Breaking News

New Issue Published • Ocotber 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam نیا شمارہ شائع ہوگیا • اکتوبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Wednesday, May 27, 2026

جدوجہد آزادی اورمولانا ابوالکلام آزاد کی صحافتی خدمات

 پروفیسر عرشیہ جبین

جدوجہدآزادی کے رہنمائوں میںاردو کے جن ادیبوں کا خصوصی حصہ رہاہے، ان میںمولانا آزادکا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ان کا نام اس لیے خاص ہے کہ انھوں نے کم سنی ہی میں لسان ا لصدق اور ۲۴؍ سال کی عمر میں الہلال جیسا اخبار نکالا۔ وہ ایک ذہین ، نڈر اور جرأت مند صحافی ہی نہیں تھے بلکہ اپنے وقت کے بے باک سیاسی رہبر، جادو بیان مقرر، معروف مفسرقرآن، رنگین بیان نثر نگار ،بلند پایہ فلسفی اور جہد آزادی کے اہم ستون تھے ۔ان کی شخصیت ہر پہلو سے منفردوممتاز تھی۔ان کا مطالعہ کافی وسیع تھا۔مذہب ،منطق و فلسفہ ،تاریخ و جغرافیہ اور معاشیات و ادبیات، غرض تما م علوم پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ وہ اپنے وقت کے مغربی ممالک کے حالات سے با خبر ہونے کے علاوہ مشرقی مسلم ممالک کے حالات سے باخبر تھے۔ بیسویں صدی کے عالمی تمدن کی پیچیدگیوں اور تہذیبی حالات پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔بچپن ہی سے لکھنے پڑھنے کا شوق تھا۔ آزادکی ذہانت اور قابیلیت کا یہ عالم تھا کہ محض گیارہ برس کی عمر میں انھوں نے شاعری کے شوق کی بنا پر ایک گلدستہ نکالنے کا خیال کیا اور 1899ء میں ’’نیرنگ خیال ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا ۔حالاں کہ یہ رسالہ آٹھ مہینے کی مختصر سی مدت کے بعد بند ہوگیا لیکن اس طرح  انھوںنے صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور بہ حیثیت صحافی لگا تار کئی اخبارات و رسائل سے وابستہ ہوئے۔1900 ء میںبارہ برس کی عمر میں انھوں نے ایک اخبار ’’المصباح ‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالی۔1901 ء میں مولانا آزاد ہفتہ وار اخبار ’’احسن الاخبار ‘‘ سے وابستہ ہوئے ۔کچھ دنوں بعد یہ اخبار بند ہوگیا ۔مولوی احمد حسین نے تحفہ احمدیہ ‘‘ کے عنوان سے کلکتہ سے ایک اخبار جاری کیا، جس کی ترتیب اور تحریر کی ذمہ داری مولانا آزاد کو د ی،جسے انھوں نے بہ خوبی نبھایا۔اسی دوران ایک گلدستہ’ ’خدنگ نظر‘‘منشی نوبت رائے نظر لکھنؤ سے نکالتے تھے، اس کے حصۂ نثر کی ادارت کی ذمہ داری مولانا آزاد کے حصے میں آئی ،جسے انھوں نے حسن خوبی سے پورا کیا ۔
20؍ مئی1903ء کو محض پندرہ برس کی عمر میں باقاعدہ طور پر کوچہ ٔ صحافت میں قدم رکھا اور کلکتہ سے ماہنامہ’ لسان الصدق‘ جاری کیا۔اگرچہ کہ یہ اخبار بھی زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہا لیکن مولانا آزاد کی طرز تحریر کا جادو ایسا تھا کہ علمی حلقوں میں اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔1904 میں جب شبلی نے رسالہ ’’الندوہ‘‘ جاری کیا تو مولانا کی علمیت اور قابلیت کو دیکھ کر اس کی ادارت کی ذمہ داری انھیں سونپ دی۔1906 ء میں شیخ غلام محمد کے اصرار پر ’امرتسر سے نکلنے والے اخبار ’وکیل ‘‘ کی ذمہ داری بھی قبول کی۔اسی دوران ان کے بھائی کا انتقال ہوگیا والد کے اصرار پر کلکتہ چلے گئے اور یہاںمولوی عبدالباری کے ہفتہ وار اخبار’’دارالسطنت‘‘ کی ادارت سنبھالی لیکن یہاںاخبار کے مالکان کی اخبار کی پالیسی اور وقت کے مسائل سے متعلق دخل اندازی مولانا کو پسند نہ آئی۔ بالآخر وہ اس اخبار سے علاحدہ ہوگئے۔
1907ء میں مولانا غلام محمد کے اصرار پر دوبارہ امرت سر گئے اور ’’وکیل‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری بہ خوبی نبھائی۔1908ء میں  ایک اخبار’’دارالسلطنت‘‘ کی ادارت کرنے لگے ۔اس د وران ہندستان کی سیاسی صورت حا ل سے متاثر ہوئے اور ان کے خیالات میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور وہ اپنے اخبارمیں ہندستان کی سیاسی صورت حال پر اظہار خیال کرنے لگے ۔مولانا کے خیالات سے شیخ غلام محمد متفق نہیں تھے اس طرح مولاناآزاد نے 1908ء میں اس اخبار سے علاحدگی اختیار کر لی۔اس عرصہ میں مولانا آزاد کے خیالات میں پختگی آگئی اور بہ حیثیت صحافی ان کے قلم میں زور اور خیالات میںجوش ولولہ اور انقلابی رنگ نمایاں ہونے لگا تھا۔
