ڈاکٹرفریدہ تبسم (اسسٹنٹ پروفیسر، حیدرآباد انڈیا)
ان کے اردو انشائیوں کے اب تک پانچ مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں وہ یہ ہیں:
(۱) غبار کاروان۔ (۲) شیریں کے خطوط۔ (۳) غبار کارواں۔ (۴) سن تو سہی ، اور (۵) کانٹے ۔
زماں آزردوہ کے انشائیوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں انشائیہ نگاری کی تقریباً تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں، ان کے انشائیوں کی خاص خصوصیت یہی ہے کہ وہ ہلکے پھلکے مزاح کے ساتھ ساتھ اپنی بات کو لطیف اور شگفتہ پیرائے میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے یہاں بات سے بات پیدا کرنے کی خصوصیت بھی ملتی ہے، اور یہی خصوصیت ان کے انشائیوں کا خاص وصف ہے ۔اس کے علاوہ شخصیت کا اظہار ، بے تکلف گفتگو کا انداز، غور و فکر کی دعوت کے علاوہ زبان و بیان کی بے شمار خوبیاں بھی ان کے یہاں نظر آتی ہیں۔ مثلاً تشبیہات و استعارات، محاورے کہاوتیں وغیرہ کا عمدہ استعمال ان کے اسلوب کا خاص وصف ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی بڑی خوب لگتی ہے کہ وہ انگریزی زبان کے الفاظ کا بر محل استعمال کرتے ہیں۔ محمد زماں آزردو کے یہاں موضوعات کا تنوع ہیں، انہوں نے بڑیہی انوکھے اور اچھوتے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔ کامیاب انشائیہ نگار کیلئے ضروری خیال کیا جات اہے کہ وہ ان موضوعات پر قلم اٹھائے جن پر کسی کی نظرنہ گئی ہو یا یہ کہ ان موضوعات کو کسی نے اب تک چھوا نہ ہو۔
زماں آزردہ کے انشائیوں کے موضوعات نہ صرف دلچسپ اور نئے ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ جان کر بہت ہی حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے بالکل انوکھے اور اچھوتے موضوعات کے بارے میں سوچا ہے۔
مثلاً بیل ، کانکڑی ، گدوہ، دیمک اور عالم بالا وغیرہ۔
انشائیے کی ایک اہم خصوصیت اس کا اختصار اور جامعیت ہے۔ زماں آزردہ کے انشائیوں میں بھاگتے شجر، کرسی، گدوہ، سیڑھی، کانغری ، تحریر، مماکھی، بڑا فائدہ ہے۔ شادی نہ کرنے میں عالم بالا کامیاب ازدواجی زندگی، تعارف خبر ساز سے، اتوار کا دن اور بیعی ، بڑے پھسنے ، ٹیلی فون حاصل کر کے، چلئے تو ذرا گھر سے باہر، بھر پائیے خضاب لگانے سے، حادثہ وغیرہ اختصار کی عمدہ مثالیں ہیں۔
ڈاکٹر جانسن نے ایسے کو Loose selly of he minel کہا ہے ۔ یعنی انشائیہ دماغ کی ایک آزاد ترنک کا نام ہے۔ کیونکہ انشائیہ خوش گوار موڈ کی پیداوار ہوتا ہے۔ اس لئے انشائیہ نگار اسی خوش گوار موڈ کے تحت بات سے بات پیدا کرتا ہے۔ وہ ایسے خیالات کے بیان میں تیرتیب و تنظیم کا خیال نہیں رکھتا۔ اور بارباراپنے موضوع سے بھٹکتا رہتا ہے۔
جب ہم زماں آزردہ کے نشائیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ تو ان کے یہاں یہ خصوصیت بڑی عمدگی سے ملتی ہے۔ وہ انشائیہ لکھتے وقت بار بار اپنے خیالات کی رو میں بہتے جاتے ہیں، اور موضوع سے بھٹکنے لگتے ہیں۔ مثلاًاقتباس دیکھئے :
