غلام مرتضیٰ (ریسرچ اسکالر)
فیض احمد فیضؔ اردو ادب کے اُن عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف حسن و محبت کے جذبات کو مہمیز دی بلکہ سماجی اور سیاسی شعور کو بھی بیدار کیا۔ ان کی پیدائش 13 فروری 1911ء کو سیالکوٹ میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے عربی اور انگریزی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔
فیضؔ کی شاعری کا آغاز رومانوی فضا میں ہوا، جہاں عشق، ہجر، وصال اور محبوب کی دلکشی بنیادی موضوعات رہے۔ ان کی ابتدائی غزلوں میں کلاسیکی رنگ، لطافت، نغمگی اور دلفریبی نمایاں نظر آتی ہے۔ زبان کی سادگی اور اظہار کی دلکشی ان کی غزلوں کو عام قاری کے لیے بھی پرکشش بناتی ہے۔فیض احمد فیضؔ کے یہ دو شعر ملاحظہ فرمائیں: ؎
دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
ویراں ہے میکدہ خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
تاہم ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے بعد ان کی شاعری میں ایک نمایاں فکری تبدیلی رونما ہوئی۔ انہوں نے شاعری کو محض جذباتی اظہار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی ناانصافی، استحصال، غلامی اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز بلند کرنے کا ذریعہ بنایا۔ اس دور میں ان کی نظموں میں انقلابی جوش، احتجاج اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے۔آل احمد سرور فیض احمد فیضؔ کے رمزیہ انداز کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’فیض کی شاعری Direct سے زیادہ Oblique ہے۔ وہ صراحت کے نہیں، رمز کے شاعر ہیں، ان کا ماننا ہے کہ فیضؔ نے سیاسی موضوعات کو بھی تغزل کی سرمستی اور سحر کاری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی شاعری دلکش اور مسحور کن بن گئی ہے۔‘‘ 1؎
فیضؔ کی مشہور نظم ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘‘ آزادیٔ اظہار اور انسانی وقار کی علامت ہے، جبکہ ’’مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ‘‘ میں ذاتی عشق سے اجتماعی دکھ کی طرف واضح فکری ارتقا دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح وہ رومان سے حقیقت کی طرف ایک بامعنی سفر طے کرتے ہیں۔ان کی شاعری کو عموماً دو ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے:
پہلا دور رومانوی ہے جس میں عشقیہ جذبات غالب ہیں، جبکہ دوسرا دور انقلابی ہے جس میں سماجی اور سیاسی شعور نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس دوسرے دور میں فیضؔ نے مزدوروں، کسانوں اور محکوم طبقات کے دکھ درد کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔
فیضؔ کی غزلوں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے عشق کے روایتی تصور کو وسعت دے کر اسے اجتماعی زندگی سے جوڑ دیا۔ ان کے ہاں عشق محض محبوب تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع انسانی ہمدردی اور انقلاب کا استعارہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے ان کے بہت سے اشعار بظاہر عشقیہ ہوتے ہیں لیکن ان کے پس منظر میں گہرا سیاسی اور سماجی شعور کارفرما ہوتا ہے۔فیض کی غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام
موسم گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
دوستو اس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر
گلستاں کی بات رنگیں ہے نہ مے خانے کا نام
پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام
اگرچہ فیض احمد فیضؔ کے یہ اشعار بظاہر تو رومانی انداز میں ہیں مگر ان کی باطنی کیفیت کچھ اور انداز بیان کرتی ہے۔شاعر اپنے وطن سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے میرے وطن تیری آزادی کے دن بہت قریب ہیں ایک نہ ایک دن ضرور ان غلامی کی زنجیروں سے آزادی ملے گی اور ہمیں بھی سکون کی سانس میسر ہوگی۔