1908ء میں مولانا آزاد نے مصر وشام،ترکی اور فرانس کے سفر کے دوران وہاں کی صحافت کا مشاہدہ کیا اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ ہندستانی مسلمانوں کے شعور کو بیدار کرنے کے لییاخبار سے بہتر کوئی ذریعہ نہیںہے۔چنانچہ انھوں نے27؍جولائی1912ء کو ایک  ہفت روزہ اخبار  ’’الہلال ‘‘ کے نام سے کلکتے سے جاری کیا ۔اس اخبار کے ذریعے مولانا آزاد نے مسلمانوں کا دینی و سماجی رشتہ دیگر ممالک کے مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے اور ان میں پر امن طریقے سے آزادی کی جدوجہد میںہندو مسلم اتحاد کے ساتھ شریک ہونے کی دعوت دی ۔مولانا آزاد کا خیال تھا کہ آزادی انسان کا فطری حق ہے ۔کو ئی مذہب اپنے ماننے والوں کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتا۔وہ مسلمانوں کو خاص طور پر اس حقیقت سے واقف کروانا چاہتے تھے کہ ہندستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا ان کا دینی فرض ہے۔ ظلم و ستم کو مٹانے کے لیے دنیا میں عدل و مساوات کو فروغ دینے کے لیے مسلمانوں نے کیسی عظیم الشان جدوجہد کی ہے۔اسی کا نام جہاد ہے ۔وطن کے لیے بھی جان دینا ان کے نزدیک جہاد ہے ۔چنانچہ18؍دسمبر 1912ء کے الہلال میں مسلمانوں کو حب الوطنی کا درس دیتے  ہوئے لکھتے ہیں :
’’ہندوئوں کے لیے ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا داخل حب الوطنی ہے لیکن مسلمانوں کے لیے یہ ایک فرض دینی ہے اور داخل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔اللہ نے ان کو اپنی راہ میں مجاہد بنایا ہے اور جہاد کے معنی میں ہر وہ کوشش داخل ہے جو حق و صداقت اور انسانی بندو استبداد وغلامی کو توڑنے کے لیے کی جائے ۔‘‘
)بحوالہ مولانا ابوالکلام آزادمذہبی افکار ڈصحافت اور قومی جدوجہد،مولاناضیا الدین اصلاحی،،دارلمصنیفین ،شبلی اکیڈمی ،اعظم گڑھ،2014، 271)
الہلا ل کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے جواہر لال نہرو ڈسکوری آف انڈیامیں لکھتے ہیں :
’’مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال میں مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخا طب کیا ہے یہ ایسا انداز تخاطب تھا جس سے ہندوستان کے مسلمان آشنا نہ تھے وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجہ سے و اقف تھے سر سید محسن الملک نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا ،الہلال مسلمانوں کے کسی مکتبہ ٔ خیال سے متفق نہ تھا ،وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوں کو دے رہا تھا ۔‘‘
(بحوالہ مولانا ابوالکلام آزادمذہبی افکار ڈصحافت اور قومی جدوجہد،مولاناضیا الدین اصلاحی،،دارلمصنیفین ،شبلی اکیڈمی ،اعظم گڑھ،2014،ص271)
الہلال ایک انقلابی اخبار تھا۔جس میں مولاناآزاد کی فلسفیانہ فکر، ان کے ترقی پسند خیالات ،مذہبی ہدایات اور ان کے منفرد اسلوب ولب و لہجہ کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔اگرچہ کہ مولانا سیاسی مسلک میں کانگریس کے ہمنوا تھے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا۔چنانچہ انھوں نے اپنے اخبار’الہلال‘ کے ذریعے مسلمانوں کو آزادیء ہند کی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ایک اقتباس ملاحظہ ہو :
’’ غفلت و سرشاری کی بہت سی راتیں بسر ہو چکیںاب خدا کیلئے بستر مدہوشی سے سر اٹھا کر دیکھئے کہ آفتاب کہاں تک نکل آیا ہے؟آپ کے ہمسفر کہاں تک پہنچ گئے ہیں اور آپ کہاں پڑے ہیں؟یہ نہ بھولئے کہ آپ اور کوئی نہیں بلکہ مسلم ہیں اور اسلام کی آواز آج آپ سے بہت سے مطالبات رکھتی ہے ۔کب تک دین الہی کو اپنے اعمال سے شرمندہ عالم کیجیے گا؟ کب تک دنیا کواپنے اوپر ہنسائیے گا؟ اور کب تک ہندوستان میں اسلام کی قوت کا خانہ خالی رہے گا؟ اور اگر مصائب کا تازیانہ غفلت کی ہشیاری کا ذریعہ ہے تو کون سے مصائب ہیں جن کاآپ پر نزول نہیںہوسکا ہے۔ ‘‘
(الہلال شمارہ نمبر 18,23دسمبر 1912،بحوالہ ابولاکلام آزاد ایک مطالعہ،کاکوریآفسٹ پریس،لکھنؤ،2005، ص97)
 انگریز قوم کے لیے مولانا آزاد کے یہ بے باکانہ خیالات ان کی جرأت حق گوئی کا سبب ہے وہ صداقت اور حق گوئی کو مذہبِ اسلا م کا اہم عنصر تصور کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اپنے افکارکو جن میں صداقت ہو، وہ بے باکی کے ساتھ پیش کردیتے ہیں ۔انھوں نے اپنے اخبارات کی وساطت سے مذہب کی بھی تبلیغ کی ہے اور سیا ست کی بھی ۔ چنانچہ الہلال 8؍ستمبر1912ء کے ایک مضمون’’ الہلال کے مقاصد اور پولٹیکل تعلیم ‘‘ میںمسلمانوں اور حکومت دونوں کوکو اپنے اخبار کے سیاسی کردا ر کے بارے  میں بتایاہے جس سے ان کی فکر عیاں ہوتی ہے ۔مثلاً کہتے ہیں :
