Breaking News

New Issue Published • Sepember 2026 Edition Available • Submit Your Research Articles • Welcome to Qadar-ul-Kalam

تازہ ترین

نیا شمارہ شائع ہوگیا • ستمبر 2026 شمارہ دستیاب • تحقیقی مضامین ارسال کریں • قادرالکلام میں خوش آمدید

Friday, September 18, 2026

تحریک ِ آزادی ٔ ہند میں قومی یکجہتی


سعدیہ فاطمہ کا تحقیقی مضمون "تحریکِ آزادیِ ہند میں قومی یکجہتی" ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں قومی اتحاد، ہندو مسلم یکجہتی، رہنماؤں، خواتین، انقلابی تحریک اور ادب و صحافت کے کردار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
 سعدیہ فاطمہ(ریسرچ اسکالر،ناندیڑ)

تحریکِ آزادی سے مراد وہ منظم جدوجہد ہے جو کسی قوم یا ملک کے لوگ غیر ملکی غلامی، استعماری حکومت یا جابرانہ اقتدار سے نجات حاصل کرنے اور آزادی، خودمختاری اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے کرتے ہیں،ہندوستان کے تناظر میں تحریکِ آزادی سے مراد وہ طویل جدوجہد ہے جو ہندوستانی عوام نے تقریباً 1857ء سے 1947ء تک برطانوی حکومت کے خلاف کی اس تحریک میں مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں کے لوگوں نے حصہ لیا، جن کے نتیجے میں 15 اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا، یعنی 

‘‘تحریکِ آزادی وہ اجتماعی جدوجہد ہے جس کے ذریعے کوئی قوم غیر ملکی یا جابرانہ حکومت سے نجات حاصل کر کے آزادی اور خودمختاری حاصل کرتی ہے،،
ہندوستان کی تحریک آزادی دنیا کی عظیم ترین عوامی تحریکوں میں شمار کی جاتی ہے، یہ صرف برطانوی استعمار سے نجات کی جدو جہد نہیں تھی بلکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی قومی یکجہتی، باہمی تعاون اور مشترکہ جدوجہد کی ایک بے مثال داستان بھی تھی، آزادی کی اس تحریک نے ہندوستانیوں میں یہ احساس مذہبی لسانی اور علاقائی اختلاف سے بالا تر ہو کر ایک متحد قوم کی حثیت سے ہی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے یہی قومی یکجہتی ہندوستان کی آزادی کی سب سے بڑی قوت ثابت ہوئی، اس تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت قومی یکجہتی ہی تھی، جس نے مذہب، زبان، ذات، نسل اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہوکر ہندوستانیوں کو ایک مشترکہ مقصد، یعنی آزادیِ وطن، کے لئے متحد کیا، ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے یکساں جوش و جذبے کے ساتھ انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی،یہی اتحاد ہندوستان کی آزادی کا سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہوا۔

Thursday, September 17, 2026

شاہ کار علم و دانش : کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر )


"شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)" پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا تحقیقی و ادبی مضمون ہے، جس میں کلیلہ و دمنہ کی علمی، ادبی اور فکری اہمیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

 پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی

 فارسی ادب کا  دامن علمی اعتبار  سے مالامال ہے۔ طاہری دور سے صفوی اور قاچاری دور کے علما ئے  ادب نے بے شمار نادر و نایاب کتابیں تصنیف کیں جن میں رودکی، دقیقی، اور فردوسی کا شاہ نامہ، رومی کی مثنوی معنوی، عطار کی منطق الطیر اور تذکرہ اولیاء، طوسی کا سیاست نامہ، غزالی کی کیمیائے سعادت، سمرقندی کا چار مقالہ اور سعدی کی گلستان و بوستان خصوصیات کے ساتھ قابل ذکر شاہ کار ہیں۔ انھیں کتابوں میں ایک معروف کتاب کلیلہ و دمنہ ہے، جسے سنسکرت، پہلوی، عربی اور فارسی ادبیات نے اپنے اپنے دامن میں سجا کر اپنے حسن کو حسین تر و وسیع کرنے کی کوشش کی۔ دنیا کی پہلی کتاب ہے جو  تراجم کے مختلف مرحلوں سے گزری اور مختلف ناموں سے مشہور ہوئی، اس کے اصلی نام  وجہ تصنیف  اور مصنف و مؤلف کے بارے میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے، کلیلہ و دمنہ کے متعلق عوفی کی رائے مختلف ہے تو دولت شاہ سمرقندی کی رائے مختلف۔ براؤن کی تحقیق کچھ اور کہتی ہے تو رضا زادہ شفق اور ملک الشعرا بہار کی تحقیق کچھ اور۔ بہرحال بیش تر تذکرہ نگار اور محققین اس بات پر متفق ہیں اور خود کلیلہ و دمنہ کا مقدمہ اس بات کا شاہد ہے کہ اس کی اصل سنسکرت ہے اور اس کا نام پنچ تنتر ہے اور اس کا مصنف و شنوشرما ہے۔ وجہ تصنیف کے متعلق ایک معتبر روایت یہ ملتی ہے کہ قدیم ہندوستان جہاں تہذیب و تمدن کا گہوارا تھا اور علم کی دیوی جہاںنواس کرتی تھی وہیں راجاؤں کے بیٹے علم سے گریزاں  رہتے تھے اور لاکھ کوشش و کاوش کے بعد بھی ان کا دل مائل بہ علم نہیں ہوتا تھا۔ وشنو شرما نے انھیں شہزادوں کی تعلیم کی ذمہ داری اپنے سرلی اور پنچ تنتر تحریر کی۔

Sunday, September 13, 2026

📚 قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا


 📚 قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوگیا


ماہنامہ قادرالکلام (Qadar ul Kalam)

ISSN: 3139-1028

Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal


قادرالکلام ماہنامہ کا ستمبر کا تازہ شمارہ شائع ہوچکا ہے۔ اس شمارے میں اردو ادب، تحقیق، تنقید، شاعری، فکشن، کلاسیکی ادبی روایت اور عصرِ حاضر کے اہم علمی و ادبی موضوعات پر معیاری اور تحقیقی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔


اس شمارے میں ’’کلاسیکی روایت اور جدید ادبی شعور‘‘ میں  پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی کا مقالہ  ’’شاہ کارِ علم و دانش: کلیلہ و دمنہ (پنچ تنتر)‘‘ شامل کیا گیا ہے۔