’’مسجدوںمیں جاڑوں میں خوب گرمی ہوتی ہے حمام میں گرم پانی بھی ملتا ہے، اور بیٹھنے کو گرم جگہ اکثر لوگ اپنے ٹائیم ٹیبل میں مسجد میں کچھ وقت گزارنے کی گنجائش نکال ہی لیتے ہیں، نماز چاہے وہ ایکسپرس ہی کیوں نہ پڑھائی، مگر حمام میں بیٹھنا ضروری ہے۔ اس سے ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ محلے والے ایک دوسرے سے واقف ہوجاتے ہیں، جن پر نئے سرے سے دوسے موسم سرما میں غور و فکر کیا جاتا ہے۔
کشمیر کے لوگ بڑے خوش خوراک ہیں مگر ان کی عادات ’وازہ دان‘ کے سامنے گھٹنیء ٹیکتی ہیں اس کے آگے کچھ سوجھتا بھی نہیں‘‘۔
جاڑوں کے مشغلے ، خبار کارواں میں ۳۸
شگفتہ بیانی سے مراد موضوع اور نقطہ کا انوکھا پن ہے جو ہمیں زندگی کی یکسانیت اور ٹھہراؤ سے اوپر اٹھا کر ماحول کا دوبارہ جائزہ لینے کی طرف مائل کرتے ہیں۔
زماں آزدہ کے انشائیوں میں بھی یہ وصٓف دکھائی دیتا ہے ، وہ ایک سمع کے لئے روک کر زندگی کے عام مظاہرے کے ایسے تازہ پہلو دکھاتے ہیں جنہیں ہماری نظروں نے اپنی گرفت میں نہیں لیا تھا۔ یا پھر یوں کہا جاسکتا ہے کہ وہ زندگی کے عام مظاہرہ کے ان تازہ اور انوکھے پہلوؤں کی سیر کراتے ہیں جو سطحی دلچسپی کی وجہ یس عام انسان کی نظروں سیء اوجھ رہے ہیں، مثلاً زماں آزردہ نے اپنے انشایئے ’’ کانگڑی ‘‘ میں کشمیر کے علاقے کی ایک مشہور شئے جیسے اکثر سردیوں میں لوگ اپنے بدن کو گرم رکھنے کے لئے اپنے ساتھ رکھتے ہیں اس کا تعارف کرواتے ہوئے اُسے ایک نئے اور انوکھے زاویئے سے یوں دیکھتے ہیں:
’’صرف چہرے سے پھوٹنے والی گرمی کا احساس ہوتا ہے، اور چہرہ نظر نہیں آتا۔ پتلی اور خوبصورت ناک جو اسکی مانگ میں سیندور کا احساس بھی دلاتی ہے اور اس کے نظر نہ آنے والے چہرے کی جبیں کا کام بھی دیتی ہے، ایک من بھاون شئے ہے کانگڑی پھونکتے وقت انسان اس کوآنکھوں سے نہیں تو نگاہوں سے ضرور چومتا رہتا ہے‘‘۔
غبار کارواں، ص:۷۲
انشائیہ کی ایک اہم خصوصیت شخصیت کا اظہار ہے۔ انشائیہ ایک ایسا فن ہے جس میں سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ فنکار کی شخصیت کی عکاسی ہوتی ہے۔
محمد زماں آزردہ کے انشائیوں کے مطالعہ کے بعد اندازہ ہوتا ہے ان کی شخصیت کے کئی ایک پہلو ہمارے سامنیآتے ہیں۔ ان کی پسند ناپسند ، مشاغل، طور طریقہ ، رہن سہن وغیرہ جیسی کئی ایک چیزوں کا علم ہوتاہے۔
زماں آزردہ زندہ دل شخصیت کے مالک ہیں، ان کی نظر میں زندگی زندہ دلی کا نام ہے اور چوں کہ انسان کی زندگی میں طرح طرح کی پریشانیوں اور دکھوں سے عبارت ہے ۔ ایسے میں جولمحے میسر آئیں انہیں ہنسی خوشی گذارنا چاہئے۔ ان کا یہ نظریہ ہمیں ان کے انشائیہ ’’ زندگی مزاح سے بتی ہے‘‘ میں واضح طور پر نظر آتا ہے:
اصل میں زندگی نام ہے زندہ دلی رونا نہیں ہنسنا ہے، زندگی کا تو دستور یہ ہے کہ: ’شادیا یدزسیٹن ناشنا دبایزز سیتن‘ اس لئے جب تک ہو سکے ہم کو اس بات کی کوشش کرنا چاہئے کہ شاد ہوک ہی جئیں نہ کہ ناشاد ہوکے ، زندگی کے سب سے بڑی آزمائش تو زندہ رہنا ہے، اس پر آپ اور پریشانیاں مول لیجئے تو کیا ہوگا‘‘
زندگی مزاح سے بنتی ہے۔ سن سہی ، ص:۷۸
اس اقتباس میں زماں آزردہ کی شخصیت کے کس طرح کا ان کا نظریہ ہے اور زندہ دلی سے زندگی گذارنے کا کس قدر ہنر انہیں معلوم ہے۔
بے تکلف گفتگو بھی انشائیہ کی ایک خصوصیات ہے۔ یہی وہ اہم خصوصیات ہے جو انشائیہ کو دوسری اصناف ناول، افسانہ وغیرہ سے الگ کرتی ہے۔ زماں آزردہ اپنے قاری سے بہت جلد بے تکلف ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے مشاہدات تجربات کو بے تکلفی سے قاری کے زامنے بیان کرتے جاتے ہیں۔ ان کا یہی انداز بیان ان کانشائیوں میں جان پیدا کردیتا ہے۔
ان کے ایک انشائیہ ’’ پیشے کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے‘‘ سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’ آپ شاید یقین نہ کریں مگر یہ حقیقت ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے ایک اچھے ڈاکٹر سیء کہا کہ دوسری دوا جو آپ نے تجویز فرمائی ہے۔ ہم ضرور خریدیں گے ، لیکن جو دوا کل خریدی ہے اس کا کیا کریں… ارے آپ تو ٹیچر ہیں۔ آپ کیسے برداشت کریں گے ۔ آپ فی الحال وہی دوا استعمال کیجئے ختم ہوجائے تو نئی دوا خرید لیجئے‘‘
پیشے کے انتخاب نے رسوا کیامجھے ، غبار کاروان، ص: ۵۶
انشائیہ کی ایک خصوصیت دعوت غور و فکر بتائی جاتی ہے جس میں انشائیہ نگار خصوصاً اپنے تجربات و مشاہدات سے بڑی کار آمد و پتے کی باتیں لطیف انداز میں بتاتے ہیں کہ قاری ان کے تجربات میں شریک ہوجاتا ہے اور اس طرح وہ قاری کو اعتماد میں لیتے ہیں۔
زماں آزردہ کے انشائیوں میں بھی یہ خوبی نظر آتی ہے ، وہ بھی اپنے قاری کو صرف اپنی تحریر کے ذریعہ سیرت و استباط کی کیفیت سے دوچار نہیں کرتے بلکہ زندگی کے اتار چڑھاؤ اور مشکلات میں اس کا حل تلاش کرنے کے لئے دعوت غور و فکر دیتے ہیں ان کی یہ خصوصیت ان کے بیشتر انشائیوںمیں نظر آتی ہے۔ مثلاً ایئک مثال دیکھئے:
’’ اگر انسان اپنے ساتھ رہنے والوں کے ساتھ ہنسی خوشی سے پیش آئے ، تو اس کی زندگی کامیاب ہو سکتی ہے۔ معمولی بات کبھی کبھی بڑے واقعے میں بدل جاتی ہے جس میں انشائیہ نگار خصوصاً اپنے تجربات و مشاہدات سے بڑی کارآمد و پتے کیباتیں لطیف انداز میں بتاتے ہیں۔ کہ قاری ان کے تجربات میں شریک ہوجاتا ہے اور اس طرح وہ قاری کو اعتماد میں لیتے ہیں۔
زماں آزردہ کے انشائیوں میں بھی یہ خوبی نظر آتی ہے وہ بھی اپنے قاری کو صرف اپنی تحریر کے ذریعے سیرت و استباط کی کیفیت سے دوچار نہیں کرتے بلکہ زندگی کے اتار چڑھاؤ اور مشکلات میں اس کا حل تلاش کرنے کے لئے دعوت غور و فکر دیتے ہیں۔ ان کی یہ خصوصیت ان کے بیشتر انشائیوں میں نظر آتی ہے مثلاً ایک مثال دیکھئے:
اگر انگسان اپنے ساتھ رہنے والوں کے ساتھ ہنسی خوشی سے پیش آئے، تو اس کی زندگی کامیاب ہو سکتی ہے۔ معمولی بات کبھی کبھی بڑے واقعے میں بدل جاتی ہے۔ ہنسی انسان کو فرحت بخشتی ہے۔ ایک لمحے کے لئے انسان تمام پریشانیوں کو بھول جاتا ہے، اور اس لمحے کی زندگی بڑی قیمتی ہوتی ہے۔ زندگی میں ایسے نشیب و فراز آتے ہیں۔ کہ اگر آدمی مزاج کے سہارے اپنے آپ کو سنبھالے تو پوری زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ بہر حال واقعے میں سنجیدگی اور مزاح کا پہلو بیک وقت موجود رہتا ہے۔ بشرطیکہ انسان نگاہ رکھتا ہو‘‘۔
)سن تو سہی، ص: ۷۹(
مزاح انشائے کے لئے لازمی جز نہیں ہے۔ مگر انشائیہ نگار اسے اپنی تحریروں کو دلچسپ بنانے کے لئے سہارے کے طور پر استعمال کرتاہے۔ انشائیہ نگار کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ قاری کو لطف و انسباط بہم پہنچائے۔ طنز و مزاح کی خصوصیات ان کے دیگر انشائیوں مثلاً ، ایکم ، ذکر ممبئی کا، حافظہ، بھرپائے خضاب لگانے سے وغیرہ میں بخوبی ملتی ہے۔انشائیہ میں اسلوب کی خاصی اہمیت ہوتی ہے اسی لئے زماں آزردہ کے اسلوب کا مطالعہ بھی ناگزیر ہے، انہوں نے انگریزی الفاظ کی آمیزش سے اپنے اسلوب میں جان ڈالنے کی کوشش کی ہے، ان کے اسلوب کی خاص بات یہی ہے کہ وہ مشہور کہاوتوں محاوروں اور تشبیہات کے ذریعہ اختصار کے ساتھ بڑے سلیقے سے اپنی بات پیش کرتے ہیں، انوکے اور حسین تشبیہات کے استعمال سے بھی ان کے اسلوب میں حسن پیدا ہوگیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اختیار اور جامعیت کے اساھت ساتھ دلکش اور پر لطف انداز بیان بھی ان کے اسلوب کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
غرض زماں آزردہ کے انشائیوں میں انشایئے کے تمام خصوصیات بڑی عمدگی سے ملتی ہے، لیکن ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے انشائیوں میں غالبؔ کے اشعار کے حوالے سے بھی اپنے مقاصد کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ غالبؔ سے بے حد متاثر ہیں۔
اس کے علاوہ محمد زماں آزردہ کے یہاں ہمیں طنز بھی خوب ملتا ہے۔ وہ طنز کے تیکھے تیکھے جملوں سے سماج کی ناہمواریوں پروار کرتے ہیں۔ وہ سماج کے معتبر ہستیوں کوبھی اپنے طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ مثلا سیاسی لیڈر ہوکہ شاعر، ادیب ہو کہ ناقد، افسر ہوکہ بیوی غرض سبھی کی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
زماں آزردہ طنز کے ذریعہ اصلاح کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔
محمدآزردہ نے بعض سماجی مسائل پر بھی طنز کیا ہے۔ خاص کر جہیز کی لعنت پر انھوں نے خوب طنز کی اہے جہاں سسرال والے محض جھوٹی عزت کی خاطر جہیز کی مانگ کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ہمیں آزردہ کے ایک انشائیے شیریں کے خطوط میں ملتی ہے۔
’’لڑکے کاباپ معلوم ہے کیا کہتاہے کہ میرے لڑکے کی بے عزتی ہوگئی۔ اس کے دوستوں کو سسرال سے ریڈیو سیٹ ، موٹر ، کشمیری قالین، فارن رسٹ واچ اور نہ جانے کیا کیا چیزیں مل گئیں۔ اب وہ کیسے ان میں اپنے آپ کو ذلیل کرے گا‘‘۔
(شیریں کے خطوط، ص 10-11)
زماں آزردہ کے انشائیوں کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ وہ سماج کی ان برائیوںپر طنز کرتے ہوئے حکومت کو اپنا فرض یاد دلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اس رسم و رواج پر پابندی عائد کرے۔
شیریں کے خطوط سے ایک مثال ملاحظہ ہو۔
’’سلمیٰ کاش ہماری حکومت میں اتنی طاقت ہوتی کہ وہ ان رسوم کو بڑھاوادینے والوں کو قابو میں کرسکتی۔ کاش وہ ایسے رسوم پر پابندی لگاسکتی ہے۔ مگر کیا ہوسکتا۔ حکومت بھی ہم ہی ہیں۔ بھئی لوگوں پر تو فضول خرچی جنون کی حد تک سوار ہوگئی ہے۔ ان کے پاس مال مفت Easy Money اس قدر ہے کہ ایسے خرچ کرنے کے لیے مختلف بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ بھلا خون پسینے کی کمائی کو کوئی ہاتھ سے یوں جانے دیتاہے؟ یہ سب کالی کمائی کے کھلائے ہوئے گل ہیں۔ جو اپنی اس رو میں غریب کی محنت کی کمائی کو بھی بہا لے جاتی ہے۔ ‘‘
(شیریں کے خطوط، ص )
اس کے ساتھ ہی زماں آزردہ نے اپنے طنز کا ہتھیار آفسروں ،چمچہ گری کرنے والوں پر برجستہ آزمایا ہے۔ اس کے مثالیں ہمیں آزردہ کے ان انشائیوں میں ملتے ہیں۔ مثلاً شیریں کے خطوط ، چمچہ گری، ون و ے ٹریفک، حافظہ، وغیرہ۔
اس سلسلے میں انھوںنے نقاد اور ادیب کو بھی نہیں بخشا ہے۔ آزردہ کے انشائیے، ادیب، چوری اور سینہ زوری، جوانی، شرافت، خود ستائی وغیرہ میں بخوبی ملتی ہے۔ زماں آزردہ سماج کے مختلف کرداروں کو اپنی طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ مگر ان کا لہجہ ایسا ہوتاہے کہ طنز کا تیر دریا کی زیرآب لہروں کی طرح کام کرتاہے۔ انھوں نے سماج کے مختلف رسوم اور بدعملی کو اپنے طنز کا نشانہ بنایا ہے لیکن آزردہ ہر جگہ اپنے ہمدردانہ لہجہ کے ذریعہ ہی بتانے کی کوشش کی ہے۔
غرض محمدزماں آزردہ کے انشائیوں کا مطالعہ کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے انشائیہ کی تمام خصوصیات کا بخوبی احاطہ کیا ہے اور کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا ۔ ان کے یہاں انشائیہ نگاری کی تمام خصوصیات ملتی ہیں اور ان کے انشائیوں کی ان ہی خصوصیات کی بدولت ہم بلاشبہ انھیں ایک کامیاب انشائیہ نگار قرار دے سکتے ہیں۔
٭٭٭
حوالہ: مرزا محمد زماں آزردہ، گل دستہ (حصہ اوّل): تنقیدی و تحقیقی مطالعہ، مرزا پبلیکیشنز، کشمیر، 1990، ص 33، ادبِ اطفال، معاون ادارہ: ادارہ ادبیاتِ اردو، حیدرآباد۔
Dr.Fareeda Tabasum,
Associate Professor ,
Anwarul uloom College, Degree college , Hyderabad .
No comments:
Post a Comment