’’ہم بالکل اپنے مذہبی اصول کے مطابق ملک کی ترقی اور آزادی کے لیے سعی کریں گے لیکن ہماری سعی فتنہ و فساد اور سازش و بغاوت سے با لکل پاک ہوگی ۔قرآن نے ہم کو سکھایا کہ:
’’لا تُفْسِِدُوْفِیْ الْارْضِِ بَعْدَاِصْلاَحِھاَ‘‘
(امن کے بعد زمین پر فساد نہ پھیلائو(قرآن )
… پس جو لوگ ملک میں فسادپھیلاتے ہوں خواہ وہ ہندو انارکسٹ ہو ں یا جراہم پیشہ جماعتیں ہمارا فرض ہونا چاہیے ٔ کہ ان سے دوری ڈھونڈیں …گورنمنٹ کو بھی یا درکھنا چاہیے ٔ کہ اگر ہم سچے مسلمان ہو جائیں تو جس قدر نفس کے لیے مفید ہو ں گے ۔اتنا ہی گورنمنٹ کے لیے نیز اسی قدر ہمسایوں کے لیے ۔اس کو بھولنا نہ چاہیے ٔ کہ ہم اگر سچے مسلمان ہوں تو ہمار ے ہاتھ میں قرآن ہوگا اور جو ہاتھ قرآن سے رکا ہوا ہو وہ بم کا گولہ یا ریوالور نہیں پکڑ سکتا۔البتہ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے ٔ کہ اسلام نے ہم کو آزادی بخشنے اور آزادی حاصل کرنے دونوں کی تعلیم دی ہے ۔‘‘
(الہلال کے مقاصد اور پولٹیکل تعلیم ،الہلال ،8؍ستمبر 1912ء،مشمولہ مولانا ابوالکلام آزاد : افکار و کردار ،ص۱۹۴)
اس طرح مولاناآزاد نے الہلال کے ذریعے مسلمانوںکی ذہن سازی میں اہم رول ادا کیاہے۔ ا ن کے ضمیروں کو جھنجھوڑا اور انھیں خواب غفلت سے بیدار کرنے کی ممکنہ حد تک کوشش کی ۔یہی نہیں بلکہ ان میں اعتماد و یقین بھی پیدا کیا ، عزم و حوصلے سے دیگر قوموں کے مقابل اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت بھی دی ، علاحدگی پسند سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا اور ملکی و قومی سیاست میں عملاً حصہ لینے کی ہدایت بھی کی ۔مسلمانوں کو عبرت دلاتے ہوئے الہلال کے 18دسمبر کے شمارہ میں وہ بڑے پر تپاک لہجے میں لکھتے ہیں :
’’۔۔۔یقینا ایک دن آئے گا جب کہ ہندوستان کا سیاسی انقلاب ہوچکا ہوگا۔غلامی کی بیڑیاں جو اس نے خود اپنے پائوں میں ڈال لی ہیں، بیسویں صدی کے   ہوا ئے حریت کی تیغ سے کٹ کر گر چکی ہوگی اور وہ سب کچھ ہوچکے گا جس کا ہونا ضروری ہے۔  فرض کرو کہ اس وقت ہندوستان کی ملکی ترقی کی ایک تاریخ لکھی گئی تو آپ کو معلوم ہے کہ اس میں سات کروڑ انسانوں کی نسبت کیا لکھا جائے گا کہ ایک بد بخت اور زبوں طالع قوم جو ہمیشہ ملکی ترقی کے لیے روک، ملک کی فلاح کے لیے ایک بد قسمتی، راہ آزادی میں ایک سنگِ گراں، حاکمانہ طمع کا کھلونا دستِ اجانب میں بازیچۂ لعب،ہندوستان کی پشیمانی پر ایک گہرا زحم اور گونمنٹ کے ہاتھ میں ملک کی امنگوں کو پامال کرنے کے لیے ایک پتھر بن کر رہی۔‘‘
(بحوالہ مولانا آزا شخصیت،سیاست،پیغام،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،دوسرا ایڈیشن 2000ء ص107)
تحریک آزادی میں’الہلال‘ نے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ ناقابل فراموش ہیں۔ایک صحافی کے لیے حقائق کا بیان بنیادی فریضہ ہے ۔ آزاد ایک بے باک صحافی تھے، وہ کسی بیرونی دبائو میں کبھی نہیں رہے بلکہ وہ اپنی قوم کو دیگر قوموں کے ساتھ مل جل کر ترقی کرتے دیکھنا چاہتے تھے اور انھیں حق بات کے لیے آواز اٹھانے کی ہمیشہ تلقین بھی کرتے  تھے ۔انھوںنے مذہب ،سیاست اور ادب کے علاوہ معاشیات و نفسیات جیسے موضوعات پر بھی قلم اٹھایا لیکن الہلا ل کو ان کی حب الوطنی ،،عوامی بھائی چارگی،بے باکی اور حق گوئی کی وجہ سے عوام میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔الہلال کے ذریعے لوگ مولانا ابوالکلام آزادکی بے باکی ،بے لوثی و ایماندای ،ہندستانیوں کے لیے ان کی دردمند ی اور ان کے منفرد اسلوب کی سحر انگیزی سے متاثر ہونے لگے تھے ۔ڈاکٹرجاوید وششٹ الہلال کو’’ تحریک آزادی کا لپکتا شعلہ ‘‘کہتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مولانا آزاد کا ہفتہ روزہ ’’الہلال تحریک آزادی کا وہ لپکتا شعلہ تھا،جس کی درخشندگی سے ایک طرف انگریزکی فراست وحکمت کی آنکھیں خیرہ تھیں تو دوسری طرف اہل ہند کے ہاتھوں میں وہ پرچم آزادی ہی نہیں مشعلِ انقلاب بھی تھا۔تحریک آزادی ٔہند کو متحرک و پرُ جوش بنانے میں ’’الہلال ‘‘ قوم کے ہاتھ میں تلوار سے کم نہ تھا،الہلال کے صفحات اور کالم مولانا آزاد کی آتش فشاں تحریروں اور آتش بیانیوں سے مزین ہوتے۔مولانا کے نثری اسلوب نے الہلال کو تیغ دوم بنا دیا تھا۔‘‘