ڈاکٹر صفیہ فاطمی کا مضمون ’’نسائی آواز اور اردو شاعری‘‘، فہیم خاتون مسرت کا ’’نورالحسنین کی افسانہ نگاری کا تنقیدی تجزیہ‘‘ اور طاہرہ خاتون کا ’’مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر‘‘ اس شمارے کی علمی و تحقیقی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔اسی طرح زینت پروین کا ’’اردو فکشن میں نسائی فکر کی ابتدا‘‘، غزالہ ہاشمی کا ’’جانے کتنے موڑ: موضوع و اسلوب‘‘ اور ڈاکٹر فریدہ تبسم کا ’’ڈپٹی نذیر احمد اور توبۃ النصوح‘‘ بھی اس شمارے میں شامل ہیں۔ جدید عہد کے اہم علمی موضوعات کی نمائندگی سعدیہ فاطمہ کے مضمون ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا بدلتا ہوا کردار‘‘ سے ہوتی ہے۔ وغیرہ شامل ہے۔ 


یہ شمارہ اردو ادب کے کلاسیکی ورثے سے لے کر جدید فکری مباحث تک ایک متنوع علمی و ادبی منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ محققین، اساتذہ، طلبہ، ریسرچ اسکالرز، ادباء اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ شمارہ خصوصی مطالعے کا حامل ہے۔


📖 ستمبر کے تازہ شمارے کے مکمل مضامین آن لائن پڑھنے کے لیے قادرالکلام کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں۔

Wednesday, September 9, 2026

پہلی جنگ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری


"پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری"
معروف ریسرچ اسکالر نغمہ فردوس کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس مضمون میں 1857ء کی جنگِ آزادی کے شورشی دور اور اس کے اردو شاعری پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

نغمہ فردوس (ریسرچ اسکالر، اورنگ آباد)

 ’’ادب زندگی اور تہذیب کا عکاس وترجمان ہوتا ہے۔‘‘ ادب انسان کے خیالات وجذبات کے اظہار کا نام ہے۔ ادیب وشاعر اپنے زمانے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کے یہاں زندگی اور تہذیب کا عکس نمایاں ہوتا ہے۔ جو کچھ دیکھتا ہے اسے اپنے قلم سے صفحہ قرطاس پر بکھیردیتاہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام ادب کی ابتدا شاعری سے ہوئی۔ اردو زبان وادب کی ابتدا بھی شاعری سے ہوئی۔1857ء کی جنگ آزادی میں بھی اردو شاعری نے اہم کردار ادا کیا۔ اردو چوں کہ ایک مخلوط زبان ہے، اس کی ترویج واشاعت میں ہندوؤں اور مسلمانوںدونوں کا حصہ ہے۔ پنڈت برج موہن دتا ترکیفی نے سچ ہی کہاہے  ؎

اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے

دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے

قوموں کے اتحاد کا یہ شاہکار ہے

کلچر کا اس کی ذات پہ دارومدار ہے

تاریخ ہند کی ہے وہ سرتاج آج تک

ہے اتحاد وانس کی معراج آج تک

Tuesday, September 8, 2026

بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد


ڈاکٹر فریدہ تبسم
کا یہ تحقیقی مضمون "بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد" 1857ء کی جنگِ آزادی میں بیگم حضرت محل کے سیاسی، عسکری اور سماجی کردار کا تاریخی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں ریاستِ اودھ کی قیادت، ہندو مسلم اتحاد، برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت اور ان کی سیاسی بصیرت کو تاریخی تناظر میں واضح کیا گیا ہے۔

ڈاکٹرفریدہ تبسم

1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا وہ اہم موڑ ہے جس نے برطانوی استعماری اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کو جنم دیا۔ اس تحریک میں متعدد سیاسی، عسکری اور عوامی شخصیات نے حصہ لیا، تاہم بیگم حضرت محل کا کردار اپنی وسعت، سیاسی بصیرت اور عملی قیادت کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ نواب واجد علی شاہ کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے ریاستِ اودھ کی سیاسی ذمہ داری سنبھالی، اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھایا اور انگریزوں کے خلاف عوامی مزاحمت کی قیادت کی۔ ان کی جدوجہد صرف عسکری نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اس میں سیاسی تنظیم، مذہبی رواداری، عوامی اتحاد اور قومی شعور کے عناصر نمایاں تھے۔ انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں طبقات کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کرنے کی کوشش کی اور برطانوی حکومت کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل عملی اقدامات کیے۔ اس مقالے میں بیگم حضرت محل کی سیاسی، عسکری اور سماجی جدوجہد کا تاریخی مآخذ کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے، تاکہ جنگِ آزادی 1857ء میں ان کے حقیقی کردار کو علمی بنیادوں پر واضح کیا جا سکے۔

1857ء کی جنگِ آزادی ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے برطانوی اقتدار کے خلاف مختلف طبقات کو مشترکہ مزاحمت پر آمادہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ کا فوری محرک فوجی بغاوت تھی، لیکن اس کے اسباب محض فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع پسندانہ پالیسیاں، مقامی ریاستوں کا الحاق، معاشی استحصال، مذہبی معاملات میں مداخلت اور ہندوستانی حکمرانوں کی خودمختاری کا خاتمہ ایسے عوامل تھے جنہوں نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی۔ ریاستِ اودھ کا انضمام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس کے بعد وہاں عوامی مزاحمت نے منظم صورت اختیار کی۔

Monday, September 7, 2026

کلام ظفر میں استعماری ظلم کے خلاف احتجاج


یہ مضمون ڈاکٹر محمد کاشف، اسسٹنٹ پروفیسر، الہٰ آباد یونیورسٹی، کا تحقیقی مضمون ہے۔ اس میں بہادر شاہ ظفر کی شاعری کے ذریعے برطانوی استعمار کے ظلم، سیاسی غلامی، دہلی کی تباہی، تہذیبی زوال اور آزادی کی آرزو کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون خاص طور پر ظفر کے شعری استعاروں اور علامتی احتجاج کو 1857ء کی جنگِ آزادی کے تاریخی پس منظر میں واضح کرتا ہے۔

 ڈاکٹر محمد کاشف(اسسٹنٹ پروفیسر،الہ آباد یونیورسٹی) 

