شاذیہ بیگم، (مدیر)
قربانی کا اصل مفہوم محض جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنی خواہشات، انا اور دنیاوی لالچ کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا، جو انسانی تاریخ میں اطاعت اور ایمان کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمایا اور اسماعیلؑ کی جگہ ایک دنبہ عطا فرمایا۔
عید الاضحی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اللہ کے احکامات کو مقدم رکھنا چاہیے، چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ یہ تہوار ہمیں صبر، شکر اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ قربانی کے گوشت کو غرباء اور مستحقین میں تقسیم کرنا ہمیں سماجی مساوات اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔
آج کے دور میں قربانی کے اصل پیغام کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اگر ہم صرف رسم ادا کریں اور اس کے روحانی پہلو کو نظر انداز کر دیں تو ہم اس عظیم عبادت کے مقصد سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر عاجزی، محبت اور انسانیت کے جذبات کو فروغ دیں۔
منتخب اشعار
یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا
انشا اللہ خاں انشا
عشق مژگاں میں ہزاروں نے گلے کٹوائے
عید قرباں میں جو وہ لے کے چھری بیٹھ گیا
شاد لکھنوی
میں عجب یہ رسم دیکھی مجھے روز عید قرباں
وہی ذبح بھی کرے اور وہی لے ثواب الٹا
مصحفی غلام ہمدانی
ہدف جس کا فقط دل ہو میں ایسے تیر کے قرباں
بدن جس سے نہ گھائل ہو میں اس شمشیر کے قرباں
تراب کاکوروی
اے پری رو ترے دیوانے کا ایماں کیا ہے
اک نگاہ غلط انداز پہ قرباں ہونا
ساحر دہلوی
سب پہ روشن ہے کہ راہ عشق میں مانند شمع
پاؤں پر سے ہم نے قرباں رفتہ رفتہ سر کیا
شاہ نصیر
ہے محبت اس وطن سے اپنی مٹی سے ہمیں
اس لیے اپنا کریں گے جان و تن قربان ہم
نامعلوم
تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھول
صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار
قمر جلالوی
آنے والے کل کی خاطر ہر ہر پل قربان کیا
حال کو دفنا دیتے ہیں ہم جینے کی تیاری میں
عذرا نقوی
کہتے ہیں تری زلف کوں دیکھ اہل شریعت
قربان ہے اس کفر پر ایمان ہمارا
سراج اورنگ آبادی
منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے
اس شرم اس لحاظ کے قربان جائیے
بیخود دہلوی
اس پہ قربان کہ جس نے تری آواز سنی
صدقے اس آنکھ کے جس نے ترا جلوہ دیکھا
اوج لکھنوی
ان پہ قربان ہر خوشی کر دی
زندگی نذر زندگی کر دی
فگار اناوی
اری بے کسی تیرے قربان جاؤں
برے وقت میں ایک تو رہ گئی ہے
شرف الدین الہام
کوئی لے لے تو دل دینے کو میں تیار بیٹھا ہوں
کوئی مانگے تو اپنی جان تک قربان کرتا ہوں
مضطر خیرآبادی
ہوا کربلا میں جو قربان برقیؔ
حسین ابن حیدر کا وہ خانداں تھا
برقی اعظمی
قربان سو طرح سے کیا تجھ پر آپ کو
تو بھی کبھو تو جان نہ آیا بجائے عید
شیخ ظہور الدین حاتم
اس دلبری کی شان کے قربان جائیے
اب دل دہی کو آئے ہیں جب دل نہیں رہا
عروج زیدی بدایونی
آپ بھی اپنے رفیقوں پہ ہیں گوہر افشاں
دل سے تھا شمر بھی اپنے رفقا پر قرباں
جوش ملیح آبادی
چلوں میں تیر جوڑے ہیں واں بانیٔ ستم
قرباں ہوں کس طرح پسرِ خاطر فاطمہؔ پہ ہم
میر انیس
قرباں تری آنکھوں کے صدقے تری نظروں کے
تھا حاصل صد ناوک جو زخم جگر دیکھا
جگر مراد آبادی
قرباں ہوں مجھے جس دم یاد آتی ہیں وہ باتیں
کیا دن وہ مبارک تھے کیا خوب تھیں وہ راتیں
محمد رفیع سودا
یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا
انشا اللہ خاں انشاؔ
بیدمؔ اس یاد کے میں صدقے اس درد محبت کے قرباں