(ڈاکٹر جاوید وششٹ ،تحریک آزادی اور الہلال،مولانا آزاد فکر و نظر کے آئینے میں،ہریانہ اردو اکادمی،فریدآباد،،۱۹۸۷ء ،ص ۱۴۔۱۵)
اس طرح مولانا آزاد کے’’الہلال ‘‘ میں لکھے گئے پر جوش اور ولولہ انگیز مضامین سے ہندوستانی مسلمانوں میں ایساحوصلہ اور جوش پیدا ہوا کہ وہ جدوجہد آزادی کی جنگ میں حصہ لینے کے لیے آگے آنے لگے اور انگریز حکومت کو الہلال کے مضامین سے اپنی حکومت کو خطرہ محسوس ہونے لگا ۔الہلال کا پہلا شمارہ 13؍جولائی 1912ء کو شائع ہوا ۔مشکل سے ایک سال جاری رہا اور حکومت نے 18؍ستمبر 1913ء کو اس سے دو ہزار کی ضمانت طلب کی جو جلد ہی ادا کردی گئی ۔اخبار جاری رہا ۔الہلال کے مضامین کے ذریعے عوام میںحب الوطنی اورظلم و ستم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے جذبات پروان چڑھ رہے تھے  ۔مولانا آزاد کے ان پر جوش اور خطیبانہ مضامین کی اثر انگریزی کی وجہ سے برطانوی حکومت نے الہلال پر نومبر1914ء میںمزید دس ہزار روپے کی ضمانت طلب کی، جو جمع نہ کرائی جاسکی اور اس طرح 18؍ نومبر1914ء کو اخبارکا آخری شمارہ شائع ہوا اور اسی کے ساتھ ’’الہلال‘‘ بند ہوگیا ۔مولانا آزاد نے 12؍نومبر 1915کو دوسرا اخبار ’’البلاغ ‘‘کے نام سے جاری کیا۔’’البلاغ‘‘ دراصل ’’الہلال‘‘ کا ہی دوسرا  روپ تھا لیکن ’’البلاغ ‘‘ کو انھوں نے مذہبی تبلیغ کی غرض سے نکالا ۔مولانا کا یہ خیال تھا کہ ہماری قوم میں جو پستی اور زبوں حالی ہے وہ علمائے حق کی کمی کی وجہ سے ہے اس لیے وہ اپنے اس اخبار کے ذریعے وہی طریقہ اختیار کرنا چاہتے تھے جن سے مسلمانوں نے مذہب اسلام کے ابتدائی دور میںاصلاح پائی تھی ۔چنانچہ البلاغ کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ البلاغ میں لکھتے ہیں:
’’ ابتدا ہی سے اس عاجز نے تمام نام نہاد سیاسی تعلیمی و قومی تحریکوں سے الگ ہوکر صرف دعوت و تبلیغ اسلامی و قرآنی کی صراط مستقیم کو اپنا شعار و دستور العمل قرار دیا اور ایک ایسے عہد ضلالت میں جو طرح طرح کی آوازوں سے گونج رہا تھا سب سے پہلے اجیوا داعی الی اللہ کی صدا بلند کی نیز اس گم شدہ حقیقت کا آشکار کر دینے کی توفیق پائی کہ مسلمانوں کی نجات و فلاح نہ تو محض دعوت تعلیم میں ہے، نہ دعوتِ قومیت و سیاست میں، نہ انجمنوں کی کثرت میں ہے اور نہ محض مدروں اور کالجوں کے قائم کرنے میں ۔بلکہ جب تک حضرات انبیائے اکرام کے اسوۂ حسنہ اور داعیٔ اسلام کی سنت مقدسہ سے کوئی دعوت حق ماخوذ نہ ہوگی۔اور انسانی طریقوں کی جگہ الہی کے سر چشموں سے فیض یاب ہوکر نشو نا نہ پائے گی۔اس وقت تک وہ کامیابی اور فلاح حاصل نہیں ہوسکتی جس کے متعلق کلام الہی نے فرمادیا ہے کہ صرف متقین اور مومنین ہی کے لیے مخصوص ہے۔‘‘
)بحوالہ مولانا ابواکلام آزاد فکر وفن،ملک زادہ منظور،اترپردیش اکادمی،ص 146)
مولانا آزاد کی تربیت چوں کہ مذہبی ماحول میں ہوئی اور اسلامی عقائد اور نظریات کا ان پر گہرا اثر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ہمیشہ ہمیشہ اپنے پیغامات میں قرآن کی تعلیمات کی دعوت دی اور اپنی اس دعوت کی بنیاد انھوں نے انسانی افکار کی بجائے دینی اعتقادات و نظریات پر رکھی۔انھوں نے البلاغ میں مسلمانوں کی تعلیم کا بھی ذکر کیا ،سیاسی اصولوں اور تقلیدوں کی بھی رہنمائی کی اور ساتھ ہی اپنے عہد کے لوگوں کے بنائے ہوئے طریقوں اور حکمت عملیوں کی طرف بھی اشارے کیے لیکن ان کا نقطہ نظر ہمیشہ قرآن اور اس کی تعلیمات سے مربوط رہا۔ان کی تحریروں کا مسلمانوں پر بہت گہرا اثر پڑ رہا تھا ۔کیوں کہ وہ مسلمانوں کی اصلاح کو ہی اپنا نسب العین بنائے ہوئے تھے۔’’البلاغ‘‘ کے مقاصد سے متعلق ڈاکٹر ملک زادہ منظور لکھتے ہیں:
’’وہ (مولاناآزاد) چاہتے تھے کہ تمام علوم اسلامیہ مثلاً حدیث،  فقہ، اصول، کلام، بلاغت ،تاریخ وغیرہ کے ایسے مبسوط اور حاوی درس دئیے جائیں جن سے ان علوم کی تاریخ، مختلف تغیرات وترقیات،عہد بہ عہد کی تبدیلیوں، ان کے اہم مباحث و مسائل اختلافات و محاکمات اور نتائج و بواعث پر لوگوں کے اندر مجتہدانہ و محققانہ نظر پیدا ہوجائے یہ وہی وقت تھا  جب مولانا نے البلاغ کو اپنے نظریات کا آرگن بنانے کے علاوہ دارالارشاد کا بھی قیام کیااور ترجمان القرآن کے اشتہارات شائع کررہے تھے۔ان کو اپنے مقاصد اور مشن سے اتنا عشق تھا کہ اس کے نشر و اشاعت کے لئے ہر ممکن جدوجہد کر رہے تھے۔‘‘