برصغیرکی سیاسی،سماجی اورتہذیبی تاریخ میں1857 کی جنگ آزادی ایک ایساعظیم اورفیصلہ کن واقعہ ہے جس نے نہ صرف ہندوستان کےسیاسی نقشے کوتبدیل کیا بلکہ اس کے ادبی اورفکری شعور پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ تحریک صرف انگریزسامراج کےخلاف ایک عسکری بغاوت نہیں تھی بلکہ ہندوستانی عوام کی آزادی خودمختاری،تہذیبی شناخت اور انسانی وقار کی ایک ہمہ گیر جدوجہد تھی۔اس تحریک کی علامتی قیادت ہندوستان کےآخری مغل تاجدارابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر نے کی جن کی شخصیت سیاست،تہذیب اور ادب کےسنگم پرایک منفرد مقام رکھتی ہے۔اگرچہ ان کے پاس عملی اقتدار نہ ہونےکےبرابر تھا،لیکن ہندوستانی عوام نےانہیں اپنی اجتماعی امنگوں اور آزادی کےخواب کی علامت کےطور پر قبول کیا۔بہادر شاہ ظفر کا عہد مغلیہ سلطنت کےزوال،برطانوی استعمار کےعروج اور ہندوستانی معاشرےکی تہذیبی و سیاسی شکست کا عہد تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی استعماری پالیسیوں،معاشی استحصال،مقامی ریاستوں کےالحاق،مذہبی معاملات میں مداخلت اور فوجی بےاطمینانی نےپورےملک میں اضطراب پیدا کر دیا تھا۔یہی بےچینی بالآخر 1857 کی جنگِ آزادی کی صورت میں ظاہر ہوئ اگرچہ یہ تحریک عسکری اعتبار سے ناکام ہوئی،لیکن اس نے ہندوستانیوں کےاندرآزادی کےشعور کو ہمیشہ کےلیےبیدارکر دیا۔جنگ کی ناکامی کےبعد بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکےرنگون جلا وطن کر دیا گیا،ان کےشہزادوں کو قتل کر دیا گیا اور مغلیہ سلطنت کا ہمیشہ کے لیےخاتمہ ہو گیا۔

بہادر شاہ ظفر کی شاعری کےبارےمیں طویل عرصےتک یہ تاثر قائم رہا کہ وہ ایک ایسےشاعر ہیں جن کےکلام میں صرف محرومی، حسرت، مایوسی اور ذاتی غم کی کیفیت نمایاں ہے۔اس تصور کےباعث ان کی شاعری کو زیادہ تر ایک معزول بادشاہ کی المناک داستان کےطور پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم جدید ادبی تحقیق اور تنقیدی مطالعات نے اس نقطۂنظر کو نئی جہت عطا کی ہے۔ جب بہادرشاہ ظفر کےکلام کامطالعہ ان کےعہد کےسیاسی،سماجی اور تاریخی حالات کےتناظر میں کیا جاتا ہےتو یہ حقیقت سامنےآتی ہےکہ انکی شاعری صرف ذاتی رنج و الم کا اظہار نہیں،بلکہ نوآبادیاتی استبداد،سیاسی غلامی اور تہذیبی زوال کےخلاف ایک خاموش مگر بامعنی مزاحمت بھی ہے۔

Sunday, September 6, 2026

برطانوی سامراج اوراردوکامزاحمتی ادب


پروفیسر سید محمود کاظمی کا یہ اہم تحقیقی مضمون "برطانوی سامراج اور اردو کا مزاحمتی ادب" اردو ادب میں مزاحمت، قومی بیداری اور تحریکِ آزادی کے مختلف ادبی اظہار کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں غالب، بہادر شاہ ظفر، چکبست، اقبال، جوش، پریم چند اور دیگر شعراء و ادباء کے حوالے سے برطانوی سامراج کے خلاف اردو ادب کے مزاحمتی کردار کو واضح کیا گیا ہے۔

 پروفیسرسید محمود کاظمی

ادب ماحول و معاشرے کی پیداوار ہونے کے ساتھ ان احوال وافکار اور جذبات واحساسات کا ترجمان ہوتاہے جو افراد معاشرہ  کے دل ودماغ میں پرورش پاتے ہیں ۔کسی بھی ادیب وشاعر کے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے اطراف میں اچھا یا بُراکچھ  ہورہاہواور وہ اس کاکوئی بھی اثرقبول نہ کرے۔ ہم جسے سماجی یاعصری آگہی کانام دیتے ہیںوہ یوںہی تو نہیں پیداہوتی۔اس کے لیے ایک جاگتے ہوئے ذہن اور محسوس کرنے والے دل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوںکسی ادیب یاشاعر کاسرمایۂ حیات نہ ہوں ایسا کہاں ہوسکتا ہے۔ کہاتویہ جاتاہے کہ کسی بھی انسانی سماج میںتخلیق کاروفنکار ہی سب سے زیادہ حساس ہوتاہے پھریہ کیسے ممکن ہے کہ وہ محسوس توکرے لیکن اس کااظہار نہ کرے۔ وہ اظہار کرتاہے اور پوری شدت سے کرتاہے بلکہ اُس وقت تو یہ شدت اوربھی بڑھ جاتی ہے جب دستورزباںبندی نافذکردیا جائے اورفکرواظہار کے تمام راستوںپر پہرے بٹھادیے جائیں۔ ہندوستان میں جب ہم برطانوی سامراج قائم ہونے کے بعد کی صورت حال پرغورکرتے ہیںتو اگر ایک طرف انگریزحکمرانوںکے ذریعے فکرواظہار پر لگائی گئی پابندیوںکامشاہدہ کرتے ہیں تودوسری جانب اس وقت کے ادیبوں،شاعروں، صحافیوں، ناول وافسانہ نگاروں کے قلم سے نکلتی ہوئی ان چنگاریوںکی آنچ بھی ہمیں محسوس ہوتی ہے جو ہندی،اردواور دیگرہندوستانی زبانوںمیں لکھے گئے تخلیقی ادب میں موجود ہیں۔ چونکہ مجھے اردوزبان وادب کے حوالے سے گفتگوکرنی ہے اس لیے اس سلسلے میں سب سے پہلے اردو کے اس شعرکاذکرکروںگا جو 1757ء میںپلاسی کی جنگ میںبنگال کے نواب سراج الدولہ کے مارے جانے پر اس کے دوست رام نرائن لعل موزوںنے کہاتھا۔شعرملاحظہ ہو  ؎ 

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوںکے مرنے کی

دوانہ مرگیا، آخر کو ویرانے پہ کیا گزری 

Saturday, September 5, 2026

تحریک آزادی اور برج نرائن چکبستؔ


پروفیسر زماں  آزردہ  (کشمیر)

یہ مضمون معروف قومی شاعر برج نرائن چکبستؔ کی شاعری اور تحریکِ آزادیِ ہند میں ان کے کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں چکبستؔ کی نظموں کے ذریعے حبِ وطن، قومی بیداری، خود اعتمادی، ہندو مسلم اتحاد اور آزادی کے جذبے کو اجاگر کیا گیا ہے