فنی اعتبار سے بھی فیضؔ کی شاعری بے مثال ہے۔ ان کے کلام میں سوز و گداز، شدتِ احساس، رمزیت، علامت نگاری اور تہذیبی شعور نمایاں ہے۔ انہوں نے سیاسی موضوعات کو بھی تغزل کے حسین پیرائے میں پیش کیا، جس سے ان کی شاعری میں دلکشی اور اثر انگیزی مزید بڑھ گئی۔ ان کے کلام میں سوز و گداز، نغمگی، سادگی اور تاثیر کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کی زبان نہایت شستہ اور رواں ہے، جو قاری کے دل میں براہِ راست اترتی ہے۔ ان کے ہاں فارسی اور عربی الفاظ کا استعمال بھی نہایت سلیقے سے کیا گیا ہے، جو ان کی شاعری کو ایک کلاسیکی وقار عطا کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے جدیدیت کو بھی اپنی شاعری میں جگہ دی، جس سے ان کا کلام ایک ہمہ جہت ادبی تجربہ بن جاتا ہے۔
فیض احمد فیضؔ کی شاعری جمالیات، رومان اور انقلاب کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے اردو شاعری کو نہ صرف فکری وسعت عطا کی بلکہ اسے عوامی شعور اور بیداری کا مؤثر ذریعہ بھی بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام آج بھی زندہ اور معنویت سے بھرپور محسوس ہوتا ہے۔ فیضؔ کی شاعری میں تہذیبی شعور بھی نمایاں ہے۔ وہ اپنی شاعری میں مشرقی تہذیب، اسلامی روایات اور انسانی اقدار کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ وہ آفاقی معنویت اختیار کر لیتی ہیں۔ ان کے ہاں محبت، امن، آزادی اور انصاف جیسے موضوعات محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی جدوجہد کے استعارے بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری صرف ادب تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک سماجی و سیاسی تحریک کا حصہ بن جاتی ہے۔
فیضؔ کی شاعری کے اثرات نہ صرف برصغیر بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے گئے ہیں۔ انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ملی اور ان کا شمار اُن شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب کو انسانی آزادی اور انصاف کی جدوجہد کا ذریعہ بنایا۔ ان کا کلام آج بھی مختلف تحریکوں، جلسوں اور ادبی محفلوں میں اسی جوش و جذبے کے ساتھ پڑھا جاتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی شاعری وقت کی قید سے آزاد ہے۔
فیض احمد فیض کی شاعری محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی اور انسانی شعور کی عکاسی ہے۔ ان کے کلام میں محبت، انقلاب اور انسان دوستی کے عناصر اس انداز سے یکجا ہو جاتے ہیں کہ وہ قاری کو اپنے عہد اور معاشرے کے ساتھ ایک نئے رشتے میں باندھ دیتے ہیں۔ فیض کی فکر میں جہاں جمالیاتی لطافت ہے وہیں ایک وسیع انسانی ہمدردی بھی کارفرما ہے، جو ان کی شاعری کو آفاقی بنا دیتی ہے۔ اسی تناظر میں ناقدین نے ان کے فن کو برصغیر کی تہذیبی روایت اور انسانی اقدار کا تسلسل قرار دیا ہے:
’’فیض احمد فیضؔ برصغیر کی تہذیب کی جمالیات سے رشتہ رکھتے ہیں جس کی جڑیں اس زمین کی گہرائیوں میں پیوست اور دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ فیضؔ کی شخصیت کا ارتقا اسی تہذیب میں ہوا ہے۔ ان کی شاعری اسی تہذیب کی جمالیات کے مختلف پہلوؤں کو پیش کرتی ہے۔ ان پہلوؤں اور جہتوں کو ’’ہیومنزم‘‘ کے جمالیاتی مظاہر سے تعبیر کرنا مناسب ہوگا۔‘‘2؎