(بحوالہ مولانا ابواکلام آزاد فکر وفن،ملک زادہ منظور،اترپردیش اکادمی،ص 111)
یہی وہ مقاصد تھے جن کی اشاعت کے لیے مولانا نے البلاغ کو ہتھیار بنا یا لیکن حکومت کو ان کے مقاصد کا بہ خوبی علم ہوگیا تھا اور حکومت چوں کہ عوام میں پیدا ہورہی بیداری کو بالکل نہ پسند کرتی تھی۔یہی وجہ رہی کہ بر طانوی حکومت نے یوپی،دہلی،پنجاب اور بمبئی کی صوبائی حکومتوں کو ورغلایا اور اس کے بعدان علاقوں میں مولانا آزاد کے داخلے کو ممنوعہ قرار دیا گیااور اس طرح ’’البلاغ ‘‘صرف پانچ ماہ جاری رہنے کے بعد16؍مارچ 1916ء کوبند ہوگیا۔ ہر چند کہ’’ الہلال ‘‘ اور’’ البلاغ‘‘ برطانوی حکومت کی زد میں آکر بند ہوگئے مگر باوجوداس کیم مولانا آزاد’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘میںلکھی اپنی انقلابی تحریروں سے مسلمانوں میں احساس بیداری اورجذبۂ حریت پید ا کرنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ جدوجہد آزادی کا جذبہ قوم میں پیدا کرنے میں ’’الہلال‘ ‘ نے جو کردار ادا کیا اس کا ذکر کرتے ہوئے وہ ’’الہلال ‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’الہلال نے مسلمانوں کو تعداد کی جگہ ایمان پر اعتقاد کرنے کی تلقین کی اور بے خوف ہوکر ہندوئوں کے ساتھ مل جانے کی دعوت دی ۔اسی سے وہ تبدیلیاں رونما ہوئیں جن کا نتیجہ آج متحدہ تحریک خلافت و سوراج ہے بیرو کریسی ایک ایسی تحریک کو زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کرسکتی تھی ۔اس لیے الہلال کی ضمانت ضبط کی گئی۔پھر جب البلاغ کے نام دوبارہ جاری کیا تو 1916ء میں گونمنٹ آف انڈیا نے مجھے نظر بند کردیا میں بتلانا چاہتا ہوں ’کہ الہلال ‘تمام تر آزادی یا موت کی دعوت تھی۔‘‘
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’میں نے آج سے بارہ سال پہلے ’الہلال ‘کے ذریعے مسلمانوں کو یاد دلایا تھا کہ آزادی کی راہ میں قربانی  و جاں فروشی ان کا قدیم اسلامی ورثہ ہے۔ان کا اسلامی فرض یہ ہے کہ ہندوستان کی تمام جماعتوں کو اس راہ میں اپنے پیچھے چھوڑ دیں۔ میری صدائیں بیکار نہ گئیں۔مسلمانوں نے اب آخری فیصلہ کرلیا ہے کہ اپنے ہندو،سکھ،عیسائی اور پارسی بھائیوں کے ساتھ مل کر اپنے ملک کو غلامی سے نجات دلائیں۔‘‘
(قول فیصل،ص 105بحوالہ مولانا ابواکلام آزاد فکر وفن،ملک زادہ منظور،اترپردیش اکادمی،ص 146،ص100)
23؍مارچ 1916ء کو حکومتِ بنگال نے انھیں بنگال سے اخراج کا حکم دے دیا۔اب صرف بہار کا علاقہ تھا جہاں وہ جا سکتے تھے۔چنانچہ وہ رانچی چلے گئے لیکن8؍جولائی 1916ء کو مولانا آزاد کو رانچی میں نظر بند کر لیا گیا۔جہاں وہ چار سال نظر بند رہے۔ مولانا آزاد کی رانچی میں نظر بند ی کے  چار سال بعد 27؍دسمبر 1919ء کو قید سے رہائی ملی۔رانچی کی نظر بندی سے رہائی کے بعد مولانا آزاد کی گاندھی جی سے 18؍ جنوری 1920ء کو ایک جلسے میںپہلی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد وہ گاندھی جی کے ساتھ تحریک آزادی میں باقاعدہ شریک ہوئے اور گانگریس کے ایک اہم رکن بھی بن گئے۔ یہاں سے مولانا آزادکی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے ۔ 1920ء میں تحریک عدم تعاون شروع ہوئی ۔آزاد نے1921کو ’’پیغام‘‘ کے نام سے پہلا شمارہ کلکتہ سے جاری کیا ۔اس اخبار میں مولانا آزا د کے بڑے عمدہ اور اہم مضامین شائع ہوتے تھے۔
دسمبر 1921ء میں ناگپور میں کانگریس کا سالانہ اجلاس ہوا اور عدم تعا ون کی تجویز کا ر یزولیویشن پاس کیا گیا۔ وہ کانگریس کے صدر بنے اوراگست 1921ء کے اپنے ایک خطاب میں مولانا ہندو مسلم اتحاد پر زور دیتے ہوے’ الہلال‘ کے حوالے سے فرماتے ہیں :
’’بحیثیت مسلمان ہونے کے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہندوبھائیوں کے ساتھ ہوجائیں۔۔۔الہلال کے پہلے نمبر میں جس بڑے نمایاں مقصد کا اعلان کیا گیا تھا ،کیا تھا؟میں فخر کے ساتھ اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہندو مسلمانوں کا اتفاق تھا۔میں نے مسلمانوں کو دعوت دی تھی کہ احکام شرع کی مشرق کو بلکہ اس تمام کرۂ ارضی کی سچائی کو آج چیلنج دے رہا ہے اس کو مٹا رہا ہے جس کے غرور سے اللہ کی عالمگیرصداقت کو سب سے بڑا خطرہ ہے وہ برٹش گورنمنٹ کے سوا کو ئی دوسری طاقت نہیں ہے۔۔۔توآج اس عظیم الشان قوت کے غرور،گھمنڈ،خونخواری کے مقابلے میں جو تمام مشرق کی آزادی کو پامال کرنا چاہتی ہے،کیا ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ فرض نہیں ہے کہ اپنے بائیس کروڑ ہندئوں 