 ہندوستان میں جنگ آزادییوں تو کئی محاذوں پر لڑی گئی مگر اس جنگ میں جس ہتھیار کا سب سے زیادہ استعمال ہوا وہ زبان اردو ہے۔ اس میں اردو صحافت اور اردو شاعری خاص طور سے نظم پیش پیش ہے۔ حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرنے میں ہمارے جن نظم نگاروں نے حصہ لیا ان میں برج نرائن چکبستؔ کا نام نامی خاص طور سے قابل ذکر ہے۔

جنگ آزادی میں لوگوں کے دلی جذبات کارول سب سے اہم رہا ہے۔ یہ اصل میں جنگ نہیں بل کہ ایک جوش اور ولولہ تھا جس کے آگے حکومت کے ہتھکنڈے ٹھہر نہ سکے۔ اس کی دو صورتیں تھیں، ایک یہ کہ وطن کی مٹی سے محبت ہو اور دوسرے وطن کی سرزمین پر جو غاصب قبضہ کیے ہوئے ہوں ان سے نفرت پیدا ہو۔ یہ جذبہ بیدار کرنے کے لیے لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ ہندوستانی کو تمام آسائشیں اور سہولتیں اپنے وطن سے باہر نظر آتی تھیں۔ خود اعتمادی اور خود شناسی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ چکبستؔکی نظموں نے یہ تاثر کافی حد تک دور کر دیا۔ انھوں نے درخشندہ ماضی، زوال آمادہ حال اور خوش آئند مستقبل تینوں کی نشان دہی کی۔ پروفیسر مسعود حسن رضویادیب لکھتے ہیں:

’’چکبستؔ نے مختلف موضوعوں پر نظمیں کہی ہیں مگر ان کی بنیاد جس جذبے پر قائم ہے وہ وطن کی محبت اور اہل وطن کی بہبود کی خواہش ہے۔ چکبستؔ نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام ’صبح وطن‘ رکھا ہے۔ اس سے بھی اسی بنیادی جذبے کا اظہار ہو رہا ہے۔چکبستؔ حقیقی وطنیت اور صحیح قومیت کے علم بردار تھے ۔‘‘ 

Friday, September 4, 2026

تحریک آزادی اور الہلال


 
 پروفیسرشاہد نوخیز اعظمی

 یہ مضمون معروف صحافی، مفکر اور مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرۂ آفاق صحافتی کاوش ’’الہلال‘‘ اور تحریکِ آزادیِ ہند میں اس کے مؤثر کردار کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مضمون میں الہلال کے ذریعے قومی بیداری، ہندو مسلم اتحاد، متحدہ قومیت، حب الوطنی اور آزادیِ وطن کے فروغ میں مولانا آزاد کی فکری و صحافتی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

 مولانا کی صحافت ایک صحیفہ کا نزول تھا۔ جس کو صحیفۂ  صحافت کہنا مبالغہ نہ ہوگا کیوں کہ صحافت کی شریعت میں واحد صحیفہ ’’الہلال‘‘ ہے جس نے ایسا اصول مقرر و مرتب کیا جو نہ صرف موجودہ بل کہ آئندہ وپائندہ صحافت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کی زبان، زمین وزمان کے لیے نوید سرفروشی تھی جس کا نعرہ تیز ترکِ گامزن اور منزل اتحاد، آزادی اور حب الوطنی تھی۔ الہلال نے جب یہ مشعل روشن کی تو تاریکی، گم راہی، لاعلمی، بے راہ روی، خود گریزی ونافہمی کی چادر اوڑھ کر سوئے  ہوئے عوام نے اس وقت کروٹ لی جب الہلال نے یہ صدا بلند کی۔ ’’الجھاد فی سبیل الحریّہ‘‘الہلال کی پرشور آزاد، منفرد انداز اور حب الوطنی کے ساز کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو  ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال سے مسلمانوں کو ایک نئی زبان میں مخاطب کیا۔ یہ ایک ایسا انداز خطاب تھا جس سے ہندوستانی مسلمان آشنا نہ تھے۔ وہ علی گڑھ کی قیادت کے محتاط لہجے سے واقف تھے۔ سرسید، محسن الملک، نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا کوئی زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا ہی نہ تھا۔ الہلال مسلمانوں کے کسی بھی مکتب خیال سے اتفاق نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوںکو دے رہا تھا۔‘‘

Wednesday, September 2, 2026

اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار: ایک تجزیاتی مطالعہ



  رعنا تبسم(اسوسی ایٹ پروفیسر، آکولہ)
اردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس کی تعمیر و تشکیل میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ادب محض جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ یہ ایک قومی ذمہ داری ہے جس میں خواتین نے ہر دور میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ بیسویں صدی سے لے کر اکیسویں صدی تک، اردو خواتین ادیبات نے اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرتی اصلاح، سیاسی شعور اور قومی یکجہتی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ مقالہ اس بات کا احاطہ کرتا ہے کہ کس طرح خواتین نے گھر کی چار دیواری سے نکل کر ایوانِ ادب اور قومی تعمیر کے میدانوں تک اپنی پہنچ بنائی۔اردو ادب کی روایت میں خواتین نے صرف جذبات اور احساسات کی ترجمانی ہی نہیں کی بلکہ قومی زندگی کے ہر اہم موڑ پر اپنی فکری بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں کا ثبوت بھی دیا۔ ان کی تحریریں معاشرتی شعور، اخلاقی اقدار، قومی یکجہتی اور تہذیبی شناخت کی امین رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ادب کی تاریخ خواتین کی خدمات کے بغیر نامکمل تصور کی جاتی ہے۔
تحریکِ آزادی اور خواتین کا قلمی جہاد
برصغیر میں جب آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں، تو خواتین صرف تماشائی نہیں تھیں۔ سر سید احمد خان کی تحریکِ علی گڑھ نے خواتین کی تعلیم کے دروازے کھولے، جس کے نتیجے میں ایسی قلم کار پیدا ہوئیں جنہوں نے قوم کو بیدار کیا۔اس دور میں خواتین کے قلم نے گویا قوم کو یہ پیغام دیا کہ "قلم بھی ایک ہتھیار ہے۔" اگر مرد میدانِ جنگ میں تھے تو خواتین نے اپنے مضامین، نظموں اور تقریروں کے ذریعے قوم کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن رکھی۔ ان کی تحریروں میں حوصلہ، قربانی اور وطن سے محبت کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔

Friday, August 28, 2026

📢 اہم اعلان | قادرالکلام خصوصی شمارہ

الحمدللہ! ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ماہنامہ قادرالکلام، حیدرآباد (انڈیا) کے خصوصی شمارے کے متعلق سرٹیفکیٹس اور کتابیں بذریعہ اسپیڈ پوسٹ  روانہ کر دی گئی ہیں۔ 📚📜

