‘‘
***
حواشی۔1- احمد نظامی عروضی سمرقندی، چہار مقالہ، مختلف مطبوعات۔
2- شاہ معین الدین ندوی، تاریخِ اسلام، جلد اول، دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ۔
3- علامہ شبلی نعمانی، الفاروق، دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ۔
4- قلقشندی، صبح الاعشیٰ فی صناعة الانشاء، دارالکتب المصریہ، قاہرہ۔
5- علامہ محمد بن عبدالباقی الزرقانی، شرح المواہب اللدنیہ، دارالکتب العلمیہ، بیروت۔
Professor Shahid Naukhez Azmi
Director, Centre for Studies of Urdu Culture,
Maulana Azad National Urdu University
(MANUU)Hyderabad – 500032, Telangana,
India Mobile: 9966790046
***

No comments:
Post a Comment