کے ساتھ مل کر ایک ہوجائیں۔‘‘ 
)بحوالہ مولانا آزا شخصیت،سیاست،پیغام،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،دوسرا ایڈیشن 2000ء ص218-215)  
10؍دسمبر 1921ء کو مولانا آزاد کو برطانوی حکومت نے گرفتار کیا اورانھیں ایک سال کی قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔ اخبار ’’پیغام ‘‘ کا آخری شمارہ 16؍دسمبر 1921ء کو اشاعت پذیر ہوکر بند ہوگیا۔ جون1927ء کو مولانا آزاد نے ’’الہلال ‘‘ کو دوبارہ جاری کیا مگر صرف چھ ماہ کی مدت کے بعد7؍ دسمبر 1927ء کو یہ اخبار ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔1927ء میں الہلال دوبارہ شروع ہوا تو اس کے مقاصد کی تشریح کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
’’الہلال جب ۱۹۱۲ء میں نکلا تو اس کے پیش نظر کچھ مقاصد خاص قسم کے تھے اور کچھ عام قسم کے۔ عام مقاصد کا تعلق علم وادب اور سیاست و صحافت کے عام مباحث سے تھااور مقصود یہ تھا کہ اردو زبان میں ہر اعتبار سے ایک ایسا بلند پایہ رسالہ وجود میں آئے جو زمانے کی رفتار و ترقی کا ساتھ دے سکے اور فکر و نگارش کے ہر میدان میں ایک نئے قسم کی بلندی پیدا کر دے۔خاص مقاصد کا تعلق اس کی دعوت سے تھا۔وہ دعوت جو ہر مذہب میں مجتہدانہ نظر وفکر کا ایک نیا دروازہ کھولتی تھی اور سیاست میں آزادیٔ فکر و عمل اور علوئے نظر ورائے کی طرف  مسلمانوں کو لے جانا چاہتی تھی۔‘‘
(الہلال  ۲۴؍جون 1927 ء بحوالہ مولانا ابواکلام آزاد فکر و فن از ملک زادہ منظور،اترپردیش اردو اکادمی،لکھنؤ،2007ء، ص(149
بحیثیت صحافی ’’الہلال‘‘ ہی ایک ایسا اخبار تھا جو ان کے نظریات اور مقاصد کا علمبردار تھا اور جس کے ذریعے مولانا آزادانگریزوںکی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنی قوم کو آمادہ کرتے رہے اور پر امن طور پر مذہب اسلام کی وہ تاریخ دہراتے رہے جہاں مسلمانوں نے اپنے حقوق کے لیے جنگیں لڑیں ہیںاور آزادی کی جدوجہد کو بھی وہ اسلامی فریضہ کے طورپر پیش کرتے ہوئے ان میں وہی جوش و ولولہ پیدا کرنے کی تلقین بھی کرتے رہے۔ جس کی بنا پر مسلمانوں نے بڑی بڑی جنگیں لڑیں۔الہلال کے اجرا 1912ء اور 1927ء کے درمیان بہت زیادہ تبدیلیاں آچکی تھیںجس کا احساس مولانا آزاد کو بہ خوبی تھا ۔ 1927 ء  میں’’ الہلال‘‘ کے دوبارہ اجرا کے مقاصد وہی تھے جو الہلال کی پہلی اشاعت 1912 ء کے وقت تھے ۔اسی بات کا اظہار کرتے ہوئے وہ لکھتے :
’’۱۲ء اور ۲۷ء کے درمیان تغیر و ترقی کی ایک بڑی مسافت حائل ہے تاہم جہاں تک الہلال کے عام و خاص مقاصد کا تعلق ہے ۔صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔اس لیے اب بھی دونوں میدانِ عمل ویسے ہی باز ہیں جیسے ۱۲ء اور ۱۶ ء میں تھے۔۔۔پہلے دعوت کی ضرورت اس لئے تھی کہ راہ کھلے اور سفر شروع ہو۔ اب کہ دروازہ کھل چکا ہے اور وقت بھی رسم و راہ سفر سے    نا آشنا نہ رہے۔ اس کی صدا ئیں اس لئے مطلوب ہیں کہ راہ کی مشکلیں حل کی جائیںاور سعی وطلب کے جو قدم اٹھ چکے ہیں وہ بے راہ روی سے محفوظ رہیں۔۔۔اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ تین موضوع وقت کی ضرورت کے اصلی موضوع ہیں اور اس لئے الہلال کے صفحات پر ان کا خصوصیت کے ساتھ انتظار کرنا چاہئیے۔
۱۔ملک کے موجودہ سیاسی زندگی کے عملی مسائل۔
۲۔ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا موجودہ ذہنی اور عملی انتشار جو پچھلی حرکت کے رد فعل (ری ایکشن) کی صورت میں نمایاں ہو اس کے عملی مسائل و مباحث۔
۳۔ مسلمانان ہند کی قومی و اجتماعی ذہنیت کی تشکیل اور اس کے اہم مباحث۔‘‘
(الہلال 10 ؍جون 1927ء بحوالہ مولانا آزاد فکر وفن، ص 151)
مولانا آزاد مسلمانوں کے ساتھ جدوجہد آزادی کی تحریک میں بڑے زور و شور سے حصہ لے رہے تھے ۔ان کے ساتھ دیگر مسلم قائدین بھی شریک تھے لیکن کچھ مسلم قائدین مسلمانوں کو تقسیم ہندکے ذریعے علاحدہ ملک کا خواب دکھا رہے تھے لیکن انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ مسلمان اگرعلاحدہ ہوںگے تو انھیں کتنی مصیبتوںمیں مبتلا ہونا پڑے گا مگر مولانا اس تباہی سے با خبر تھے ۔انھیں معلوم تھا کہ لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے گھر بار تباہ ہو جائیں گے اور ان کی تجارت اور دولت و جائیداد کو نقصان پہنچے گا ۔چنانچہ اپنی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی سے اپنی قوم کی غفلت شعاری کا احساس دلانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ ایک موقع پر فرماتے ہیں :