ان شاء اللہ، تمام معزز قلم کاروں اور محققین کو ان کی کتابیں اور سرٹیفکیٹس عنقریب موصول ہو جائیں گے۔

تمام متعلقہ احباب سے گزارش ہے کہ وصولی کے لیے چند دن انتظار فرمائیں۔

🌐 مزید تفصیلات اور تازہ معلومات کے لیے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں:
www.qadirulkalam.com

📱 مزید معلومات اور رابطے کے لیے واٹس ایپ:
8885303386

آپ کے علمی و ادبی تعاون اور اعتماد کے لیے تہہ دل سے شکریہ۔

قادرالکلام
علم، تحقیق اور ادب کے فروغ کا سفر

Wednesday, August 12, 2026

📚 تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ


یہ مضمون ’’تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ‘‘ کے عنوان سے پروفیسر مجید بیدار کا ایک تحقیقی و تاریخی مطالعہ ہے۔ اس میں 1857ء سے 1947ء تک اردو صحافت، اخبارات و رسائل اور ممتاز صحافیوں کی جدوجہدِ آزادی میں خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون اردو صحافت کے ذریعے قومی شعور، حب الوطنی اور آزادی کی تحریک کو فروغ دینے کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔

پروفیسر مجید بیدار

  جمہوریت میں صحافت کو تیسری آنکھ کا درجہ حاصل ہے۔ تحریک ِآزادی ہی نہیں بلکہ جدوجہد ِآزادی میں ہندوستان کی صحافت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس قدر انقلابی نعرے اور وطن پرستی کے جذبات کو ابھارنے میں اردو زبان نے حق ادا کیا ہے‘ اس کی مثال ہندوستان کی دوسری زبانوں میں ملنی مشکل ہے۔ 1857ء کے بعد سے لے کر 1947ء تک ہندوستان میں اردو اخبارات ‘ رسائل اور جرائد نکالنے والے مدیران یا ان سے وابستہ افراد نے صحافت کو تجارت پیشہ یا پھر ایک وسیلۂ اظہار کے طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ اردو کے شاعروں اور ادیبوں نے اخبارات سے وابستہ ہوکر جدوجہد آزادی کو تیزتر کرنے میں اردو صحافت کو ایک تحریک کا درجہ دے دیا اور اپنے کالموں‘ اداریوں اور خبروں کے ذریعہ ہندوستانیوں میں اتحاد اور میل جول کا ماحول پیدا کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ غدر سے لے کر ہندوستان کی آزادی تک کے تمام اردو اخبارات کا بہ غور مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اردو صحافت نے کبھی عصبیت ‘ فرقہ واریت‘ علاقہ واریت یا پھر مذہب کی فضا استوار کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ صاف طور پر ظاہر ہوجاتا ہے کہ شمالی اور جنوبی ہند سے اردو میں شائع ہونے والے تمام اخبارات نے صرف ایک مقصد کے لیے اپنی صحافت کے جوہر دکھائے اور وہ مقصد تھا کہ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کروایا جائے اور ہندوستانیوں میں  حب الوطنی کے جذبے کو پروان چڑھاکر انھیں سچے دیش بھکت بنایا جائے۔ یہی وجہ رہی کہ تحریک آزادی میں تیزی اور انگریزی سامراج کے خلاف غم و غصہ کی لہر نے عوام میں اس قدر شدت اختیار کرلی کہ 100 سالہ علمی جدوجہد میں ہندوستانیوں کو وہ کامیابی حاصل نہ ہوئی جو 40 سالہ اردو صحافت نے انجام دی۔ بلاشبہ تحریک آزادی میں ہندوستان کی کامیابی کو ہم صحافت کی دین قرار دے سکتے ہیں۔ ہندوستانی سیاسی رہنماؤں اور مختلف مذہبی سربراہوں کے بیانات اخبارات میں شائع نہ ہوئے اور صحافت کے توسط سے عوام تک نہیں پہنچے اور ان کے توسط سے انگریز بربریت کا کچا چھٹا عوام کے سامنے نہ آتا تو آزادی کا حصول حد درجہ دشوار ہوجاتا۔ اخبارات نے جب انگریز ظلم و زیادتی کی رپورٹنگ شروع کی تو ساری دنیا پر حقیقت آشکار ہوگئی کہ ہندوستان کو اپنے زیر نگیں رکھ کر سامراجیت کس طرح مفادات حاصل کررہی ہے۔ انگریزی رویہ کو اردو اخبارات نے صحافت کے ذریعہ  طشت از بام کیا جس کی وجہ سے آزادی کا سورج طلوع ہوا۔

Wednesday, August 5, 2026

📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا


📚 یومِ آزادی خصوصی شمارہ 2026 شائع ہوگیا


ماہنامہ قادرالکلام (QADAR UL KALAM)

ISSN: 3139-1028

Peer-Reviewed | International Research & Refereed Journal


الحمدللہ، قادرالکلام کا یومِ آزادی خصوصی شمارہ (اگست 2026) شائع ہو چکا ہے۔


یہ خصوصی شمارہ تحریکِ آزادی ہند اور اردو ادب کے موضوع پر مبنی ہے، جس میں ممتاز اساتذہ، محققین اور اہلِ قلم کے تحقیقی و تنقیدی مقالات شامل ہیں۔


اس شمارے میں تحریکِ آزادی، اردو صحافت، الہلال، برج نرائن چکبستؔ، مولانا ابوالکلام آزاد، بہادر شاہ ظفر، حسرت موہانی، بیگم حضرت محل، مزاحمتی ادب، اردو شاعری، اردو ناول نگاری، خواتین کا کردار اور دیگر اہم موضوعات پر مستند مقالات شامل کیے گئے ہیں۔


اس شمارے میں ایک اہم انگریزی تحقیقی مقالہ بھی شامل ہے:


The Literary Representation of Colonial Resistance in India and Australia

Dr. Mohammed Kalim Mohiuddin


📖 مطالعہ کے لیے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں:


🌐 www.qadirulkalam.com


📧 qadarulkalam@gmail.com


📧 qadirulkalam5@gmail.com


📱 WhatsApp: +91 8885303386

#قادرالکلام #اردو_ادب #تحریک_آزادی #آزادی_ہند #اردو_تحقیقی_جریدہ #اردو_صحافت #مولانا_آزاد #بہادر_شاہ_ظفر #حسرت_موہانی #ادبی_تحقیق #PeerReviewed #ResearchJournal 

Saturday, July 25, 2026

اہم اعلان برائے اساتذہ و ریسرچ اسکالرس

 