اگر ہم فیضؔ کی شاعری کا مجموعی جائزہ لیں تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ انہوں نے رومان کو انقلاب سے، اور جمالیات کو شعور سے اس طرح ہم آہنگ کیا کہ ان کی شاعری ایک مکمل انسانی تجربہ بن گئی۔ ان کے ہاں حسن محض ظاہری نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور سماجی قدر بھی ہے اور عشق محض جذباتی نہیں بلکہ ایک انقلابی قوت بھی ہے۔مختصراً فیض احمد فیضؔ کی شاعری ایک ایسا حسین امتزاج ہے جس میں جمالیات، رومان اور انقلابی شعور ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو گئے ہیں کہ انہیں الگ کرنا ممکن نہیں۔ ان کا کلام نہ صرف ادبی لحاظ سے اہم ہے بلکہ انسانی شعور کی بیداری اور سماجی تبدیلی کے لیے بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیضؔ آج بھی زندہ ہیں اپنے اشعار میں، اپنے نظریات میں، اور ان دلوں میں جو انصاف، آزادی اور محبت کے خواب دیکھتے ہیں۔
حوالہ جات:
1؎۔ آل احمد سرور، مضامین ’’نئی اور پرانی قدریں‘‘
2؎۔ شاہد ماہلی، مرتب، ’’فیض احمد فیضؔ: عکس اور جہتیں‘‘، 1987، ص 141
Ghulam Murtaza
Department of Urdu,University of Hyderabad
Phone: +91 9906069036, +91 7889791472
Email:rtazarahi32@gmail.com
چکبستؔ کا زمانہ ہندوستان میں سیاسی، سماجی اور معاشرتی بیداری کا زمانہ تھا۔ یہ ملک کی تاریخ کا ایک اہم دور تھا جب ہندوستان کے لوگ انگریزی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے طریقے تلاش کر رہے تھے۔ ۱۸۵۷ء میں آزادی کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھامگر انگریزوں نے اسے سختی سے دبا دیا۔ اس کے نتیجے میں عوام کے اندر ایک مدت تک مایوسی اور شکست کا احساس پیدا ہو گیا اور ملک کو شدید بے چینی اور ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا۔اسی پس منظر میں چکبست ؔکے معاصر شعرا ء کی شاعری میں بھی اس زمانے کے سیاسی اور سماجی حالات، واقعات اور مختلف مسائل کی جھلک ملتی ہے لیکن چکبستؔ کو اس میدان میں جو نمایاں مقام حاصل ہے وہ دوسروں کو کم ہی نصیب ہوا۔ انہوں نے اپنے دور کے سیاسی حالات، تحریکِ آزادی کے خیالات، قومی شعور، حبِ وطن کے جذبات اور تعلیمِ نسواں کی اہمیت کو نہایت مؤثر اور خوبصورت شاعرانہ انداز میں پیش کیا جو ان کی فنی مہارت اور انفرادیت کی واضح علامت ہے۔بلاشبہ چکبست ؔنے زیادہ شاعری نہیں کی لیکن جو کچھ بھی انہوں نے کہا وہ اثر انگیز اور معنی خیز ہے۔ غزلوں، مرثیوں اورنظموں پر مشتمل شعری مجموعہ’’صبحِ وطن‘‘نے انہیں اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم شاعر کے طور پر پہچان دلائی۔ چکبستؔ اپنے زمانے کے صرف جدید رجحانات کے حامل شاعر ہی نہیں تھے بلکہ اپنے عہد کی نمائندگی کرنے والے شاعر بھی تھے اپنے معاصر شعرا ء کے درمیان ان کا مقام نہایت بلند سمجھا جاتا تھا۔
اگرچہ وہ مرزا غالبؔ، خواجہ حیدر علی آتشؔ اور میر انیسؔ سے متاثر تھے لیکن ان کی شاعری میں بالخصوص میر انیس ؔاور آتشؔ کے اسلوب کی جھلک زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ میر انیس ؔکے اثر کے تحت انہوں نے رامائن کے ایک واقعے کو مسدس کی شکل میںاپنی نظم’’رامائن کا ایک سین‘‘میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ نظم اردو شاعری میں منظر نگاری کا ایک نہایت خوبصورت نمونہ سمجھی جاتی ہے اس کا مطالعہ کرتے ہوئے جہاں میر انیس ؔکے اندازِ بیان کی جھلک محسوس ہوتی ہے وہیں انسانی جذبات کی بھرپور عکاسی اور مختلف مناظر کی مؤثر تصویر کشی بھی سامنے آتی ہے۔درحقیقت یہ نظم رام چندر اور ان کی ماں کے درمیان ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے نظم کی ابتدا رام چندر کی رخصتی کے منظر سے ہوتی ہے۔ اس حصّے کے اشعار قاری کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیںجو چکبستؔ کی ذہانت اور ان کی گہری فکر کا ثبوت ہے۔ ابتدائی بندوں میں ماں اور بیٹے کی ملاقات اور جدائی کے منظر کو نہایت مؤثر اور دلگداز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام
راہِ وفا کی منزل اوّل ہوئی تمام
منظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظام
دامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلام
دل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نو نہال
خاموش ماں کے پاس گیا وہ صورتِ خیال
کیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ نے گناہ
نورِ نظر پہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہ
جنبش ہوئی لبوں کو بھری اک سرد آہ
لی گوشۂ چشم سے اشکوں نے رخ کی راہ
چکبست ؔکا ادبی ذوق بنیادی طور پر لکھنوی روایت سے وابستہ تھا اور ان کی شخصیت و شاعری میں اس رنگ کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے انہیں اردو کے ساتھ ساتھ فارسی زبان پر بھی اچھی دسترس حاصل تھی۔ ادبی اعتبار سے وہ اس مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے جسے عموماً لکھنؤ اسکول کہا جاتا ہے۔ یہ دبستان اپنے مخصوص طرزِ بیان، نرم و نازک لب و لہجے، تکلف آمیز انداز اور ظاہری نزاکت کے لیے معروف رہا ہے۔ اس مکتب سے وابستہ ادیب زیادہ تر لفظی خوبصورتی، ظاہری آرائش اور معنی کی لطافت کو اہمیت دیتے تھے مگر چکبستؔ نے اس روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی اپنی شاعری میں نئے پہلو پیدا کیے۔انہوں نے محض لفظی سجاوٹ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خیال کی گہرائی اور معنی کی وسعت کو بھی اہمیت دی۔ان کی شاعری میں فنی نزاکت کے ساتھ ساتھ فکر کی تازگی بھی ملتی ہے۔ چونکہ وہ نہایت حساس طبیعت کے مالک تھے اس لیے انہوں نے یہ محسوس کیا کہ زندگی صرف محبوب کے حسن اور روایتی عشقیہ موضوعات تک محدود نہیںبلکہ اس کے دامن میں معاشرتی اور انسانی مسائل کی ایک وسیع دنیا بھی موجود ہے۔ اسی احساس کے تحت انہوں نے لکھنوی دبستان کی ظاہریت کے بجائے باطنی کیفیت اور داخلی احساسات کو زیادہ اہمیت دی۔
چکبستؔ کے کلام میں اپنے ہم عصر شعرا ء کی طرح روایتی حسن و عشق کے مضامین زیادہ نمایاں نہیں ہیں۔ اس کے برعکس ان کی شاعری میں اپنے عہد کے انسان کے دکھ، اضطراب اور فکری کشمکش کی گہری جھلک ملتی ہے۔ ان کی نظموں میں زندگی اور کائنات کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے وطن، سماج، سیاست، معاشرت اور اقتصادی حالات جیسے موضوعات کو اپنی شاعری کا حصّہ بنایا اور ہندوستانی عوام کی مشکلات اور محرومیوں کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔حب الوطنی کے جذبے کے اظہار میں بھی ان کا مقام نمایاں ہے اس حوالے سے ان کے کلام میں فطرت کے دلکش مناظر اور وطن سے محبت کے جذبات بڑی شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہی خصوصیات ان کی شاعری کو ایک وسیع فکری پس منظر عطا کرتی ہیں اور انہیں اردو شاعری کی روایت میں ایک منفرد اور اہم شاعر کے طور پر نمایاں کرتی ہیں۔چکبست ؔکو ہندوستان کی غلامی پر گہرا افسوس تھا لیکن ان کی دل گرفتگی صرف سیاسی محکومی تک محدود نہیں تھی۔ دراصل انہیں اس بات کا زیادہ دکھ تھا کہ ہندوستانی قوم کے اندر غلامی کی ذہنیت پیدا ہو گئی تھی اور لوگ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کرنے لگے تھے۔ ان کے نزدیک یہ صورتِ حال دراصل قوم کی جہالت اور باہمی اختلافات کا نتیجہ تھی جس نے معاشرے کو کمزور اور منتشر کر دیا تھا۔
کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھی
پر اب عروج وہ علم وکمال فن میں نہیں
غرور و جہل نے ہندوستاں کو لوٹ لیا
بجز نفاق کے اب خاک بھی وطن میں نہیں
پرانی کاوشیں دیر وحرم کی مٹتی جاتی ہیں
نئی تہذیب کے جھگڑے ہیں اب شیخ و برہمن میں
چکبستؔ کی شاعری کا ایک نمایاں رخ قومی شاعری بھی ہے انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے ہندوستانی عوام خاص طور پر نوجوان نسل کے اندر قومی شعور بیدار کرنے کی کوشش کی۔ ان کی خواہش تھی کہ لوگ وطن کی قدر کریں اور قومی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے اپنی شاعری میں حبِ وطن کے جذبات کو ابھارا اور قوم کو بیداری کا پیغام دیا۔ان کو ہندوستان کے شاندار ماضی اور اس کی قدیم تہذیبی روایتوں سے گہری عقیدت تھی وہ اپنے ملک کی تاریخ اور ثقافتی اقدار کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اسی احساس کے تحت انہوں نے اپنی نظم’’خاکِ ہند‘‘میں ہندوستان کے عظیم اور درخشاں ماضی کا بڑے فخر اور محبت کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اسی سلسلے میں وہ کہتے ہیں:
اے خاکِ ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہیں
دریائے فیض قدرت تیرے لیے رواں ہے
اس خاکِ دل نشین سے چشمے ہوئے وہ جاری
چین و عرب میں جن سے ہوتی تھی آب یاری
برسوں سے ہو رہا ہے برہم سماں ہمارا
دنیا سے مٹ رہا ہے نام و نشاں ہمارا
کچھ کم نہیں اجل سے خواب گراں ہمارا
اک لاش بے کفن ہے ہندوستاں ہمارا
اے صورِ قومیِ اس خواب سے جگا دے
بھولا ہوا فسانہ کانوں کو پھر سنا دے
غنچے ہمارے دل کے اس باغ میں کھلیں گے
اس خاک سے اٹھے ہیں اس خاک میں ملیں گے
چکبست ؔکو فطرت اور قدرتی مناظر سے گہری دلچسپی تھی اسی وجہ سے ان کی بہت سی نظموں میں منظر نگاری نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ قدرتی حسن کی تصویر کشی ان کے فن کا اہم حصّہ بن گئی تھی۔ وہ اپنے اشعار کے ذریعے فطرت کے مختلف رنگوں اور دلکش مناظر کو نہایت دلنشیں انداز میں پیش کرتے ہیںان کی نظم’’کشمیر‘‘اس کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ اس نظم میں انہوں نے کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کو بڑی دلکشی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ بلند پہاڑ، سرسبز و شاداب مرغزار، بل کھاتی ہوئی پگڈنڈیاں، پیچ و خم کے ساتھ بہتی ندیاں، ٹھنڈے اور شیریں چشمے، جھیل ڈل میں تیرتی کشتیاں، نغمے گاتے ملاحسب کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کشمیر کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
محتاج نہیں وصف کا یہ خطۂ دل گیر
ہے رو کشِ گلزارِ جناں گلشن کشمیر
وہ موج ہوا کا حرکت ابر کو دینا
چشموں سے پہاڑوں کے اڑتا ہوا پھینا
گاتے ہوئے ،لاحوں کا وہ کشتیاں کھینا
ڈل کا وہ سرِشام ادھر کروٹیں لینا
وہ صبح کو کہسار کے پھولوں کا مہکنا
وہ جحاڑیوں کی آڑ میں چڑ یوں کا چہکنا
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ چکبست ؔکی شاعری کا بنیادی محور حبِ وطن کا جذبہ ہے۔ ان کے کلام کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ انہوں نے فلسفیانہ بحثوں یا روایتی حسن و عشق کے مضامین کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنی شاعری کو ملک کی اصلاح، سیاسی شعور اور قومی بیداری کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بنایا۔ان کی بیشتر شاعری میں وطن سے محبت کا جذبہ نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ ان کا مقصد ہندوستانی عوام کو بیدار کرنا اور انہیں اپنے حالات کا شعور دلانا تھا۔ اسی لیے انہوں نے نصیحت آمیز انداز اختیار کرتے ہوئے قوم کو اپنے شاندار ماضی اور مشرقی تہذیب و تمدن سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی تلقین کی۔چکبست کے کلام کی ایک اہم خوبی اس کی سادہ اور رواں زبان ہے ان کی شاعری میں دلکش منظر نگاری اور جذبات کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے۔ ساتھ ہی ان کا کلام قومی شعور، ملک و قوم کی محبت اور عوام کے درد و احساس کا مؤثر اظہار بھی پیش کرتا ہے۔
حوالہ جات:
۱؎ صبح وطن،نامی پریس لکھنؤ،ایڈیشن چوتھا،دسمبر ۱۹۸۵ء
۲؎ روح چکبست،رام نرائن لال ارن کمار،کڑہ،الاآباد،۱۹۸۸ء
۳؎ صبح وطن،نامی پریس لکھنؤ،ایڈیشن چوتھا،دسمبر ۱۹۸۵ء،
۴؎ منتخب نظمیں،نظم(کشمیر)،اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ،
Sabzar Sikandar Seh
Research Scholar,University of Hyderabad
Hyderabad – 500046,Phone: +91 7006234934
جلد - 1 - شماره 08 مئی 2026
No comments:
Post a Comment