جو جینا بھی دشوار کرے اور مرنا بھی مشکل کر دے
بیدم شاہ وارثی
صبا تصدق ترے نفس پر چمن ترے پیرہن پہ قرباں
نسیم دوشیزگی میں کیسا بسا ہوا ہے شباب تیرا
جوش ملیح آبادی
قرباں کمان ابروئے مولا پہ جان و دل
گر ماہ نو کہیں تو ہے تشبیہ مبتذل
میر انیس
قربان ہوائے علم شاہ امم کے
سب خار ہرے ہو کے بنے سرو ارم کے
مرزا سلامت علی دبیر
ہر شام و سحر قرباں جس پر دنیائے مسرت ہوتی ہے
وہ پیکر راحت کیا جانے کیسی شب فرقت ہوتی ہے
صبا افغانی
ان تمام اشعار میں "قربانی" کا مفہوم محض مذہبی رسم تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع انسانی اور روحانی تجربہ بن کر سامنے آتا ہے؛ کہیں یہ عشق کی شدت میں خود سپردگی کی علامت ہے، کہیں محبوب کی اداؤں پر نثار ہونے کا جذبہ، کہیں وطن سے محبت اور اجتماعی فلاح کے لیے جان و مال کی قربانی، اور کہیں کربلا کے استعارے کے ذریعے حق و باطل کی معرکہ آرائی میں ایثار کی اعلیٰ ترین مثال۔ انشا اور مصحفی کے اشعار میں ریاکاری پر طنز ملتا ہے، شاد لکھنوی اور ساحر دہلوی کے ہاں محبوب کی ایک ادا کو قربانی کے استعارے میں ڈھالا گیا ہے، تراب کاکوروی اور شاہ نصیر نے عشق کی تدریجی اور ہمہ گیر کیفیت کو بیان کیا ہے، جبکہ مرثیوں میں قربانی اپنے عظیم ترین روحانی اور تاریخی مفہوم میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ یوں یہ تمام کلام مل کر قربانی کو ایک ہمہ جہت، کثیر المعانی اور گہرے انسانی تجربے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
عید الاضحی کا پیغام دراصل ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت پیغام ہے جو انسان کو محض ایک مذہبی فریضہ ادا کرنے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اس کے باطن میں جھانکنے، اپنی نیتوں کو پرکھنے اور اپنی ترجیحات کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ تہوار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قربانی صرف اس جانور کی نہیں جو ہم اللہ کی راہ میں پیش کرتے ہیں، بلکہ یہ ہماری خواہشات، ہماری خود غرضیوں، ہمارے تعصبات اور ہمارے نفس کی ان تمام کمزوریوں کی قربانی کا تقاضا بھی کرتا ہے جو ہمیں حق اور انسانیت کے راستے سے دور لے جاتی ہیں۔
اگر ہم ان اشعار اور اس عظیم روایت کے تناظر میں غور کریں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قربانی کا اصل جوہر اخلاص، ایثار، محبت اور وفاداری میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جو ایک فرد کو بہتر انسان اور ایک معاشرے کو متوازن اور پرامن بناتی ہیں۔ آج کے دور میں جب مادیت، خود غرضی اور بے حسی بڑھتی جا رہی ہے، عید الاضحی ہمیں ایک بار پھر اس سبق کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنی ذات سے بلند ہو کر دوسروں کے لیے جئیں، ان کے دکھ درد کو محسوس کریں اور اپنی خوشیوں میں انہیں شریک کریں۔
یہ تہوار ہمیں نہ صرف اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کا موقع دیتا ہے بلکہ انسانوں کے ساتھ اپنے رشتوں کو بھی مزید خلوص اور محبت سے استوار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اگر ہم اس کے پیغام کو صحیح معنوں میں سمجھ کر اپنی زندگیوں میں نافذ کر لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی سنور سکتی ہے بلکہ پورا معاشرہ امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ یہی عید الاضحی کا اصل مقصد اور اس کی دائمی روح ہے۔
***
جلد(1) شمارہ (8) مئی 2026
Selected Urdu Couplets on “Sacrifice” for Eid al-Adha
No comments:
Post a Comment