📢 قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد (انڈیا)

ISSN: 3139-1028


 خصوصی شمارہ: "آزادیِ ہند اور اردو ادب"

الحمدللہ! قادرالکلام ماہنامہ کا خصوصی شمارہ "آزادیِ ہند اور اردو ادب" اشاعت کے آخری مرحلے میں ہے۔ ملک کی مختلف جامعات، کالجوں اور تحقیقی اداروں سے وابستہ ممتاز اساتذہ، محققین اور ریسرچ اسکالرز کے معیاری، تحقیقی اور غیر مطبوعہ مقالات اس خصوصی شمارے میں شامل کیے جا رہے ہیں۔

📚 اب تک شامل کیے گئے چند اہم مقالات

  1. تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ — پروفیسر مجید بیدار، حیدرآباد

  2. تحریکِ آزادی اور الہلال — پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی، حیدرآباد

  3. پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری — نغمہ فردوس، اورنگ آباد

  4. مجاہدِ آزادی مولانا آزاد کی ادبی خدمات — شہینہ ناز، جمشیدپور

  5. آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری — عامر خان، رام پور

  6. احمد علی: جنگِ آزادی کا گمنام قلم کار — ڈاکٹر صفیہ فاطمی، اسسٹنٹ پروفیسر، دربھنگہ

  7. اردو شاعری اور تحریکِ آزادی — ڈاکٹر ناظم حسین خان، صدر شعبۂ اردو، لکھنؤ

  8. بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد — ڈاکٹر فریدہ تبسم، حیدرآباد

  9. اشفاق اللہ خان کی مجاہدانہ شاعری — ڈاکٹر واجدہ بیگم، حیدرآباد

  10. اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار — گل رعنا علی، اسسٹنٹ پروفیسر، آکولہ (مہاراشٹر، انڈیا)

📌 اہم اطلاع

اگر آپ نے اس خصوصی شمارے کے لیے اپنا مقالہ ارسال کیا تھا لیکن کسی وجہ سے آپ کا نام یا مضمون مذکورہ فہرست میں شامل نہیں ہو سکا، تو براہِ کرم فوری طور پر ادارۂ قادرالکلام سے رابطہ کریں تاکہ اشاعت سے قبل آپ کے مقالے کو شامل کیا جا سکے۔

📧 Email:
qadarulkalam@gmail.com
qadirulkalam5@gmail.com

📱 WhatsApp: +91 8885303386

Wednesday, July 22, 2026

اردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں آغا حسن امانت کا مقام


"اردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں آغا حسن امانت کا مقام" شاذیہ بیگم (مدیر) کا ایک تحقیقی و تنقیدی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں اردو ڈراما نگاری کی ابتدا، ارتقا اور فروغ میں آغا حسن امانت کی ادبی خدمات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ بالخصوص ان کے شہرۂ آفاق ڈرامے "اندر سبھا" کی فنی و ادبی خصوصیات، اسلوب، کردار نگاری، مکالمہ نگاری، شعری محاسن اور اردو تھیٹر کی تشکیل میں اس کے تاریخی کردار کو تحقیقی انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ یہ مقالہ اردو ڈرامے کی روایت، آغا حسن امانت کی تخلیقی عظمت اور برصغیر کی ڈرامائی روایت کو سمجھنے کے لیے ایک اہم علمی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔

 شاذیہ بیگم   (مدیر)

اردو ادب کی تاریخ میں مختلف اصنافِ سخن نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں انسانی زندگی، جذبات، خیالات اور معاشرتی مسائل کی ترجمانی کی ہے۔ ان اصناف میں ڈراما ایک ایسی صنف ہے جو ادب اور فنونِ لطیفہ کے کئی شعبوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ ڈراما محض تحریری اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ زندگی کے واقعات، انسانی کرداروں، جذباتی کشمکش اور سماجی مسائل کو مکالموں، حرکات و سکنات اور عملی پیش کش کے ذریعے زندہ صورت میں پیش کرتا ہے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر ڈراما کو ادب کی ایک ایسی صنف کہا جاتا ہے جو پڑھنے کے ساتھ ساتھ دیکھنے اور سننے کا تجربہ بھی فراہم کرتی ہے۔
لفظ ’’ڈراما‘‘ یونانی زبان کے لفظ ’’Drama‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی عمل یا حرکت کے ہیں۔ دنیا کے قدیم ادب میں ڈراما کی روایت یونان سے شروع ہوئی، جہاں المیہ اور طربیہ ڈراموں نے ادبی اور فنی ترقی کی بنیاد رکھی۔ یونانی ڈراما نگاروں میں سوفوکلیز، یوری پیڈیز اور ایسکائلس نے اس صنف کو عروج بخشا۔ بعد ازاں مغربی ادب میں ڈراما مختلف ادوار سے گزرتا ہوا جدید شکلوں تک پہنچا، جس میں ولیم شیکسپیئر کا کردار نہایت اہم ہے۔ اردو ڈراما نگاری نے بھی عالمی ڈرامائی روایت سے اثرات قبول کیے، تاہم اس نے اپنی تہذیبی اور لسانی خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک الگ شناخت قائم کی۔
برصغیر میں ڈرامے کی روایت قدیم ہندوستانی ادب میں بھی موجود تھی۔ سنسکرت ڈرامے، لوک کہانیاں، مذہبی رسومات اور عوامی تماشے اس روایت کے ابتدائی مظاہر تھے۔ بعد میں فارسی تہذیب اور درباری ماحول نے بھی یہاں کے فنونِ لطیفہ پر اثر ڈالا۔ مغلیہ اور بعد از مغلیہ دور میں داستان گوئی، قصہ خوانی، محفل آرائی اور موسیقی پر مبنی ثقافتی سرگرمیوں نے ایسے عناصر پیدا کیے جو آگے چل کر اردو ڈرامے کی تشکیل میں معاون ثابت ہوئے۔

Monday, July 20, 2026

جیلانی بانو کے افسانوی فن کا تنقیدی مطالعہ


 اس میں جیلانی بانو کے افسانوی فن  کے موضوع پر علمی، تحقیقی اور تنقیدی بحث پیش کی گئی ہے۔ مضمون نگار نے مستند حوالوں، تحقیقی دلائل اور ادبی تناظر کی روشنی میں موضوع کے مختلف پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا ہے، جو محققین، اساتذہ، طلبہ اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔

محمدعبدالرحمن    (کالم نگار)

 اردو افسانے کی روایت میں چند ایسی ادیبائیں بھی شامل ہیں جنہوں نے محض کہانیاں تخلیق نہیں کیں بلکہ اپنے عہد کی سماجی، نفسیاتی اور تہذیبی پیچیدگیوں کو فنی شعور کے ساتھ ادب کا حصہ بنایا۔ ان ممتاز افسانہ نگاروں میں جیلانی بانو کا نام نہایت احترام اور وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے اردو افسانے کو عورت کے داخلی احساسات، انسانی نفسیات، معاشرتی ناہمواریوں اور تہذیبی اقدار کے ایسے زندہ تجربات سے روشناس کرایا جو نہ صرف اپنے عہد کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ ہر دور کے قاری کے لیے معنویت رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں زندگی کی تلخ حقیقتیں، انسانی رشتوں کی نزاکت، سماجی جبر، طبقاتی تفاوت، عورت کی شناخت کی کشمکش اور باطنی کرب نہایت فنی مہارت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیلانی بانو کو ترقی پسند تحریک کے بعد اردو افسانے کی اہم ترین اور باوقار ادیباؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

جیلانی بانو 14 جولائی 1936ء کو بدایوں، اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد حیرت بدایونی معروف شاعر تھے، اس لیے انہیں بچپن ہی سے ادبی اور علمی ماحول میسر آیا۔ ابتدائی عمر میں ہی شعر و ادب سے شغف پیدا ہوا اور یہی ماحول ان کی تخلیقی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا۔ بعد ازاں ان کا خاندان حیدرآباد دکن منتقل ہوگیا، جہاں اس خطے کی تہذیبی رنگا رنگی، ادبی روایت اور سماجی تنوع نے ان کے فکر و فن کو مزید وسعت عطا کی۔ انہوں نے کم عمری میں افسانہ نگاری کا آغاز کیا اور 1952ء میں ان کا پہلا افسانہ ’’ایک نظر اِدھر بھی‘‘ شائع ہوا، جس نے ادبی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ بعد ازاں افسانہ ’’موم کی مریم‘‘ نے انہیں اردو افسانے کی صفِ اول کی تخلیق کاروں میں شامل کر دیا اور ان کی ادبی شناخت کو مستحکم کیا۔

Sunday, July 19, 2026

پریم چند کی ناول نگاری: ناول ’’نرملا‘‘ کے حوالے سے ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ


"پریم چند کی ناول نگاری: ناول ’’نرملا‘‘ کے حوالے سے ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" فریدہ تبسم (کالم نگار) کا ایک اہم تحقیقی و تنقیدی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں منشی پریم چند کے شہرۂ آفاق ناول ’’نرملا‘‘ کا ادبی، فنی اور سماجی تناظر میں تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں جہیز، کم عمری کی شادی، عورت کی سماجی حیثیت، خاندانی رشتوں کی پیچیدگی اور اصلاحِ معاشرہ جیسے اہم موضوعات کا تحقیقی و تنقیدی تجزیہ کیا گیا ہے۔ نیز یہ واضح کیا گیا ہے کہ ’’نرملا‘‘ صرف ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ اپنے عہد کے سماجی مسائل کی بھرپور عکاسی کرنے والا ایک اہم ناول ہے۔

ڈاکٹر فریدہ تبسم    (کالم نگار)

 اردو اور ہندی ادب کی تاریخ میں پریم چند کو ایک ایسے عظیم فکشن نگار کی حیثیت حاصل ہے جنہوں نے ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے زندگی کی ترجمانی، سماجی اصلاح اور انسانی مسائل کے اظہار کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ انہوں نے اپنے عہد کے معاشرتی حالات، طبقاتی کشمکش، معاشی مسائل، دیہی زندگی، عورتوں کی مشکلات اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اردو اور ہندی کے صفِ اول کے ناول نگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

پریم چند کی ناول نگاری کا بنیادی وصف حقیقت نگاری ہے۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں زندگی کے ان پہلوؤں کو موضوع بنایا جن سے عام انسان روزانہ گزرتا ہے۔ ان کے کردار خیالی دنیا کے باشندے نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے حقیقی افراد محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے دکھ، محرومیاں، خواہشات، کمزوریاں اور جدوجہد انسانی زندگی کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں۔ پریم چند نے ادب کو سماجی شعور سے وابستہ کیا اور ناول کو معاشرتی مسائل کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ بنایا۔

ناول ’’نرملا‘‘ پریم چند کی اہم ترین تخلیقات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ناول بیسویں صدی کے ابتدائی ہندوستانی معاشرے میں عورت کی حالت، جہیز کی لعنت، ناموافق ازدواجی رشتوں، شک و شبہ کی تباہ کن نفسیات اور خاندانی نظام کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ پریم چند نے اس ناول میں محض ایک عورت کی داستان بیان نہیں کی بلکہ اس پورے سماجی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو عورت کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ ’’نرملا‘‘ ایک سماجی، نفسیاتی اور اصلاحی ناول کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں مصنف نے انسانی جذبات اور معاشرتی ناانصافیوں کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔

Friday, July 17, 2026

📢 فوری اعلان | Call for Papers

QADIR-UL-KALAM Monthly, Hyderabad (India)

ISSN: 3139-1028
A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal

📢 *قادرالکلام ماہنامہ، حیدرآباد (انڈیا)*

*ISSN: 3139-1028*

*خصوصی شمارہ: "آزادیِ ہند اور اردو ادب"*

 قادرالکلام ماہنامہ کے خصوصی شمارہ *"آزادیِ ہند اور اردو ادب"* کے لیے ملک کی مختلف جامعات اور تحقیقی اداروں سے ممتاز اساتذہ، محققین اور ریسرچ اسکالرز کے مقالات موصول ہو رہے ہیں۔

*اب تک موصول ہونے والے بعض اہم مقالات:*

🔹 *تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا حصہ* — پروفیسر مجید بیدار، *حیدرآباد*

🔹 *تحریکِ آزادی اور الہلال* — پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی، *حیدرآباد*

🔹 *اردو صحافت کا معمارِ اول: مولوی محمد باقر مجتہد* — ڈاکٹر عبدالعزیز عرفانؔ، *اورنگ آباد، مہاراشٹر*

🔹 *پہلی جنگِ آزادی کا شورشی دورانیہ اور اردو شاعری* — نغمہ فردوس، *اورنگ آباد، مہاراشٹر*

🔹 *آزادیِ ہند اور اردو ناول نگاری* — (مضمون نگار)، *رامپور، اتر پردیش*

🔹 *مولانا آزاد کی ادبی خدمات* — شہنا ناز، *رانچی*

🔹 *حسرت موہانی کی انقلابی شاعری* — اسما جبین

🔹 *اردو شاعری اور تحریکِ آزادی* — ڈاکٹر ناظم حسین خان، *لکھنو، اتر پردیش*

🔹 *بیگم حضرت محل کی آزادی کے لیے جدوجہد* — ڈاکٹر فریدہ تبسم، *حیدرآباد*

🔹 *اشفاق اللہ خان کی مجاہدانہ شاعری* — ڈاکٹر واجدہ بیگم، *حیدرآباد*

🔹 *اردو ادب میں خواتین کا قومی کردار* — گل رعنا علی، *آکولہ، مہاراشٹر*

✍️ *اگر آپ نے ابھی تک اپنا مقالہ ارسال نہیں کیا تو جلد از جلد روانہ کریں۔*


⏳ *مقالہ ارسال کرنے کی آخری تاریخ: 25 جولائی*


📧 *ای میل:*

qadarulkalam@gmail.com

qadirulkalam5@gmail.com 


📱 *WhatsApp:* +91 8885303386


*QADIR-UL-KALAM Monthly, Hyderabad (India)*

A Monthly Bilingual International Research & Refereed Journal

*ISSN: 3139-1028*

مزید مقالات موصول ہونے کے ساتھ یہ فہرست مسلسل اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence


 "A Critical Survey of Lady Chatterley's Lover by D. H. Lawrence" is a research article authored by Mohammed Nadeem Mohiuddin (Columnist, Hyderabad, India). This scholarly paper was published in the July 2026 Issue of the Qadir-ul-Kalam International Monthly Journal (ISSN: 3139-1028).

The article presents a comprehensive critical study of D. H. Lawrence's celebrated novel Lady Chatterley's Lover, examining its historical background, literary significance, major themes, characterization, symbolism, narrative technique, and critical reception. Readers are invited to explore this insightful research article below.

***

 Mohammed Nadeem Mohiuddin

Collomist, 

Lady Chatterley's Lover (1928) is one of the most controversial and critically acclaimed novels in twentieth-century English literature. Written by D. H. Lawrence during the final years of his life, the novel explores the intricate relationship between love, sexuality, industrialization, class consciousness, and human identity. While its explicit treatment of sexual intimacy resulted in censorship and legal prosecution for several decades, modern literary criticism recognizes it as a profound philosophical and psychological work rather than merely an "obscene" novel.

The purpose of this study is to present a critical survey of Lady Chatterley's Lover by examining its historical background, thematic concerns, narrative technique, characterization, symbolism, and literary significance. It also investigates the controversy surrounding the novel and its contribution to the evolution of modern English fiction. Through textual analysis and critical interpretation, the study argues that Lawrence's novel is fundamentally a defense of human dignity, emotional fulfillment, and natural relationships against the dehumanizing effects of industrial civilization.

Keywords: D. H. Lawrence, Lady Chatterley's Lover, Modern English Novel, Sexuality, Industrialization, Class Conflict, Censorship, Literary Criticism.

Tuesday, July 14, 2026

بشیر بدر کی شاعری میں انسان دوستی کا تصور


 فیضان احمد کیفی  (ریسرچ اسکالر؛جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی)

فیضان احمد کیفی (ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) کا ایک تحقیقی مقالہ ہے۔ اس مقالے میں معروف اردو شاعر بشیر بدر کی شاعری میں محبت، رواداری، امن، ہمدردی اور انسانی اقدار کے تصور کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں منتخب اشعار کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ بشیر بدر کی شاعری انسان دوستی، سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی شعور کی مؤثر ترجمان ہے۔)

"وہ دلوں میں آگ لگائے گا، میں دلوں کی آگ بجھاوں گا
اسے اپنے کام سے کام ہے، مجھے اپنے کام سے کام ہے"
مذکورہ شعر کے خالق جدید اردو غزل کے معتبر شاعر اور مشاعروں کی دنیا کے درخشندہ ستارہ بشیر بدرہیں۔ بشیر بدر نے اپنی شعری تخلیقات سے اردو ادب میں بیش قیمتی اضافہ کیا ہے اور اپنے دور کے مشاہیرِ ادب کو اپنی تخلیقات کی جانب التفات کرنے اور ان کے فکر و فن پررائے دینے پر مجبور کیا ہے۔ اسی لیے بشیر بدر کو محض "مشاعروں کا شاعر" کہہ کر یک قلم مسترد کر دینا اور ان کی تخلیقات کا سنجیدہ اور ناقدانہ مطالعہ نہ کرنا ادبی انصاف کے خلاف ہوگا۔
بشیر بدر کی شاعری میں محبت ،انسانی اقدار، مذہبی رواداری، امن و آشتی، رشتوں کی صداقت و اہمیت، انسانی حسیت، امید و حوصلہ جیسے عناصر نہایت خوبصورتی کے ساتھ نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری میں عشق و محبت کے خوش نما احساسات جس لطافت، فکری بالیدگی اور داخلی سچائی کے ساتھ جلوہ گرہیں، وہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کیے بغیر نہیں رہتے۔ ان کے اشعار کو پڑھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے بھی دوسرے بہت سے شاعروں کی طرح صرف عشق، محبت، گل و بلبل اور روایتی رومانوی موضوعات کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا ہے، لیکن ان کے کلام کا گہرا مطالعہ اس تاثر کو بدل دیتا ہے۔ بشیر بدر نے محبت کے نازک اور لطیف جذبات کو جس وسعتِ فکر، بلند انسانی شعور اور کشادہ قلبی کے ساتھ اپنے اشعار میں برتا ہے وہ ان کا خاص امتیاز ہے۔انہوں نے محبت، انسیت، الفت، مروّت اور خلوص جیسے احساسات کو صرف عشق و عاشقی کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ انسانیت کی بقا، امن و سکون ،باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کا وسیلہ بنایا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور انسانی رویہ بن کر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے نفرت کے مقابل محبت کا پیغام دیاہے۔ بغض و عناداور سماج میں مروج منافقت کے ماحول میں خلوص، اپنائیت اور مفاہمت کو اہمیت دی ہے۔ مذہبی منافرت کے دور میں رواداری اور انسان دوستی کی ترغیب دلائی ہے۔ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کے درمیان صلہ رحمی، تعلقات اور انسانی احساس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اسی طرح تصنع اورظاہری؎ شرافت کے برخلاف سچائی، سادگی اور خالص انسانی جذبات کی حمایت ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے۔

تحریک ِ آزادی ٔ ہند میں قومی یکجہتی

سعدیہ فاطمہ کا تحقیقی مضمون "تحریکِ آزادیِ ہند میں قومی یکجہتی" ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں قومی اتحاد، ہندو مسلم یکجہتی، رہنم...