’’  تم کو یہ سبز باغ دکھایا جارہا ہے آیندہ اس کے ہولناک نتائج سامنے آئیں گے اور تم ،ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے تب تم کو ہوش آئے گا اور اپنی غلطی کا احساس کروگے اور تمہاری حمایت کا دم بھر نے والے    با لکل ہی غائب ہو جائیں گے ۔‘‘
(بحوالہ میر کارواں :مولانا ابوالکلام آزاد،ریاض الرحمن خان شیروانی ،مولانا آزاد اسٹڈی سنٹر ،رانچی ۲۰۰۹ء،ص۲۷۲)۔
مولاناآزاد نے مسلم لیگ کی جانب سے پیش کی گئی پالیسی کی مخالفت بھی کی اور چوں کہ وہ مسلم لیگ کے نظریات اور سیاسی فلسفہ کے خلاف تھے ۔اس لیے ان پر الزامات لگائے گئے کہ وہ مسلمانوں کو بہکا رہے ہیں۔ مولانا آزاد خود پر لگائے الزامات کو خاموشی سے سنتے رہے لیکن مخالفتوں سے ناراض ہونے کی بجائے اپنی قوم کو جب جب موقع ملتااپنے موقف سے واقف بھی کرواتے رہے۔خصوصاً ’’الہلال ‘‘ کے حوالے سے انھیں قومی اتحاد کی دعوت بھی دیتے رہے ۔ مثلاًایک موقع پر فرماتے ہیں :
’’میں اپنے ہم مذہبوں کو یاد دلائوں گا کہ میں ۱۹۱۲ء میں جس جگہ سے انھیں مخاطب کیا تھا آج میں اسی جگہ کھڑا ہوں۔اس تمام مدت نے حالات کا جو انبار ہمارے سامنے کھڑا کردیا ہے ۔اس میں کوئی حالت ایسی نہیں جو میرے سامنے نہ گزری ہو،میری آنکھوں نے دیکھنے میں اور میرے دماغ نے سوچنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی،حالات صرف میرے سامنے سے گزرتے ہی نہیں رہے،میں ان کے اندر کھڑا رہا اور میں نے ایک ایک حالت کا جائزہ لیا ، میں مجبور ہوں کہ اپنے مشاہد ے کو نہ جھٹلائوں ،میرے لیے ممکن نہیں کہ اپنے یقین سے لڑوں میں اپنے ضمیر کی آواز نہیں دبا سکتا۔میں اس تمام عرصے میں ان سے کہتا رہا ہوں
 اور آج بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہندوستان کے نوکروڑ مسلمانوں کے لیے صرف وہی ایک راہ عمل ہوسکتی ہے جس کی میں نے 1912ء میں انھیں دعوت دی تھی ۔‘‘
(بحوالہ میر کارواں ۔مولانا ابوالکلام آزاد،ریاض الرحمن خان شیروانی ،مولانا آزاد اسٹڈی سنٹر ،رانچی 2009ء،ص136)
’’الہلال‘‘ کی ادارت سے لے کر ملک کی آزادی تک مولانا آزاد کا موقف ایک ہی تھا وہ ہندو مسلم اتحاد اور ملک کی سا  لمیت کے خواہاں تھے لیکن ملک کی آزادی کے ساتھ تقسیم ہند کاسانحہ رونما ہوا۔ مولانا آزاداس تقسیم کے صدمے سے دوچار رہے لیکن اس وقت بھی ان کے قدم ڈگمگائے نہیں۔ وہ اپنے ہم وطنوں خاص کر مسلمانو ں کے خوف و ہراس کو دور کرتے رہے اور انھیں ہندستان ہی میں رہنے کی تلقین بھی کرتے رہے۔مثلاً جامع مسجد کی تاریخی تقریر میںمسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے  وہ فرماتے ہیں: 
’’عزیزو اپنے اندرایک بنیادی تبدیلی پیدا کرو۔جس طرح آج سے کچھ عرصے پہلے تمہارا جوش و خروش بیجا تھااسی طرح آج یہ تمہارا خوف و ہراس بھی بیجا ہے۔ مسلمان اور بزدلی یا مسلمان اور اشتعال ۔ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔۔۔چندانسانی چہروںکے غائب ہوجانے سے ڈرو نہیں۔انھوں نے تمہیںجانے کے لیے اکٹھا کیا تھا۔آج انھوں نے تمہارے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے،  تو یہ عیب کی بات نہیں۔۔۔اگر دل ابھی تک تمہارے پاس ہیں تو اسے خدا کی جلوہ گاہ بنائو۔۔۔
عزیزو! تبدیلیوں کے ساتھ چلو، یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیر کے لیے تیار نہ تھے بلکہ اب تیار ہوجائو۔ ستارے ٹوٹ گئے مگر سورج تو چمک رہا ہے۔اس سے کرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راہوں میں بچھا دو،جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے۔‘‘
)بحوالہ مولانا آزا شخصیت،سیاست،پیغام،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،دوسرا ایڈیشن 2000ء ص261-260)  
یہ مولانا آزاد کی ہمت ،حوصلہ اور فہم و فراستتھی کہ انھوں نے مسلمانوں کو ہمیشہ ہمت و حوصلہ عطا کیا۔ کبھی وہ  ظلم و ستم اور ناکامی سے گھبرائے نہیں ۔مسلمانوں میں وہی جوش و ولولہ تقسیم ہند کے بعد بھی پیدا کرتے رہے جو ’’الہلال ‘‘کے زمانے میں اپنی پر جوش اور انقلابی تحریروں کے ذریعے پیدا کیا کرتے تھے ۔مولانا بہ حیثیت ایک رہنما مسلمانوں کے دلوں سے خوف و ہراس کو مٹانے اور نئے حالات کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے اور انہیں کی کوششوںسے بہت سے مسلمان اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کو تیار ہوگئے اور ہندستان ہی میں رہنے بسنے کا فیصلہ کیا۔
مولانا آزاد کی بحیثیت صحافی تحریریں ہوں یاسیاسی لیڈر کی حیثیت سے تقریریںہر جگہ ان کی علمیت ،قابیلیت ، بے باکانہ انداز اور خطیبانہ رہنمائی نے عوام میں ایسی ہمت اور حوصلہ پیدا کیا کہ ان کے عہد کے دیگر صحافی و مجاہدین بھی ان کی طرز تحریر کی سحر انگیزی اور جدت طرازی کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً مولانا محمد علی جوہر لکھتے ہیں:
’’اس نے (الہلال)اردو صحافت میں ایک نئی روایت قائم کی۔الہلال میں مولانا آزاد نے ہر ممکن جدت طرازی سے کام لیا اور صحافت کی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا۔‘‘(بحوالہ مولانا آزاد شخصیت اور کارنامے،ص54) 
اردوکے اہم نقاد ڈاکٹر کلیم الدین احمد ایک جگہ بہ حیثیت صحافی  مولانا آزاد کی تحریوں کی شعلہ بیانیوں کی ستائش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ابوالکلام آزاد کی تحریروں میں یہی فوق فطری زور ہے اور اس زور کی وجہ سے ان کی انشا محض انشاء یعنی لفظوں کا مجموعہ نہیں معلوم ہوتی، یہ ایک کھینچی ہوئی تلوار ،ایک بڑھتا ہوا سیلاب ،ایک اٹھتا ہوا طوفان اور ایک دنیا کو ہلا دینے والا بھونچال ہے ، یہ ایک ایسا عصا ئے موسوی ہے جو افعی بن کر ہر شئے کو نگل جاتاہے۔‘‘
(بحوالہ مولانا آزاد شخصیت اور کارنامے، ص124)
اس مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولاناابالکلام آزاد ہمارے ملک کے سچے محب وطن تھے۔ ہندستان کی عوام کے اتحاد اور بھائی چارہ کے لیے انھوں نے جو کوششیں کیں، ہم اسے فراموش نہیں کرسکتے۔ان کی صحافت خصوصا’’الہلال‘‘  نے عوام میں ملک کی آزادی اور ہندو مسلم اتحاد پیدا کرنے میںجو نمایاں کردار ادا کیا، وہ ناقابل فراموش ہے ۔الہلال نے ہندستانیوں بالخصوص مسلمانوں کو نہ صرف تحریک آزادی میں شامل ہونے کی دعوت دی بلکہ ان کے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے خواب غفلت سے بیدار بھی کیا ۔الہلال کی دعو ت پر لوگ جدوجہد آزادی میں جوق در جوق حصہ لینے لگے۔اس طرح مولانا آزاد کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر ہوا  اورملک کو آزادی ملی۔اگرچیکہ کچھ خود غرض و مفاد پرست سیاسی رہنمائوں کی وجہ سے ملک کو تقسیم کے سانحے کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن مولانا آزاد کی ہمت و استقلال اور سیاسی قیادت نے مسلمانوں کو ہندستان میں رہنے کا حوصلہ بخشا۔’غرض’ الہلال ‘‘ہی کے ذریعے مولاناابولکلام آزاد ایک کامیاب صحافی اوربہترین مدبر اور مجاہد آزادی کے روپ میں ہمارے سامنے آئے۔ اس طرح تحریک آزادی اور مولانا آزاد کی انقلابی فکر کو فروغ دینے میں’’ الہلال ‘‘نہ صرف مولانا ابوالکلام آزاد کا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے بلکہ اردو صحافت کی تاریخ میں بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے  اور جب کبھی بھی ہندوستان کی  سیاسی اورصحافتی تاریخ لکھی جائے گی وہ مولانا ابولکلام آزادکے ذکر کے بغیر ادھوری کہی جائے گی۔
ٌٌ****
 حوالے۔ 
1-خلیق انجم (مرتب)۔ مولانا ابوالکلام آزاد: شخصیت اور کارنامے۔ نئی دہلی: اردو اکیڈمی دہلی، 1986، 
2- مولانا آزا شخصیت،سیاست،پیغام،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،دوسرا ایڈیشن 2000ء
3- مولانا ابوالکلام آزادمذہبی افکارصحافت اور قومی جدوجہد،مولاناضیا الدین اصلاحی،،دارلمصنیفین ،شبلی اکیڈمی ،اعظم گڑھ،2014
4-قول فیصل،ص 105بحوالہ مولانا ابواکلام آزاد فکر وفن،ملک زادہ منظور،اترپردیش اکادمی،ص 146،ص100
-5الہلال  24؍جون 1927 ء بحوالہ مولانا ابواکلام آزاد فکر و فن از ملک زادہ منظور،اترپردیش اردو اکادمی،لکھنؤ،2007ء
Professor Arshiya Jabeen
Department of Urdu
University of Hyderabad
Hyderabad – 500046

جلد(1)   شمارہ (8)   مئی 2026

Freedom struggle and journalistic services of Maulana Abul Kalam Azad

#مولانا_ابوالکلام_آزاد
#اردو_صحافت
#تحریک_آزادی
#UrduLiterature
#UrduResearch
#AlHilal
#QadirUlKalam

No comments:

Post a Comment

اقبال کی بچوں کے لیے نظمیں: ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھ...